پولیس اور اینٹی کرپشن میں ’’قانونی جنگ‘‘

15 فروری 2018

ڈی پی او احمد نواز چیمہ کی تعیناتی کے بعد دو چیزیں واضح تبدیلی کے ساتھ نظر آئیں ان میں ایک پولیس تھانوں میں اچھی شہرت کے حامل ایس ایچ او کے تبادلے اور دوسرا اس کے برعکس ڈکیتی کی وارداتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا کہ موٹرسائیکل ڈکیتوں نے شہر میں خوف و ہراس کی ایسی فضا پیدا کی کہ لوگوں نے اچھے اور نئے موٹر سائیکل بیچ کر پرانے موٹر سائیکل رکھنا شروع کردیئے پولیس کی اچھی شہرت کے حامل ایس ایچ اوز کی پراگرس زیرو ثابت ہوئی تو پولیس نے اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کی بجائے الٹا جرائم کا یہ اثر لیا کہ اپنے ظاہری اخلاق سے بھی ہاتھ دھو بیٹھی جرائم کی بڑھتی ہوئی رفتار اور پولیس کی گھبراہٹ میں بڑھتی ہوئی بد اخلاقی کو روکنے کیلئے ڈی پی او آفس کی جانب سے کوئی واضح پالیسی اور حکمت عملی نظر نہیں آئی بلکہ ڈی پی او احمد نواز چیمہ کے نرم رویے اور پولیس افسران حد سے زیادہ شفقت سے پیش آنے کا پولیس کی کالی بھیڑوں پر یہ اثر ہوا کہ ہر تھانے میں جرائم کو کنٹرول کرنے کی بجائے جرائم پیشہ افراد سے لین دین کرکے جرائم پیشہ افراد کو ریلیف دینے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ جس بیچارے کی موٹرسائیکل ڈکیتی ہوئی یا چوری ہوئی تو اس کی ایف آئی آر درج ہی نہیں کی گئی۔ جرائم کو کنٹرول کرنے کا انوکھا طریقہ ڈی جی خان پولیس نے یہ ایجاد کیا کہ واقعہ کی ایف آئی آر ہی درج نہ کی جائے۔ کرپشن اور رشوت کے بازار کو کم کرنے کیلئے سوئی ہوئی اینٹی کرپشن کی ٹیم جاگی تو پولیس کے خلاف ڈی پی او احمد نواز چیمہ کی تعیناتی کے بعد تین ریڈ کئے گئے پہلا ریڈ تھانہ جھوک اترا‘ دوسرا تھانہ سٹی اور تیسرا سب سے بڑا ریڈ تھانہ بی ڈویژن میں اے ایس آئی نادر کے خلاف کیا گیا۔ تینوں ریڈ کامیاب تھے جس میں مدعی کی درخواست پر سیشن جج صاحب کی طرف سے ایک ٹیم بنائی گئی جس کے سربراہ سپیشل مجسٹریٹ بنے اس میں نشان لگائے گئے نوٹ مدعی کو دئیے گئے جو کہ رشوت طلب کرنے والے افسر کو جاکر دے تو یہ ٹیم موقع پر چھاپہ مار کر اگر اسی افسر سے نشان لگائے گئے نوٹ برآمد کرلے تو یہ محکمہ اینٹی کرپشن کی جانب سے ایک کامیاب ریڈ قرار پاتا ہے اور محکمہ کی جانب سے اس اہلکار پر رشوت خوری کی ایف آئی آر کاٹی جاتی ہے۔ مگر افسوس صد افسوس کہ ڈی پی او احمد نواز چیمہ نے اس تیسرے محکمہ اینٹی کرپشن کی جانب سے کئے گئے ریڈ کو نہ مانتے ہوئے پولیس اہلکاروں کی بھرپور حمایت کی اور اس ریڈ کو غلط فہمی قرار دیا اور یہ بات انہوں نے اپنی ایک پریس کانفرنس میں کہی کہ اہلکار اس میں بے قصور ہیں اور یہ ایف آئی آر دو محکموں کی آپس کی غلط فہمی کی وجہ سے ہوئی بلکہ پولیس میں موجود کالی بھیڑوں کیخلاف کوئی کارراوئی نہ ہونے دی۔ بلکہ ان اہلکاروں کو قانونی تحفظ بھی فراہم کیا جارہا ہے جو کہ جرائم کو ختم کرنے کی بجائے رشوت خوری کا بازار گرم کرنے میں مصروف ہیں اور تھے۔ اے ایس آئی نے موقع پر سے بھاگ جانے سے یہ ثابت کیا کہ اس پر لگایا جانے والا الزام درست تھا اور وہاں پر موجود باقی تھانہ کے اہلکار بار بار یہ دہراتے رہے کہ یہ احکامات ڈی پی او کی جانب سے ہیں کہ جب کوئی ٹیم اینٹی کرپشن کی جانب سے کسی بھی تھانے میں کسی بھی اہلکار پر ریڈ کرے تو انہیں پکڑ کر باندھ دیا جائے اور ان کے خلاف کارسرکار مداخلت پر ایف آئی آر کی جائے۔ اس واقعہ میں ٹیم کے مطابق پورے تھانے کے اہلکاروں کا رویہ انتہائی نازیبا اور ان کے ساتھ اخلاق انتہائی گندا اور الفاظ انتہائی نامناسب استعمال کئے گئے۔ اور کچھ قیمتی دستاویزات بھی تھانے کے باقی اہلکاروں نے ان سے کھینچ لئے۔ جس پر تھانے کے سات اہلکاروں کے خلاف 9دفعات پر مشتمل ایک ایف آئی آر لانچ کی گئی اور اس ایف آئی آر کے لانچ ہونے کے باوجود بھی ان اہلکاروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی جو اہلکار پوری پولیس کو بدنام کرنے میں مصروف عمل ہیں اعلیٰ افسران صرف پولیس کو جھوٹی عزت اور انا کو قائم رکھنے کیلئے ان کو بچانے میں مصروف ہیں۔ حالانکہ اس واقعہ سے پولیس بری طرح پورے پنجاب میں بدنام ہوئی، ڈی جی انٹی کرپشن کی جانب سے آئی جی پنجاب کو تمام معاملات سے آگاہ کیا گیا، اس وقت پوری پولیس پارٹی مدعی پر پریشر بنائے ہوئے ہے کہ وہ مدعی مان جائے اور محکمہ اینٹی کرپشن سے اپنی درخواست واپس اٹھا لے تو محکمہ اینٹی کرپشن قانون سے مجبور ہوکر ان اہلکاروں کیخلاف کچھ نہ کر سکے گا ، تو کیا اس سے پولیس کی عزت بحال ہو جائے گی؟ کیا عوام کی آنکھوں پر جھوٹی پٹی باندھ کر پولیس پر عوام کے اعتماد کو بحال کیا جا سکے گا؟ مگر اس ابہام کے تحت شاید ایک اور ایف آئی آر سپیشل مجسٹریٹ اور اینٹی کرپشن محکمہ کی جانب سے سپیشل جج اینٹی کرپشن کی طرف سے کی جائے کہ قانون کے ناجائز استعمال کرنیوالی ان پولیس میں موجود کالی بھیڑوں کے خلاف کارروائی ضرور ہونی چاہیے۔