گڈگورننس کا انتظار

15 فروری 2018

زبان خلق تو ایک عرصے سے یہی کہتی نظر آ رہی ہے کہ ملک میں گڈگورننس نظر نہیں آتی جبکہ حکمران اپنے دعویٰ میں بضد ہیں کہ وہ گڈگورننس چلا رہے ہیں لیکن اب جب سے بعض معاملات پر عدالت عظمیٰ کے چیف نے نوٹس لینا شروع کر دیئے ہیں دکھائی دے رہا ہے کہ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔
عدالت عظمیٰ کے حکم پر حکمرانوں کی طرف سے عوام اور اپنے درمیان کھڑی کی گئیں رکاوٹیں بھی ختم کرائی جا رہی ہیں جبکہ عوام اور حکمرانوں کے دلوں کے درمیان تو کب سے ایک خلیج سی حائل نظر آتی ہے حکمران طبقہ صرف الیکشن کے دنوں منظر عام پر آتا ہے اور اس کے بعد وہ عوام کیلئے تو بالکل ہی نایاب ہو جاتا ہے ۔
حال ہی میں عدالت عظمیٰ نے پنجاب کے وزیراعلیٰ کو اس بات کی وضاحت کے لئے طلب کیا ہے کہ دریائے راوی میں لاکھوں گیلن گندا پانی ہمارے لئے صحت کے مسائل پیدا کر رہا ہے۔ اسی طرح بہت سے معاملات جن میں پولیس مقابلے بھی شامل ہیں ان کا بھی عدالت کی طرف سے از خود نوٹس لیا گیا ہے جس میں کئی بے گناہوں کے مارے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ عدالت عظمیٰ جس کام میں ہاتھ ڈالتی ہے اس پٹاری میں سے جانے کیا کیا سامنے آنے لگتا ہے۔ پارلیمنٹ کی حالیہ کارکردگی حکمرانوں کا طرز عمل اور سیاست دانوں کے ذاتی مفادات کے پیش نظر عوام کا ان عوامی اداروں سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے اور اب ان کی نظریں فوج اور عدلیہ کی طرف ہی لگی ہوئی ہیں یہی وجہ ہے کہ عدالتیں اب کرپشن کے معاملات اور اداروں کی ناقص کارکردگی کے حوالے سے مقدمات کی سماعت کر رہی ہیں اور اب تو چھٹی والے روز بھی عدالت لگا کر عوام کو دادرسی بہم پہنچانے کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ ایسے میں لگتا ہے کہ عدالتیں اداروں ‘ حکمرانوں اور عوام کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کر رہی ہیں حالانکہ یہ ساری ذمہ داری حکمرانوں‘ سیاستدانوں‘ عوامی نمائندوں اور اداروں کے کارپردازان کی ہے کہ وہ اپنی چال بے ڈھنگی کی روش کو تبدیل کریں۔ اپنے اداروںکی کارکردگی بہتر بنائیں۔ اور عوامی مسائل کے حل کیلئے خلوص نیت سے کام کریں۔ تخت لاہور کے دریائے راوی کا پانی ہی گدلا نہیں ہو رہا بلکہ جنوبی پنجاب سمیت بہت سے اضلاع میں پینے کا صاف پانی ہی مہیا نہیں ہے۔ چولستان سمیت بہت سے صحرا پانی کی بوند بوند کے لئے ترس رہے ہیں۔
ایک طرف اشرافیہ اور ایک خاص طبقے کے بیرون ملک ڈالر اکاؤنٹ اورجائیدادیں ہیں تو دوسری طرف اس ملک کے باسیوں پر ابھی تک حیات تنگ ہے روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ آج بھی یہاں کے لوگوں کے لئے دلکش اوردلفریب ہے۔
ملکی حالات کا جائزہ لیں تو کچھ بھی ترتیب میں نظر نہیں آتا۔ سیاسی جوڑ توڑ میں بیچارہ ووٹر حیران ہے۔ سابق وزیر داخلہ اپنی پٹاری سے آئے دن کچھ نہ کچھ نکالتے رہتے ہیں۔ وزیر خزانہ ابھی تک صاحب فراش ہیں۔ سینٹ الیکشن میں خرید و فروخت کے ساتھ ساتھ بولیاں لگائی اور بڑھائی جا رہی ہیں۔
حکومتی دعوؤں کے باوجود کسان ابھی تک دھرنے دے رہے ہیں۔ ینگ ڈاکٹر ہڑتالیں کر رہے ہیںاور چیف جسٹس نے ان کے سروس سٹرکچر کے کوائف طلب کئے ہیں۔ ضلعی حکومتیں کہنے کو تو فعال ہو گئی ہیں لیکن ان کے اختیارات برائے نام ہیں۔ دیہاتوں میں مسائل جوں کے توں ہیں اور عوامی نمائندے فنڈز نہ ملنے کا رونا رو رہے ہیں۔
حکومتی احکامات کے باوجود شہر میں بھانے جوں کے توں موجود ہیں۔ فوڈ اتھارٹی کے چھاپوں کے باوجود مردہ جانوروں کا گوشت کھلانے کی خبریں آئے روز اخبارات میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ قوانین کی موجودگی کے باوجود شہری اور رہائشی علاقوں میں کمرشل پلازے اصول و ضوابط کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔ ٹریفک کے مسائل روز بروز بڑھ رہے ہیں اور عوام کی جیبوں سے جرمانے وصول کرنے کی مہم زور شور سے جاری ہے۔ شناخت کے نام پر مختلف علاقوں میں ناکوں پر عوام کو ناکوں چنے چبوانے کا عمل بھی روز مرہ معاملات کا حصہ بن گیا ہے ان حالات میں عدالت عظمیٰ کس کس بات کا نوٹس لے اور کس کس چیز کو درست کرے۔ کچھ کام تو ہمارے اور ہمارے اداروں کے کرنے کے بھی ہیں۔ جنوبی پنجاب کے ضلع لودہراں میں ہونے والے ضمنی الیکشن میںریکارڈ ووٹوں اور وراثتی سیاست کے حواریوں نے بھی خبروں کو مزید گرما دیا ہے اب سینٹ الیکشن کے انعقاد کے بعد نگران حکومتی سیٹ اپ اور آنے والے انتخابات حالات کا کیا رخ دکھاتے ہیں اس کا اندازہ لگانا تو ابھی ممکن نہیں تاہم آنے والی نئی حکومت گڈگورننس کے دعوؤں پر کتنا پورا اترتی ہے اس کے لئے تو ہم اپنی نیک خواہشات کا اظہار ہی کر سکتے ہیں اورنئی حکومت کی نئی ترجیحات کا انتظار ہی کرسکتے ہیں بقول فیض احمد فیض
ابھی گرانی شب میں کمی نہیں آئی
نجات دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی