گلہ نہ ہو کہ پیغام سمجھایا اور پہنچایانہیں گیاتھا

15 فروری 2018

چھٹی کے دن اتوار کے لئے حویلی کو بطورخاص صاف کروایاجاتاہے ۔عمدہ طریقے سے فرشی نشست کابندوبست اورلنگرکانسبتا بہتر انتظام ہوتاہے کہ دوردراز سے عقیدت مند اور مہمانوںکی آمد کا سلسلہ شروع ہو جاتاہے ۔ سفید لباس، سفید ہی پگھڑی اور گرم چادر اوڑھے بابا جی اپنی مخصوص نشست پربراجمان ہر کسی سے مصافحہ فرماتے اور محبتیں بکھیر رہے تھے۔اس دن چہرے پر نور اور جلالیت بھی دیدنی تھی۔ لغت کے اعتبار سے ولائیت ولی سے مشتق ہے جس کے معنی قربت اور نزدیکی کے ہیں۔ بمطابق شریعت بندہ اپنے آپ کو یاد خدا میں فنا کرکے اللہ تعالی کی معیت میں قائم رہے۔ یہ مقام اس وقت حاصل ہوتا ہے جب بندہ عظمت باری تعالی اور اس کے مشاہدہ میں غرق ہو جاتا ہے۔حضرت سیدابوعلی جرجانی فرماتے ہیں کہ ولی وہ ہے جو اپنے حال سے بے خبر اور حق تعالی کے مشاہدہ میں باخبر ہو اور اللہ تعالی کے سوا اسے آرام و قرار نہ ہو۔ اللہ کے نیک بندوں اور بزرگوں کا دوسروں کو نصیحت کرنے کا انداز بھی نرالا ہوتاہے بہت بڑی بات اور عمل کو بھی بڑے احسن طریقے سے دوسروں کے ذہنوں میں نقش فرما دیتے ہیں۔ یکدم خاموشی ختم ہوتی ہے بابا جی فرمانے لگے ایک آد می کسی اللہ والے (ولی اللہ )کے پاس گیا اور عرض کیا ! حضور مجھے اللہ اللہ کرنے کا کوئی وظیفہ بتائیں ۔ بزرگ نے فرمایا جائو پہلے تم خدا کو اپنے جیسا سمجھو اور جب یہ کرلو تو پھر میرے پاس آنا ، میں تمہیں اگلا سبق دوں گا ۔ وہ شخص استغفارپڑھنے لگا اور کہنے لگا میں خدا کو اپنے جیسا( معاذ اللہ ) کیسے سمجھ سکتا ہوں وہ تو بہت عظیم ہے ۔ اس شخص نے کافی اصرار کیا مگر بزرگ نے یہی جواب دیا کہ پہلے اللہ کو اپنے جیسا سمجھو پھر آنا۔ جب وہ جانے لگا تو اللہ کے بندے نے اپنے درویشوں سے فرمایا کہ اسے روٹی وغیرہ پکا دو تاکہ راستہ میںبھوک لگنے پرکھالے ۔ لہذا درویشوں نے د و پراٹھے اور ایک مکئی کی روٹی اسے دیدی۔ بابا جی فرماتے ہیں کہ جب اللہ کے ولی برعطائے الہی کا وقت آتا ہے تو ساری کائنات ہتھیلی کی طرح اس کے سامنے ہوتی ہے۔ اس لئے اللہ کی عطاء سے ولی کامل کو پتہ چل گیا کہ وہ شخص اب راستہ میں کھانا کھانے لگا ہے ۔وہ اللہ والا خدا کی عطا سے فقیر کی شکل میں ادھر پہنچ گیا اور انتہائی عاجزی سے اس آدمی سے کہا ، بابو جی میں بھی بھوکا ہوں مجھے بھی اللہ کے نام پر کھانا کھلا دیں۔اس شخص کے نفس امارہ نے کہا کہ ابھی تو تمہیںخود بھوکے ہوں اسے کیوں دیتے ہو۔ لہذا اس نے فقیر سے کہا جائو اپنا کام کرو ، تیرے جیسے فقیر مسافروں کوکوکھانا بھی نہیں دیتے ۔ وہ شخص کھانا کھاتا رہا ۔ تھوڑی دیر بعد فقیرنے اللہ کے نام پر کھانے کا دوبارہ سوال کیالیکن وہ آدمی ناراض ہوا اور کھانا دینے سے انکار کیا ۔ وہ کھانا کھاتا رہا۔ دونوں پراٹھے کھالئے اور آخر پر جب مکئی کی روٹی کا تھوڑا سا ٹکڑا باقی رہ گیا جو اس سے کھایا نہیں جا رہا تھا تو کہنے لگا یہ لو تیرے جیسے’’ہٹے کٹے‘‘ مسافروں کو کھانا بھی نہیں کھانے دیتے۔ وقت گزر گیا ، کچھ عرصہ بعد دوبارہ وہ شخص اللہ کے ولی کے پاس حاضر ہوا ا ور عرض کیا کہ کوئی وظیفہ بتائیں بزرگ نے فرمایا کہ خدا کو اپنے جیسا سمجھ لو پھرآنا اس نے کہا’’جناب مذاق کیو ں کرتے ہو خدا تو عظیم و برتر ہے اسے اپنے برابر( معاذ اللہ ) کیسے سمجھا جا سکتا ہے ۔ اس پر ولی اللہ کو غصہ آگیا اور انہوںنے وہ روٹی کا ٹکڑا نکال کر فرمایا’’ یہ تو نے اللہ کو عظیم و برتر سمجھاہے ‘‘ اگر تم اللہ کو اپنے جیسا سمجھتے تو آدھا کھانا اس کے نام پر دے دیتے اور اپنے سے عظیم و برتر سمجھتے تو سارا کھانا اس مہربان ذات کے نام پر فقیر کے حوالے کردیتے۔ اس پر اُس شخص کو توحیدکے معاملے میں قول وفعل کی تضاد سمجھ آگئی ۔ بابا جی لوگوں کو غوروفکر کی دعوت دیتے ہوئے کہنے لگے کہ مسلمان کا دعوی تب کرنا چاہیے کہ جب آپ دل سے اللہ کے بند بن جائیں۔ باباجی نے کروٹ بدلی ۔ پوچھا کیا سب کو قہوہ پیش کردیا گیاہے ۔ تشفی پر پھر گویاہوئے کہنے لگے ایک اور بار ایک شخص کسی اللہ کے بندے سے پوچھنے لگے کہ مجھے اللہ اللہ کرنا سکھائیں۔انہوں نے فرمایا پہلے تم چار باتوں پر عمل کرو پھر میں تمہیں کوئی وظیفہ بتائوں گا۔ وہ باتیں یہ ہیں۔1 ۔ مرغ کی نیند سونا اور مرغ کی نیند جاگنا ۔ 2 ۔ کتے کی نیند نہ سونا اور نہ ہی جاگنا 3 - خدا نہ بن بیٹھنا ۔ 4۔ رسول ہونے کا دعوی بھی نہ کردینا ۔ وہ شخص کہنے لگے کہ جناب مجھے سمجھ نہیں آئی کیونکہ کوئی شخص ایسا کیسے کر سکتا ہے ۔ اس پر اللہ کے ولی نے فرمایا ،مرغ کی نیند سونے اور مرغ کی نیند جاگنے کا مطلب یہ ہے کہ مرغ اندھیرا چھا جانے پر خاموشی اختیار کر لیتا ہے ۔ اور آرام کرنے کے لیے اپنی جگہ چلا جاتا ہے اور جونہی پچھلا پہر ہوتا ہے ۔ جاگ اٹھتا ہے ۔ دوسر ے حصے کا یہ مطلب ہے کہ کتا آدھی رات تک ٹائوں ٹائوں کرتا رہتا ہے اور جونہی پچھلی رات کا وقت قریب آتا ہے اور خاموشی چھا جاتی ہے تو یہ سو جاتا ہے اور تیز دھوپ ہونے تک سویا رہتا ہے ۔ تیسری بات کا مطلب بتاتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ اگر تم یہ چاہو کہ جو میری چاہت و خواہش ہے ہر کام ویسا ہی ہو یعنی وہ پوری ہو تو یہ خوبی خدا پاک کی ہے کیونکہ پروگرام سچے اللہ تعالی کے ہیں ہوتا وہی ہے جو اسے منظور ہو ( یعنی انسان اپنی انا چھوڑ دے ) چوتھی بات کے بارے میں فرمایا اگر تم اس بات پر اصرار کرو کہ جو خیال اور میری بات ہے یہی سچی ہے تو سچی حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک ہے ان کے فرمودات و احادیث مبارکہ ہی سچی ہیں ۔ بابا جی کہنے لگے کہ رب تعالی ہمیں ان چار باتوں پر من و عن عمل کرنے کی توفیق عطا کرے اور ہماری عبادات قبول فرمائیں۔خدمت گاروں سے لنگر تقسیم کرنے کا حکم دیا ۔ تمام حاضرین نے سیر ہو کر لنگر کیا ۔ بابا جی کہنے لگے کہ آپ لوگ دور دراز سے آتے ہیںآپ نے جانا بھی ہو گا ۔ آخری بات سناتا ہوں ۔ پُرنم آنکھوں سے بابا جی فرمانے لگے کہ حضرت جنید بغدادی ؒ نے ایک غلام خریدا۔ انہوں نے اس سے پوچھا کیا نام ہے ؟ اس نے کہا حضور غلام کا کوئی نام نہیںہوتا۔ مالک جس نام سے چاہے پکارے۔ پھر آپ نے پوچھا کیا کھائو گے ۔ جواب دیا حضور غلام کی کوئی مرضی نہیں ہوتی جو مالک دے کھا لیتا ہوں۔ اس کے بعدآپ نے دریافت فرمایا
کہ تم کیا پہنو گے اس نے جواب دیا حضورمیں غلام ہوں میری کوئی خواہش نہیں۔ جو مالک کی مرضی ۔ میں اس پر راضی ۔ یہ سن کر آپ پر وجد طاری ہو گیا کہ جا ! میں نے تجھے آزاد کیا تو نے مجھے مبعودیت اور عبودیت کا مسئلہ سمجھا دیا ہے ۔ اشک بار آنکھوں سے بابا جی کہنے لگے کہ پیرتو سارے جہانوں کے صرف حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے اور ہم سب آپس میں پیر بھائی ہے ۔ مرید کی خواہش یہ ہونی چاہیے کہ اپنے پیر سے خدا حاصل کرنا ہے تو پھر اپنی جان ومالک بلکہ ہر چیز پیر کے لیے وقف کردیں اور پیر کا کام یہ ہو کہ مرید کو خدا دکھا دے اور اس تک پہنچا دے۔ یکدم جلالی انداز میں بابا جی بولے ، تصدق کدھر ہے ۔ مودب انداز میں کھڑے ہوکر عرض کیا جی بابا جی ۔ کہنے لگے میری ساری باتیں غور سے سن رہے تھے۔ عرض کیا جی بابا جی ! تو کہنے لگے یہ سب لوگوں تک پہنچا دو کہ گلہ نہ ہو کہ پیغام سمجھایا اور پہنچایا نہیں گیا تھا۔