پاکستان دشمنوں کے دانت کھٹے

15 فروری 2018

افغانستان ہمار ا وہ ہمسایہ ملک ہے جس کی ہمسائیگی ہمارے لئے گذشتہ کئی سالوں سے گلے کا طوق بن چکی ہے۔ اگرچہ پاکستان نے اس ہمسایہ ملک کا ہمیشہ چھوٹے بھائیوں کی طرح خیال کیا ۔ اس کی خوشی غمی میں برابر کا شریک رہا۔ اس ملک پر افتات آئی تو اس کے لاکھوں شہریوں کو پاکستان میں پناہ دی اس کے باوجود وہاں پردیسیوںکی پالسیسیوں نے ناصرف افغانستان بلکہ پاکستان کو بھی ذلیل و رسوا کردیاہے۔کابل میں پے درپے ہونے والے دھماکوں اور تخریبی کارروائیوں کے بعد امریکی انتظامیہ نے افغانستان میں اپنی حکمت عملی تبدیل کرلی ہے بلکہ طالبان سے مذاکرات ختم کرنے کا بھی اعلان کر دیا ہے ۔ان حملوں کو تاریخ کے سب سے مہلک اور بدترین حملے قرار دیاگیا جس میں حملہ آور نے ایک ایمبولینس کو استعمال کیا۔پہلے حملے کی ذمہ داری داعش نے جبکہ دوسرے حملے کی ذمہ داری امریکی مزاحمت کے خلاف برسرپیکار گروپ طالبان نے قبول کرلی ہے ۔طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا ہدف پولیس اور غیر ملکی تھے جبکہ کابل انتظامیہ کے مطابق اس حملے میں زیادہ تر عام آدمی جان بحق ہوے ٔ ہیں۔طالبان نے انتظامیہ کے اس دعوے کو مسترد کیاہے۔
کچھ تجزیہ نگارطالبان سے سے مذاکرات ختم کرنے کو اعلان کو ان جملوں سے جوڑنے کی بجاے ٔ ٹرمپ کی جنوبی ایشیاء کے لئے پالیسی کی عملداری کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔امریکی صدر ٹرمپ نے ان جملوں کے بعد کہا تھا کہ وہ طالبان سے مذاکرات نہیں کرنا چاہتے۔امریکہ کی طالبان سے مذاکارات نہ کرنے کی پالیسی ایسے وقت میں سامنے آرہی ہے کہ جب رواں ماہ کابل میں امن کیلئے ایک بڑی بٹھک ہونے جارہی ہے ۔ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائیندہ براے ٔ افغانستان تدامتی یاما تو کے مطابق فروری میں ہونے والے مذاکارات کیلئے اقوام
متحدہ کا مشن کابل حکومت کے ساتھ مذاکرات کیلئے راہ ہموار کررہاہے تاہم انھوں نے طالبان سے مذاکرات کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا ۔انھوں نے ایل عالمی ادارے سے گفتگو کرتے ہوے ٔ بڑے واضح اندزا میں کہا کہ حقیقی مذاکرات کے لئے باغیوں کی بات سنی جاے ٔ۔طالبان سے مذاکرات کیلئے افغان حکومت کے علاوہ ہمسایہ ممالک کوبھی اعتماد میں لیا جانا چاہئے جبکہ امن عمل میں خطے کے دیگر ممالک بشمول پاکستان بھی اس میں شریک ہوں گے۔تاہم یاماتو کے مطابق اگر طالبان سے مذاکرات کئے جاتے ہیں تو اس عمل کو خفیہ رکھا جانا ضروری ہے۔انھوں نے تسلیم کیا کہ افغانستان مں مذاکرات اور سیاسی حل کیلئے تمام فریقین کی شمولیت ضروری ہے ار اس کے لئے ہمسایہ ممالک بالخصوص پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔دوسری جانب افغان حکومت نے بھی امریکہ کی طالبان سے مذاکرات نہ کرنے کے اعلان پر اختلاف کیا ہے۔افغان صدر اشرف غنی کے مطابق جو طالبان دہشت گردی اور جرائم میں ملوث نہیں ان کو امن عمل میں ساتھ ملایا جاسکتاہے۔ اشرف غنی کے اس اعلان کی نیٹو نے بھی تائید کی ہے۔نیٹو کے سویلین نمائیندے نے نیٹو صدر کی جانب سے اشرف غنی سے ملاقات کرتے ہوے ٔ ان کی قیادت پر اعتماد کے ساتھ ساتھ کہا ہے کہ نیٹو صدر ان کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں اور کہا کہ نیٹو کے تمام رکن ممالک افغان عوام کی سرپرستی میں ہونے والے مذاکراتی عمل کی حمایت کرتے ہیں ۔ اسی طرح سے سابق افغان صدر حامد کرزئی نے ٹرمپ کی اس پالیسی کو مسترد کرتے ہوے ٔ کہا ہے کہ اس فیصلے کے بعد امن عمل سبوتاژ ہوجاے ٔ گا اور لڑائی طویل ہو جاے ٔ گی ۔حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ ہمیں امن کی ضرورت ہے اور مزید جنگ و جدل نہیں چاہتے۔میں سختی سے اس پالیسی کی مخالفت کرتاہوں کیونکہ اس سے لڑائی ختم ہونے کی بجاے ٔ جاری و ساری رہے گی۔امریکہ اس پالیسی کو مسترد کرنے باوجود پاکستان کے حوالہ سے موجودہ صدر اشرف غنی ، سابق صدر امریکی کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔پاکستان کو دباؤ میں رکھنے کی امریکی پالیسی پر افغان صدر ایک ہی موقف اختیار کئے ہوے ٔ ہیں۔ یہان یہ بات بھی قابل ذکر ہو گی کہ سابق صدر حامد کرزئی افغانستان میں داعش کو وسائل فراہم کرنے کے حوالے سے امریکہ پر الزامات لگاچکے ہیں اور کہہ چکے ہیں کہ انھیں اس پر کوئی شک نہیں ہے کہ امریکہ کے اڈوں سے داعش کو مکمل حمایت مل رہی ہے۔
امریکہ نے حامد کرزئی کے ان الزامات کے جواب میں طویل خاموشی کے بعد ایکل عام بیان میں تردید کی جس میں اعتماد کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔اگر داعش یا دولت اسلامیہ کی تشکیل کو دیکھا جاے ٔ تو اشارے امریکہ کی طرف ہی جاتے نظرآتے ہیں ۔داعش کا نشانہ زیادہ تر طالبان ہیں جو امریکہ کے دشمن ہیں یا پھر سرحد سے دوسری طرف پاکستانی چیک پوسٹیں ہیں البتہ افغان عوام کی بڑی تعداد بھی ان کا نشانہ بن چکی ہے۔ ان حملوں میں دو چیزیں واضح نظر آتی ہیں۔ اول طالبان جو گزشتہ سترہ سالوں میں امریکہ اور اس کے اتحادویوں کیلئے ناقابل شکست رہے ان کو کمزور کرنے کے لئے مختلف حربے استعمال کررہی ہے۔دوم افغان عوام کو نشانہ بنا کر طالبان کی اسلامی تحریک کے خلاف عالمی سطح پر ماحول بنایاجارہاہے جس کے پیچھے اسلامی تحریکوں پر دہشت گردی کے الزام کو سچا ثابت کرنا اور افغانستان میں دہشت گردی کا ماحول بناکر امریکی و اتحادی افواج کے لئے مزید قیام کا ماحول پیدا کرنا ہے۔اس وقت بڑے سامنے کی بات ہے کہ امریکہ افغانستان اور بھارت اتفاق کرچکے ہیں کہ واقعہ کیسا بھی ہو اس کا فوری الزام پاکستان پر لگانا ضروری پے جس کا عملی مظاہرہ ہمیں مسلسل دیکھنے کومل رہاہے ۔گذشتہ ستر ہ سالہ جنگ میں امریکہ اور اتحادی (جن میں دنیا کا سب سے بڑا فوجی اتحاد نیٹو بھی شامل ہے)افغانستان کی جنگ جیتنے میں ناکام رہے۔اس دوران امریکہ ایک کھرب سے زائد ڈالر خرچ کرنے اور تین ہزار کے قریب فوجیوں کی قربانی کے باوجود کسی قسم کی کامیابی کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ پردیسیوں کی اس دیسی ملک میں اپنی پالیسیوں کا مسلسل نشانہ صرف پاکستان کو بنایا جارہاہے۔پاکستان نے افغانستان کی بھلائی اور امریکہ کے ساتھ تعاون انتہا پر جاکر کیا لیکن افسوس یہ تمام منفی پالیسیوں کو صرف پاکستان پر لاگو کر کے اسے رسو ا کیاجارہاہے ۔ پاکستان ایک محبت کرنے والا پرامن ملک ہے ۔اس ملک میں سی پیک منصوبہ ملک و قوم کی تقدیر بدل دے گا اور یہی وہ تعمیر و ترقی ہے جو افغانستان میں برسرپیکار ملکوں کو کھٹک رہی ہے لیکن انشا اللہ پاکستان کی اپنی مثبت پالیسیاں ایک دن ان تمام پاکستان دشمن ملکوں پر آشکار ہوں گی اور جنوبی ایشیا ترقی میں سب کو پیچھے چھوڑ جاے ٔ گا