مسئلہ ہے قانون کی بالادستی کا…!!

15 فروری 2018

12فروری کی رات گئے لودھراںکے ضمنی الیکشن نتائج سے سب کے سب آگاہ ہو چکے تھے۔ مسلم لیگ ن کے پیر اقبال شاہ نے 27609 ووٹوں سے شکست دی۔ منگل کی صبح نوائے وقت دیکھا شہ سرخی پڑھی دل باغ باغ ہو گیا۔ لگتا تھا کہ میرے الفاظ کسی نے چوری کر لئے ہیں وہ شہ سرخی کیا بلکہ شہ پارہ تھی ’’مسلم لیگ ن نے پی ٹی آئی سے نشست چھین لی‘‘ این اے 154 کی یہ نشست پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین کے نااہل ہونے کے سبب خالی ہوئی تھی۔ یہاں سے تحریک انصاف نے ترین کے صاحبزادے علی ترین کو اپنا امیدوار بنایا دوسری طرف مسلم لیگ ن نے عام سے کارکن پیر اقبال کو میدان میں اتارا۔ جہانگیر ترین کا پیسہ‘ اثر و رسوخ اور عمران خان کا آخری جلسہ بھی کام نہ آ سکا ، لوگوں نے محبتوں‘ عقیدتوں اور الفتوں کے ٹوکرے نواز شریف کے سر پر رکھ دئیے۔ پرسوں پنجاب ہاؤس میں لیگی احباب سے گفتگو میں میاں محمد نواز شریف نے درست کہا کہ وہ اہل لودھراں کی محبتوں کے مقروض ہو گئے ۔ ان شاء اﷲ خود شکریہ ادا کرنے لودھراں جائیں گے۔خیال تھا کہ این اے 154 پر مزید خیالات کی طبع آزمائی کروں گا مگر ہمیں عاصمہ جہانگیر کی بابت کچھ کہنا ہے ۔ پرسوں انہیں ان کی وصیت کے مطابق بیدیاں میں ان کے فارم ہاؤس میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ ’’خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں‘‘ عاصمہ جہانگیر سے لاکھ اختلاف کر لیں مگر ان کی جمہوریت اور قانون کی بالادستی کے لئے کوششوں پر سب کا اتفاق ہے۔ نڈر‘ بہادر اور دلیر خاتون نے جس طرح اپنی زندگی رول آف لا کے لئے وقف کی وہ ہماری سنہری تاریخ کا حصہ ہے۔ عاصمہ جہانگیر نے کبھی خود کو سمجھوتہ سیاست کی نذر نہیں کیا۔ اگر وہ ایسا کرتیں تو وہ آج بلند ترین منصب پر فائز ہوتیں۔ وہ تمام عمر لوگوں کے لئے لڑتی رہیں۔ عاصمہ جہانگیر کی اس عوامی خدمت نے انہیں عزت و تکریم کے جس درجے پر فائز کیا ہوا تھا اس تک پہنچنے کے لئے طویل مسافت کی ضرورت پڑتی ہے۔ صدر مملکت ‘ چیف جسٹس اور وزیراعظم سے لے کر عام آدمی تک سب نے دلیر خاتون کی جدائی کو دکھی دل سے سنا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے خاتون وکیل کو جس انداز سے خراج تحسین پیش کیا اس سے اندازہ لگانا آسان ہے کہ عاصمہ جہانگیر نے ہر فورم پر مسلمانوں کی ترجمانی کی ہے۔ انہیں قانون کی بالادستی کے لئے بے خوف اظہار خیال کرتے دیکھا گیا وہ جب بھی بولیں خوب بولیں۔ راولپنڈی اسلام آباد کی تاجر برادری نے بھی عاصمہ جہانگیر کی رحلت کو قومی نقصان قرار دیا ہے۔ ماضی میں تقریبات کے دوران دوستوں اور احباب کی طرف سے عاصمہ جہانگیر کے خیالات کو زبردست پذیرائی ملتے دیکھا گیا دوستوں کا خیال تھا کہ جس طرح یہ خاتون جمہوریت ، قانون اور مساوات کی وکالت کرتی ہیں اگر وکالت اور سیاست سے منسلک سارے لوگ اس طرح کا رویہ رکھیں تو یہاں جمہوریت کا سلسلہ کبھی نہ رک سکے کاش عاصمہ جہانگیر کا یہ خواب پورا ہو جائے۔
کچھ کشمیر کاز کے بارے میں
اس برس بھی بھارتی یوم جمہوریہ پر بھی کشمیری انہی مصائب سے گزرے لیکن وہ اپنا حق مانگنے سے باز نہیں آئے اور اس بار اس دن پر انہوں نے پورے زور و شور سے احتجاج کیا اور دنیا کو یاد دلانے کی کوشش کی کہ آج کی اس مہذب دنیا میں ایک قوم ایک دوسری قوم کی غلام ہے اور اس کے ہاتھوں روز نہ صرف اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھاتی ہے بلکہ اپنی نسلوں کو معذور ہوتے دیکھتی ہے پیلٹ گنوں سے نکلنے والی گولیوں سے صحتمند پیدا ہونے والوں کو اندھا ہوتے ہوئے دیکھتی ہے اپنی پاکیزہ بیٹیوں کی بے عصمتی کا دکھ دیکھتی ہے وہ کشمیری اپنے یہ سارے دکھ لے کر بلجئیم کے دارلحکومت بر سلز میں بھارتی سفارت خانے کے سامنے پہنچے اور زبردست احتجاج کیا یورپ میں بسنے والے یہ کشمیری اپنے وطن سے دور ہیں لیکن خطہء کشمیر پر برسنے والی آگ ظاہر ہے انہیں چین نہیں لینے دیتی اور وطن سے دوریہ کشمیری اپنوں کا درد نہ دیکھ سکتے ہیں نہ برداشت کر سکتے ہیں لہٰذا یہ احتجاج کرنے پر مجبور ہوئے یورپی کشمیر کونسل کے زیر اہتمام اس مظاہرے میں پاکستانیوں کشمیریوں، انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں اور صحافیوں نے شرکت کی جنہوں نے کشمیر میں ہونے والے مظالم کے خلاف بینرز،پلے کارڈز اور تصاویر اٹھا کر دنیا کا ضمیر اور احساس جگانے کی کوشش کی اور یورپی یونین، اقوام متحدہ اور دوسرے عالمی اداروں سے اس مسئلے پر سنجیدگی دکھانے کا مطالبہ کیا۔ مقررین نے کشمیر میں ہونے والے مظالم کی پر زور مذمت کی اس مظاہرے کو یورپ میں وسیع پیمانے پر میڈیا کو ریج دی گئی ۔ کشمیریوں نے بھارت کے یوم جمہوریہ پر لندن میں بھی احتجاج کیا جسے ہیومن رائٹس واچ اور کشمیر گلوبل کونسل نے منعقد کیا جس میں خاص طور پر تیار کی گئی ڈیجیٹل گاڑیاں لائی گئیں جن پر کشمیر کی آزادی کے مطالبات درج تھے۔ منتظمین کے مطابق بھارت اور ’’را‘‘نے ان گاڑیوں کو روکنے کی ہر ممکن مدد کی اور بھارت کے حمایتی بھی میدان میں آئے اور یوں ایک پر امن مظاہرہ بھی بھارت برداشت نہ کر سکا۔بھارت جو مرضی کر لے اسے یاد رکھنا چاہئے کشمیر نہ کل اس کا تھا نہ آج کشمیری اس کے حامی ہیں ۔