جمہوریت اور سیاسی تسلسل

15 فروری 2018

بلاشبہ سیاسی طور پر غیر مستحکم ملک کے لیے ترقی کی منازل طے کرنا آسان خیال کیا جاتا ہے کسی بھی ملک میں جمہوری تسلسل ملک کے آنے والے وقتوں میں فیصلہ سازی کے کام میں مدد دیتا ہے شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ بد سے بدتر جمہوریت بھی آمریت سے بہتر ہے جمہوری ملک کے کلیدی فیصلوں کا اختیار عوام کے پاس ہوتا ہے جو اپنے منتخب کردہ نمائندوں کے ذریعے فیصلے کرتے ہیں یمن کی جنگ میں شمولیت کا فیصلہ ہو یا فاٹا اور کے پی کے کے انضمام کا فیصلہ ہو پاکستانی پارلیمنٹ نے عوامی امنگوں کی صحیح انداز میں ترجمانی کرتے ہوئے گزشتہ سالوں میں قومی مفاد میں بہترین فیصلے کیے۔پاکستان اپنی آزادی کے بعد سے اس گو مگو کا شکار رہا ہے کہ آخر کار ملک میں کونسا ادارہ سپریم ہے اور جسکے فیصلوں کو قانونی حیثیت حاصل ہے گزشتہ دنوں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے ریمارکس کہ '' پارلیمنٹ سب سے سپریم ہے'' صاف ظاہر کرتی ہے کہ فیصلہ سازی کا اختیار صرف اور صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے جس میں موجود ہر نمائندہ اپنے علاقے کی عوام کے ووٹوں کی طاقت سے منتخب ہو کر آتا ہے بلاشبہ داخلی اور خارجی پالیسی کا اختیار پارلیمنٹ کا حق ہے جہاں ہر فیصلہ جمہوری طور پر کیا جاتا ہے اس ضمن میں اقوامِ متحدہ کی مثال بھی لی جا سکتی ہے جہاں ووٹنگ کے ذریعے ہی حتمی فیصلے کرائے جاتے ہیں۔ کسی بھی ملک میں شخصی یا خاندانی حکومت اُس ملک کا چہرہ مسخ کر دیتی ہے لبیائ، شام اور عراق کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جو انقلاب کی آڑ میں خانہ جنگی کا شکار ہو جاتے ہیں اور اپنے بہترین جغرافیائی نقشے اور قدرتی وسائل کے ہوتے ہوئے بھی اپنے روشن مستقبل سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ایسے ملک صرف لوٹ مار اور پراکسی وارز کے لیے قابلِ عمل رہ جاتے ہیں یقینا پاکستان میں حالات اِن ممالک سے بہت زیادہ بہتر ہیں جہاں اِسکی مسلح افواج، آزاد عدلیہ اور فیصلہ سازی کرنے والے سول ادارے ایک روشن مستقبل کے لیے بہترین کام کر رہے ہیں ضرورت صرف اِسی امر کی ہے کہ فیصلہ سازی کے عمل کو تیز کیا جائے کیونکہ اِس ٹیکنالوجیکل دنیا کی تیزی سے ترقی سے پاکستان کسی صورت پیچھے نہیں رہ سکتا اختلافِ رائے رکھنا ہی جمہوریت کا حسن ہے مگر اِسے سول ملٹری تناو کا رنگ دینا کسی طور پر بھی درست نہیں جمہوری تسلسل برقرار رکھنے کے لیے سول ملٹری کا اہم قومی اور حساس ایشوز پر ایک پیج پر ہونا بہت ضروری ہے جو صرف بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے نائن الیون جیسے واقعے کے بعد بھی اگر سول ملٹری مشترکہ فیصلہ کیا جاتا تو شاید آج پاکستان بھارت کی طرح بہتر جگہ پر کھڑا ہوتا۔دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک میں جمہوریت کا عنصر نمایاں ہے بھارت جیسے ترقی پذیر ملک میں بھی تمام تر برائیوں کے باوجود فیصلہ سازی کا اختیار پارلیمنٹ کو حاصل ہے ایسے فیصلے ہی طاقت رکھتے ہیں اس لیے پاکستان میں بھی اب اس گفتگو کو بند ہونا چاہیے کہ کہ کونسا ادارہ سپریم ہے اور فیصلہ سازی کا اختیار رکھتا ہے۔ اندرین ضمن ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان نسل کو جمہوریت اور اسکے فوائد کے متعلق بتایا جائے کیونکہ کل کو اسی نسل نے مستقبل کے چیلنجز کا سامنا کرنا ہے۔ پاکستان میں سب سے مقبول ادارہ فوج کا ہے جس پر عوام سب سے زیادہ اعتماد کرتے ہیں پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا یہ بیان کہ ''پاک فوج پاکستان میں جمہوری عمل کی حمایت کرتی ہے'' یہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ بیشک دیر سے مگر اب پاکستانی پالیس میکرز کی سوچ میں تبدیلی آرہی ہے جو ملک کے مستقبل کے لیے نہایت ہی خوش آئند ہے۔ 2008 کے بعد سے جس طرح پاک فوج نے سول اداروں کو اعتماد مہیا کیا ہے اِسے پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی قرار دینا غلط نہ ہو گالیکن بات ابھی ختم نہیں ہوئی جو سفر پاکستان نے 2008 میں شروع کیا ہے اُسکی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ تمام مقتدر ادارے اور عوام اب یہ فیصلہ کریں کہ پاکستان کا روشن مستقبل جمہوریت اور سیاسی تسلسل سے ہی وابستہ ہے۔