انا پرستی اورخود پسندی

15 فروری 2018

میری نظر میں انا پرستی اور خود پسندی ایک ایسی بیماری کا نام ہے جس کا مقصد اپنی ہی ذات کے گرد گھومنا ہے ،ایسے لوگ اپنی غلط دلیلوں اور جھوٹی باتوں سے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ جو کررہے ہیں وہ ہی عمل درست ہے اور باقی سب غلط ہے ،
دراصل ایسے ہی لوگ اس بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں ،اس وقت نوازشریف جس نئے عدل اور جمہوریت کی بات کررہے ہیں وہ بھی ایک ایسی ہی سوفسطانیت اور فاش از م ہے جو صرف اپنی ہی زات کے ماتحت اقتدار کا تانہ بانہ بنتاہے جس میں مخالفین کا سر کچل دیا جاتاہے، مگر یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں تمام تر خرابیوں کے باوجود امید کی ایک کرن موجود ہے ان سب بربادیوں کے باوجود سوائے شریف خاندان کے باقی اس ملک میں فاش ازم کے کوئی آثار نہیں ہیں، جس کو پھیلانے میں شریف خاندان نے کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے، وقت بدل رہاہے لوگ اپنے اچھے اور برے کی پہچان کرسکتے ہیں اور خصوصا ً جو عمل شریف خاندان کی جانب سے کیا جارہاہے آج لوگ اس کی ممانعت کررہے ہیں، یقینا ان عناصر سے خود بچنے اور دوسروں کو بچانے کی ضرورت ہے ۔شریف خاندان کی یہ کوشش ہے کہ آئندہ الیکشن جیت کرکسی نہ کسی طریقے سے آئین کو بدل دیا جائے یا پھر عدالت پر دبائو ڈال کرنوازشریف کے خلاف آنے والے فیصلے کو ہی بدل دیا جائے یعنی جو تاحیات نااہلی کی پابندی نوازشریف پر لگائی گئی ہے وہ ساری عمر کے لیے نہیںہے بلکہ ایک چھوٹے سے اورمحدود وقت کے لیے ہے ،سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سارے چکر وزیراعظم بننے کے لیے چلا ئے جارہے ہیں ؟ یا پھر ملکی خوشحالی کے لیے اداروں کی تضحیک کی جارہی ہے ؟یہ باور کروایا جارہاہے کہ اس ملک میں صرف ایک ہی آدمی ہے جو پاکستان کی تقدیر کو بدل سکتاہے اور وہ ہیں نوازشریف ؟ ۔ سوال یہ ہے کہ مسلم لیگ نواز کا کوئی ایسا کارنامہ ہے جسے پڑھ کر یا دیکھ کر یہ کہا جاسکے کہ نوازشریف کو ہی اس ملک کا تاحیات وزیراعظم بنادیا جائے؟ ۔شریف خاندان نے اس ملک کی عوام کو کیا دیا،انہیں روزگاردیا؟ کیا انہیں وہ انہیں تعلیمی سہولیات مل سکیں جو ان کے مدح سرائوں کے بچوں کو مل رہی ہیں؟کیا سرکاری اسکولوں میں وہ معیار ہے جسے دیکھ کر حکومتی اقدامات کو سراہا جاسکے ؟، کیاغریب اور دکھوں میں ڈوبی قوم کا سرکاری ہسپتالوں میں علاج ہورہاہے کیا جان بچانے والی مہنگی ادویات خریدنا اس ملک کے عوام کے بس کی بات ہے ؟کیا اس ملک میں ایک پڑھا لکھا نوجوان اس قابل ہے کہ وہ اپنی قابلیت کے بل بوتے پر نوکری حاصل کرسکے ؟۔ ان میں سے ایک بھی اس ملک کے عوام کو میسر نہیں ہے جبکہ بہت سے انسانی دکھ ایسے بھی ہیںجن کا براہ راست تعلق عوام کے ساتھ ہے اور جو کام حکومت کے کرنے کے ہیں اس میں چاہے انصاف کا معاملہ ہو یا پھر پولیس سمیت دیگر محکموں کا سب کے سب عوام کی عزت نفس کے لٹیرے ہیں ایک بھی محکمہ ایسا نہیں ہے جس میں غریب کسانوں مزدورں حتی ٰ کہ بھکاریوں سے رشوت طلب نہ کی جاتی ہو ۔ گو کہ ثابت ہوا کہ ایک بار پھر سے وزیراعظم بننے کا شوق اس ملک کی تقدیر سنوارنے کیلئے نہیں ہے بلکہ ایک بار پھر سے وزیراعظم بننے کیلئے ہے ۔مگر بدقسمتی یہ ہے کہ نواشریف نے اپنے ارد گرد ایسے نادان اور کرپٹ لوگوں کا ٹولہ اکٹھاکررکھا ہے ،جو شاید فاشزم میں شریفوں سے بھی کہیں آگے جاچکے ہیں جواقتدار کے لالچ میں شریف خاندان کو اداروں سے ٹکرانے کا درس دے رہے ہیں،اور اس پر نوازشریف نے کرپشن کی مکمل اجازت دیکر اس ملک کے عوام پر جواحسان عظیم کیا ہے اسے بھی قوم رہتی دنیا تک یاد رکھے گی ، ۔ کل تک تحریک انصاف کے رہنما عمران خان پر یہ کمپین چلائی جاتی رہی ہے کہ وہ صرف اور صرف وزیراعظم بننے کے خواہاں ہیں ۔ جبکہ آج نوازشریف نے جب دیکھا کہ پاکستان کی سیاست سے ان کا کورم پورا ہوچکاہے توانہوں نے آزاد کشمیر میں جاکر عوام کے سامنے رونا دھونا شروع کردیا جہاں پھر سے اپنے وزیراعظم بننے کی خواہش کا اظہار کیا گیا میاں صاحب نے اپنی دوران تقریر کہا کہ وہ اب پاکستان سے فارغ ہوچکے ہیں ۔ اب اس جملے کو دو طرح سے لیا جاسکتا ہے کہ جیسے انہوںنے پاکستان میں دودھ کی نہریں بہادی ہیں ہرطرف خوشحالی ہی خوشحالی ہے لہٰذا اب میرا اگلہ ٹارگٹ آزاد کشمیر ہے جہاں سے وہ وزیراعظم بن کر پاکستان کی طرح ہر طرف خوشحالی کے ڈیرے ڈال دینگے، مگر ان سے کوئی پوچھے کہ وہ پاکستان سے فارغ ہوئے ہیں یا انہیں کرپشن کے بے شمار اسیکنڈلز کی بنیاد پر جبری فارغ کیا گیا ہے۔کیا اس ملک کے عوام اس بات کو نہیں سمجھ سکتے کہ جس شخص کوپاکستان کا تین مرتبہ وزیراعظم بننے کا شرف حاصل ہوچکاہواور وہ اپنے تینوں ادوار میں ایک بھی کام ایسا نہ کرسکا ہوں جو پاکستان اور اس کے عوام کے لیے فائدہ مند ہو ، اور ایسے آدمی کو پھر سے ملک کی ڈوبتی کشتی کا پتو ار تھمادیا جائے ؟کوئی بتائے کہ شریف خاندان کو ملنے والے تینوں ادوار میں ملک سے غربت کا خاتمہ ہوا،کیا مہنگائی اور بے روزگاری سے اس عوام کی جان چھٹ سکی ہے ؟کوئی بتائے اس ملک میں گزشتہ کئی سالوں سے جاری بدامنی اور لوٹ مار میں کا ذمہ دار کون ہے ؟۔سادہ سی بات ہے یا تو اس ملک کو تباہ کرنے میں اس ملک کے حکمرانوں کا ہاتھ ہے یا پھر اس ملک کی عوام نے خود ہی اپنے نشیمن کو آگ لگائی ہے ۔