گھریلو ملازمین کے حقوق

15 فروری 2010
مکرمی! ہمارے معاشرے کا یہ المیہ ہے کہ یہاں لوگ احساس برتری میں مبتلا ہیں لوگ ایک دوسرے کے حقوق چھین کر ان پر حکمرانی کرنے پر لگے ہوئے ہیں ہم لوگ مساوات‘ انصاف‘ اخوت اور اسلام کے دیگر بنیادی اصولوں کو بھول کر دنیاوی اصولوں پر زندگی گزار رہے ہیں۔ جہاں کسی کو کسی کی پروا نہیں ہے۔ آج کے دور میں معاشرہ غربت و افلاس‘ بے روزگاری اور بے پناہ معاشی مشکلات کا شکار ہے۔ اور جو لوگ صاحب حیثیت ہیں وہ غریب عوام کے حقوق کو مجروح کرتے ہیں زندگی کے ہر شعبے میں امراءغریب لوگوں پر حکمرانی کے ساتھ ان کے حقوق کی پرواہ نہیں کرتے۔ اکثر و بیشتر غریب گھرانوں کے بچوں کو مجبوری کے تحت امیر گھرانوں میں بگار پر رکھوا دیتے ہیں اور ان بچوں کے ساتھ اکثر مالکان جانوروں جیسا سلوک کرتے ہیں ایسا اکثر بچوں کے ساتھ ہی ہوتا ہے کیونکہ یہ معصوم بچے کسی سے شکایت نہیں کر سکتے ان کے والدین ان کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں اور یہ بچے تشدد کا نشانہ بن جاتے ہیں اور اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ غریب عوام کے پاس جب زندگی کی بنیادی ضروریات پورا کرنے کے لئے کوئی ذریعہ نہ ہو تو وہ بچوں سے جبری مشقت کرواتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے بہت سے کیسز ہیں جن میں بچوں پر ناحق تشدد کیا جاتا ہے۔ میڈیا پر ان کو نمایاں تو کیا جاتا ہے مگر اس میں ملوث مجرموں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جاتا۔ اس وجہ تسے یہ حادثات بڑھتے جا رہے ہیں حکومت کو چاہئے کہ وہ گھریلو ملازمین کے حقوق کے لئے بہتر حکمت عملی تیار کریں تاکہ ملازموں کے حقوق کے لئے تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کو چاہئے کہ وہ احتجاجی ریلیاں نکالنے کے علاوہ اس ضمن میں ٹھوس اقدامات کرے تاکہ قانون شکنی کے مرتکب افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جا سکے۔
(امبر نذیر لاہور (کینٹ)