کیا بسنت پھر منائی جائے گی؟

15 فروری 2010
مکرمی! دوسرے ملکوں مےں ثقافتی تہوار خوشی کے لئے منائے جاتے ہےں لےکن پاکستان مےں شاےد اےک ہی ثقافتی تہوار مناےا جاتا ہے جس مےں اب خوشی کے عنصر سے زےادہ غم اور نقصان کا عنصر نماےاں ہوگےا ہے ہر سال لاہور مےں بسنت کے موقع پر ملک کے دوسرے شہروں سے لوگ اکثر جمع ہوجاتے ہےں بسنت کی دعوتےں ہوتی ہےں اور آسمان پتنگوں سے بھرجاتا ہے لےکن بسنت کے اگلے روز ےہ خبرےں بھی شائع ہوتی ہےں کہ لاہور مےں کتنے لوگ پتنگ بازی اور کٹی ہوئی پتنگےں لوٹنے کے دوران اپنی انمول زندگی گنوا بےٹھتے اور کتنے زخمی ہوگئے پتنگوں کی وجہ سے بجلی کے نظام مےں مزےد کتنی خرابی پےدا ہوئی اس کے علاوہ پتنگ بازی کے لئے کےمےکل اور دھاتی ڈور کا استعمال بڑھ جانے سے پتنگ با زی مزےد ہلاکت خےز شوق بن گئی ہے لاہور مےں بسنت کے موقع پر پتنگ بازی روکنا تو شاےد ممکن نہےں ہوگا لےکن اگر لاہور مےں کوئی پتنگ بازوں اور پتنگ سازوں کی کوئی اےسوسی اےشن ہے تو اسے چاہئے کہ وہ پتنگ بازی کے اصول مرتب کرے اور لاہور کے شہرےوں کو ان اصولوں کا پابند بنانے کی کوشش کرے تاکہ پتنگ سازی کی وجہ سے ہونے والی جانی اور مالی نقصان سے بچا جاسکے۔
سحرش امتےاز ملک شعبہ ابلاغےات گورنمنٹ فاطمہ جناح کالج چونا منڈی لاہور