عوام کے حکمران

15 فروری 2010
مکرمی! آج کل جب کچھ اس طرح کی خبر سامنے آتی ہے تو بے اختےار ےہ الفاظ زبان سے نکلتے ہےں کہ ےہ کونسی نئی بات ہے اب خود ہی دےکھئے غربت بےروزگاری مہنگائی توانائی کا بحران کرپشن لوٹ مار اقربا پروری حکمرانوں کے عوامی مسائل سے بے اعتنائی اور اےسی ہی ان گنت مشکلات نے پہلے سے کہےں زےادہ ہمارے ملک کو گھےر رکھا ہے ہمارے حکمرانوں کا آج بھی وہی بےان ہے کہ امن محبت انصاف روٹی کپڑا روزگار ترقےاں خوشحالی حقےقت تو ےہ ہے کہ ےہ صرف انتخابی وعدے ہی بن کر رہ گئے ہےں مبصرےن کے مطابق جمہورےت کے پروان چڑھنے مےں اےک بڑی رکاوٹ سرماےہ دارانہ جاگےردارانہ نظام بھی ہے اور ان کی اےک کثےر تعداد آج بھی اےوانوں مےں بےٹھی نظرآتی ہے بات کرتے ہےں کچھ مظلوم عوام کی تو ہمارے سےاست دان آج بھی پروےز مشرف کو ہی قصور وار ٹھہراتے نظرآتے ہےں کچھ ےاد ہواگر تو جب پروےز مشرف نے حکومت سنبھالی تھی تو آٹا 10روپے کلو اور چےنی 16 روپے کلو تھی نو سال بعد جب انہوں نے حکومت چھوڑی تو آٹا 16 روپے اور چےنی 26 روپے کلو تھی۔ آنے والی نئی جمہوری حکومت کے صرف 2 سال گزرنے کے بعد آٹا 16 سے 32 روپے کلو اور چےنی 26ّ روپے سے 70 روپے تک پہنچ گئی بجلی کی لوڈ شےڈنگ 2 چار گھنٹوں سے 12 گھنٹوں تک جا پہنچی۔ ہمارے حکمران ان مسائل کو کم کرنا تو دور کی بات دو سال گزرنے کے بعد کنٹرول بھی نہےں کر پائے جبکہ حکمران پر مسئلے اور بحران کا الزام آسانی سے سابقہ حکومت ےہ لگا کر عوام کے سامنے خود کو مظلوم اور سابقہ حکمرانوں کو ظالم ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے نظرآتے ہےں جبکہ ہماری اپوزےشن کو بھی عوامی مسائل مےں کوئی خاص دلچسپی نہےں بلکہ انہےں اگر دلچسپی ہے تو سترھوےں ترمےم اور 58 ٹوبی مےں ہے۔ موجودہ سےاسی جماعتوں کے اقدام سے عوام کس حد تک دل برداشتہ ہوچکی ہے اس کا فےصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا۔
شکےل احمد خان نشےمن ٹا¶ن لاہور