میرے محلے کو الگ صوبہ قرار دیا جائے

15 فروری 2010
مکرمی! اس قوم کا بعض عجےب قسم کے لوگوں سے واسطہ پڑا ہوا ہے شومئی قسمت سے اگر اےسے لوگ کسی وجہ سے اقتدار کی سےڑھی چڑھ ہی جاتے ہےں تو پھر وہ اپنی تمام تر حلاوت اور گھلاوٹ مےں جھوٹ کی ملاوٹ کرکے اپنے باس کے غلط ملط کاموں پر بھی باتوں اور دلائل کا اےسا ملمع چڑھاتے ہےں کہ اےک دنےا عش عش کراٹھتی ہے اس وقت اےسے لوگوں کو نہ اپنے حلقہ اور علاقے کے مسائل ےاد آتے ہےں اور نہ لوگوں کی مجبورےاں۔ کسی کی اقتدار مےں آکر ےہ بھوک چمک اٹھتی ہے کہ ملک کے ہر ادارے اور سڑک کا نام اپنے مرحوم لےڈر ےا مرحومہ کے نام ہی منسوب کردےا جائے جےسے ےہی سب سے بڑا مسئلہ ہو جس کا فوری حل اشد ضروری ہے اپنی سےاست قطعی کرکے چمکانے کے ےہ نعرے دےرپا نہےں ہوا کرتے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنی موت آپ مرجاےا کرتے ہےں اس طرح تو ہر اےراغےرا تحرےک چلانے کی دھمکی دے کر ےہ نعرہ چلا سکتا ہے اس کے محلہ کو الگ صوبہ قرار دے کر اسے اس کا معتبر بنادےا جائے ےاد رکھئے صرف صاحب کردار اور صاف دامن لےڈروں کے نعرے مقبولےت حاصل کےا کرتے ہےں آج مشرف دور کے مزے اٹھانے والوں کے بےانات پڑھئے تو انہوں نے بھی لفظ کاش کا استعمال زےادہ کرنا شروع کردےا ہے مثلاً کاش ہم نے لال مسجد کے واقعہ پر استعفیٰ دےا ہوتا کاش اےسا کےا ہوتا۔ وےسا کےا ہوتا۔ اگر آج مشرف کا دور ہوتا تو انہےں کبھی کاش ےاد نہ آتا اور ےہ لوگ وہی کررہے ہوتے جو آمر کہہ رہا ہوتا۔ کاش اےسے بے وقوف لوگ قوم کو بے وقوف سمجھنا چھوڑ دےں۔محسن امےن تارڑ اےڈووکےٹ 134B جوہرٹا¶ن لاہور