اویس غنی اور ”مرد حُر“

15 فروری 2010
سہ روزہ عظیم الشان نظریہ پاکستان کانفرنس کا آخری دن پہلے دن کی طرح لگ رہا تھا۔ گورنر سرحد اویس غنی بہت شائستہ اور شستہ آدمی ہیں وہ سنجیدگی میں بھی برجستگی رکھتے ہیں۔ وہ بڑی آسودگی سے ایک گھنٹے تک بے تکان بولتے رہے۔ یوں دیر تک بولنا بھی اچھا لگا۔ انہوں نے مجید نظامی کا شکریہ ادا کیا کہ وہ انہیں بلاتے ہیں۔ یہ بات انہوں نے اس طرح کہی کہ جیسے وہ چاہتے ہوں کہ وہ بلائے جائیں مگر وہ کئی برسوں سے نہ آ سکے۔ اس دفعہ ان کی بیوی نے انہیں مجبور کیا کہ وہ یہاں آئیں۔ اویس غنی نے کہا کہ شاید میری بیوی کو اعتبار نہ تھا اس لئے وہ میرے ساتھ آئی ہیں۔ اویس غنی کبھی تحریک انصاف میں تھے۔ یہ کیسی بے انصافی ہے کہ ایک بھی اہل اور اہل دل آدمی کو تحریک انصاف میں رہنے نہیں دیا جاتا۔ ایسے کئی لوگ تھے جو کیا کچھ سوچ کر تحریک انصاف میں گئے تھے۔ اور پھر کیا کچھ سوچ کر رہ گئے۔ تحریک انصاف کے ایک سابق ورکر لیڈر قربانی سے سرشار نوید خان ایسی ایسی کہانیاں سناتے ہیں کہ میں انہیں بیان کرتے ہوئے خود سے ڈرتا ہوں۔ اویس غنی جیسے لوگ جس انقلابی آدمی کی تلاش میں عمران خان کے پاس گئے تھے۔ وہ شاید اس کے اندر کہیں گم ہو گیا ہے۔ اویس غنی نے وہ گاڑی بھی ڈرائیور کی جس میں عمران خان بیٹھتا تھا۔ پھر وہ اس گاڑی سے اتر گئے۔ اس کی منزل وہ نہ تھی جو اویس غنی کے دل میں تھی۔
وہ گورنر بلوچستان بھی تھے مگر ان کا اصل مقام تو صوبہ سرحد تھا۔ اس کے لئے دلیل یہ ہے کہ اے این پی کی حکومت اور کچھ دوسرے قبائل انہیں گورنر سرحد کے طور پر قبول نہیں کرتے۔ وہ سردار عبدالرب نشتر کے بھتیجے ہیں۔ مجید نظامی نے انہیں سرحد کا عبدالرب نشتر کہا۔ سردار عبدالرب نشتر باغ جناح سے ملکہ کے بت تک پیدل سفر کرتے تھے۔ اس کے مقابلے میں دوسرے گورنروں کی پروٹوکول اور سکیورٹی کا اندازہ کریں۔ نشتر صاحب کے بیٹے نے ایف سی کالج کے لئے گاڑی مانگی تو انہوں نے کہا کہ گاڑی تو گورنر ہاﺅس کی ہے، میری نہیں۔ تم سائیکل پر کالج جایا کرو۔ مجید نظامی نے کہا کہ ایک مسلم لیگی گورنر کو کس طرح اے این پی کی حکومت قبول کر سکتی ہے۔ ”میرا مرد حُر“ آخر تک ڈٹا رہے تو اچھا ہے۔ خود اس کے لئے اچھا ہے اللہ کرے اویس غنی اے این پی کے حکمرانوں کے سینے پر مونگ دلتا رہے۔
اویس غنی نے نظریہ پاکستان کانفرنس میں کہا کہ پاکستان کو اللہ نے بنایا ہے اور وہی اسے بچانے والا ہے۔ یہ کمزور لوگوں کا خطہ نہیں ہے۔ اسے کوئی قوم زیر نہیں کر سکتی۔ اس ملک کو ایک خاص مقصد کیلئے بنایا گیا ہے۔ اس کے لئے تیاری کی ضرورت ہے۔ اسی تیاری میں شریک ہونے کیلئے اویس غنی نظریہ پاکستان کانفرنس میں شریک ہوئے تھے۔ انہوں نے مشترکہ اسلامی شناخت کی بات کی۔ نظریہ پاکستان کو دلوں میں پوری طرح بیدار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کے لئے انہوں نے نظریہ پاکستان ٹرسٹ اور مجید نظامی کو خراج تحسین پیش کیا۔ وہ اس سے پہلے بھی ایوان کارکنان پاکستان میں تشریف لا چکے ہیں۔ سہ روزہ کانفرنس کے مستقل شرکا نے یہ تاثر دیا اور اس کا اظہار تقریب میں برملا کیا کہ سب سے اچھی گفتگو اویس غنی کی تھی۔ وہ بے تکلفانہ دوستانہ انداز میں بے ساختہ پن کے بانکپن کے ساتھ بات کر رہے تھے۔ دوستوں نے اکرم ذکی کی تقریر کی بھی تعریف کی۔ اویس غنی نے صوبہ سرحد کے حوالے سے کئی نظر نہ آنے والے گوشوں پر روشنی ڈالی۔ دنیا والے مالاکنڈ، سوات اور جنوبی وزیرستان میں ہماری کامیابیوں پر حیران ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تمہیں ٹریننگ دیتے ہیں۔ ہم نے کہا کہ تم ہم سے ٹریننگ لو۔ افغانستان میں تمہاری ناکامی گواہ ہے کہ وہاں تمہاری تھوڑی بہت کامیابی بھی ہماری وجہ سے ہی ہے۔ امریکہ افغانستان سے ہماری امداد کے بغیر نکل بھی نہیں سکتا اور وہ بھارت کو خطے کا لیڈر بنانا چاہتا ہے جسے کوئی بھی قبول نہیں کرے گا۔ بھارت کے ذلیل ہونے کا وقت بھی آ گیا ہے۔ اویس غنی نے بتایا کہ ہم نے انہیں کہا ہمارے ہاں دہشت گردی کے لئے استعمال ہونے والا اسلحہ افغانستان سے آتا ہے۔ 30 برسوں سے ہم پر تشدد ہو رہا ہے۔ ہم نے روسیوں کو نہیں بلایا تھا اور ہم نے امریکیوں کو بھی نہیں بلایا۔ امریکہ اور نیٹو ہمارے لئے نہیں آئے۔ انہیں یہاں ہماری رہنمائی میں چلنا ہو گا۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں خود ان کے اپنے حق میں نہیں ہے۔ ایک نیوکلیئر طاقت پر براہ راست حملہ تو نہیں ہو سکتا۔ مگر یہ بھی حملہ ہے کہ ہمارے ملک میں انتشار افراتفری اور خون خرابہ پھیلایا جا رہا ہے۔ ہمارے حالات بگاڑ کر ہمیں کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہمیں اس لئے ثابت قدم رہنے کی ضرورت ہے۔ بھارت کے خلاف ایک آواز بڑے زوردار طریقے سے بلند ہوتی ہے اور وہ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی آواز ہے۔ مجید نظامی بولتے ہیں تو اس کی للکار بھارت کے ایوانوں تک گونجتی ہے۔ اویس غنی نے پاکستان کے عوام اور فوج کی قربانیوں کا ذکر بہت دردمندی سے کیا۔ وزیرستان سے نقل مکانی کرکے آنے والے لوگوں نے کہا ہم پاکستانی ہیں۔ ہم اپنا گھر بار چھوڑ کر نہ آتے اگر ہمارے دل میں کوئی منفی بات ہوتی۔ ہم پاکستان کے لوگوں کو گھبرائے ہوئے دیکھتے ہیں اور یہاں مایوسی پھیلانے والوں کا کردار سامنے آتا ہے تو ہماری طرف سے یہ پیغام ہے کہ اگر پاکستان پر خدانخواستہ کوئی برا وقت آیا تو ہم وزیرستان کا نام پاکستان رکھ دیں گے۔ ہم پاکستان کیلئے قربانی دیں گے اور یہ کہانی تاریخ کی آنکھوں میں محفوظ ہو گی۔
تقریب میں ڈاکٹر ایم اے صوفی کا استقبالیہ بہت مزیدار تھا۔ وہ سرحد کے حوالے سے نظریہ پاکستان کے دل ودماغ سے سوچتے ہیں تو بہت بے قرار ہوتے ہیں۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ اور کانفرنس میں خدمات کے حوالے سے سب سے پہلے علامہ چودھری اصغر علی کوثر وڑائچ کو شیلڈ دی گئی کہ انہوں نے سب سے زیادہ کالم لکھے ہیں۔ بیگم صفیہ اسحاق، مہناز رفیع، ثریا خورشید، رفاقت ریاض، شاہد رشید اور کئی دوستوں کو شیلڈز دی گئی۔ مجھے بھی مجید نظامی سے شیلڈ لینے کا اعزاز حاصل ہوا جب شاہد رشید ایک آدمی کا نام لے کر شکریہ ادا کر رہے تھے۔ سب لوگ حیران رہ گئے کہ علامہ چودھری اصغر علی کوثر وڑائچ اچانک سٹیج پر آئے اور شاہد رشید کو ایک طرف بٹھا کے کہنے لگے کہ ہم سب کی طرف سے شاہد رشید کا بھی شکریہ۔ اس پر خواتین وحضرات نے زوردار تالیاں بجائیں۔ !