CIPE اور FPCCI کے تعاون سے خواتین کا تربیتی پروگرام

15 فروری 2010
پاکستانی خواتین ہر شعبہ میں اپنی کارکردگی منوا رہی ہیں۔ کاروباری دنیا میں اب مختلف چیمبرز اور اداروں کی مدد سے خواتین کو تربیت کے مواقع میسر آرہے ہیں جس کی وجہ سے ان کے اندر پہلے سے موجود صلاحیتوں کو مزید نکھرنے کے مواقع مل رہے ہیں۔ اس ضمن میں FPCCI فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کی ریجنل کمیٹی برائے ویمن انٹر پرینیور کی چیئرپرسن شمیم اختر ریجنل چیئرمین میاں محمد ادریس کے ساتھ مل کر اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ حال ہی میں ہالیڈے ان میں کاروباری خواتین خصوصاً چیمبرز اور خواتین کی کاروباری تنظیموں سے وابستہ ایگزیکٹو کمیٹی کی ممبر خواتین کی تربیت کے لئے CIPE (سینئر فار انٹر نیشنل پرائیویٹ انٹر پرائز) اور FPCCI نے مل کر ایک تربیتی کورس کا اہتمام کیا جس میں پورے پنجاب کے چیمبرز اور خواتین کے چیمبرز سے وابستہ خواتین نے شرکت کی۔
اس تربیتی کورس کا بنیادی مقصد تھا کہ خواتین اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار چیمبرز آف کامرس میں کس طرح کر سکتی ہیں۔ کیسے کاروباری خواتین کو ممبر بنا کر ان کی مشکلات حل کر سکتی ہیں تربیت کے فرائض سائپ کے سینئر پروگرام مینجر حماد صدیقی نے انجام دئیے۔ اس دو روزہ کانفرنس کے لئے حماد صدیقی کا انتخاب اس لئے کیا گیا کہ انہوں نے امریکہ جا کر چیمبرز کو کامیابی سے چلانے کی باقاعدہ تربیت لی ہے اور ان کا ادارہ مختلف چیمبرز کی کارکردگی بڑھانے کے لئے امداد بھی فراہم کرتا ہے جس کی ایک چھوٹی سی مثال یہ ہے کہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں سائپ کی طرف سے کاروباری خواتین کے لئے الگ سنٹر قائم کیا گیا ہے۔
شمیم اختر نے بتایا ”تربیت میں تمام خواتین نے بہت دلچسپی سے حصہ لیا۔ بہتر اور موثر تربیت کے لئے انہیں مختلف گروپس میں تقسیم کر دیا گیا تھا اور پھر انہیں مختلف مسائل دئیے گئے جو انہوں نے آپس میں مشورہ کر کے بہت اچھے طریقے سے حل کر لئے۔ اس تربیت کا مقصد یہی تھا کہ ایگزیکٹو ممبران نے عام ممبران کو کس طرح اپنے ساتھ لے کر چلنا ہے اور کس طرح سے ان کے اندر بھی لیڈر شپ کی صلاحیت پیدا کرنی ہے۔ اس سے پہلے جو کانفرنس ہوئی تھی اس میں جو تجاویز مرتب کی گئی تھیں انہیں وفاقی حکومت کو بھجوا دیا گیا تھا اور خوشی کی بات ہے کہ وفاقی حکومت نے کاروباری خواتین کے لئے ایک جامع پالیسی مرتب کرنے کے لئے ان تجاویز کو پاکستان کے آئندہ پانچ سالہ منصوبے میں بھی شامل کر لیا ہے“۔
ڈاکٹر آمنہ ملتان چیمبر‘ ثمینہ فاضل اسلام آباد ویمن چیمبر‘ شبنم کراچی ویمن چیمبر اور ناصرہ تسکین لاہور چیمبر آف کامرس نے مجموعی طور پر تربیت کو بہت کامیاب قرار دیا اور کہا کہ FPCCI اس نوعیت کے مزید پروگرام ترتیب دے۔