بدروح کا حملہ؟

15 فروری 2010
ہمارے تین گھنٹے ضائع ہو گئے سید ابو استثنیٰ گیلانی کی جمہوریت کے دو سالوں کے نقصان سے بھی بہت بڑا نقصان ہو گیا ہے۔ ہم تو فلسطینی صدر کو گواہ بنا کر آصف علی زرداری کی جمہوریت کے چیف ترین ایگزیکٹو کو اہل ن کے قائد سے ہاتھ ملاتے اور مسکراتے دیکھ کر پر سکون ہو گئے تھے کہ نپٹ گیا ججوں کی تقرری کا کیس۔ ہم نے پڑھا جو تھا کہ قائد لیگ نے قائد جمہوریت کو بتا اورسمجھا دیا ہے کہ ”حکومت کی عدلیہ کے ساتھ محاذ آرائی سے سیاسی کشیدگی جنم لے رہی ہے جو نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے“ اور چاہ یوسف سے آواز آئی تھی کہ ”تاخیر آئینی طریقہ اختیار کرنے کی وجہ سے ہو رہی ہے“ اور ان کے اس آئینی طریقہ کے استعمال نے ہمارے ان کی جمہوریت سے بھی قیمتی تین گھنٹے ضائع کر دیئے تھے اور ہم ان کی یعنی چاہ یوسف میں بڑی جمہوریت کے چیف ایگزیکٹو کی اور ان کی جمہوریت کی جھلک تک نہیں دیکھ سکے تھے۔ بدنصیبی۔ مگر اور کس کی ہم عوام کے سوا؟ جمہوریت کی بھی؟ اس کے چیف کی بھی؟ اگر ایسا ہوتا تو وہ لازماً دکھائی دے جاتے انصاف کی اور قانون کی سربلندی کے اپنے جھنڈے کو اٹھائے ہوئے۔ ایوان صدر یعنی ان کے استثنیٰ بخت صدر کے ایوان کی طرف سے بتایا گیا تھا کہ صدر پاکستان نے جو کچھ بھی کیا ہے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے مشورہ سے کیا ہے اور ان دونوں نے باہمی مشورے سے جو بھی کچھ کیا تھا عدالت عظمیٰ کے جج صاحبان نے اسے غیر قانونی قرار دیدیا تھا۔ یہ بھی سنا گیا تھا کہ جمہوریت کے مالک و مختار نے اس کے چیف سرپرست کے علاوہ قانون کے وزیر اور این آر او چیئرمین سینٹ اور سابق اٹارنی جنرل سے بھی مشورہ کر کے اپنے این آر او اختیارات کا استعمال کیا تھا بالکل قانونی حدود و قیود کے اندر رہتے ہوئے اور ان کے کئے کرائے کو عدالت عظمیٰ نے غیر قانونی قرار دیکر غیر موثر کر دیا تھا اور وزیراعظم کہیں دکھائی اور سنائی نہیں دے رہے تھے قوم کو نہیں تو مسلم لیگ ن کے قائد کو ہی بتا دیتے کہ انہوں نے کیا مشورہ دیا تھا اور اس پر ان کے صدر کے عملدرآمد سے وہ بحران کیسے پیدا ہو گیا تھا جس نے باوردی جنرل پرویز مشرف کی یادوں کے زخم تازہ کر دیئے تھے ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ اس معاملے میں بھی آصف علی زرداری کے اندر ذوالفقار علی بھٹو کی اور ان کے صاحبزادی کی روحیں ہی سرگرم رہی تھیں لیکن ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کی آمریت کی روح اب بھی ایوان صدر میں موجود ہے اور وہ جو چاہتی ہے اس کے بے وردی جانشین سے کروا لیتی ہے۔ سید یوسف رضا گیلانی اپنی گڈ گورننس اور میاں نواز شریف اپنے میثاق جمہوریت کی دھونی سے بھی اس بدروح کو ایوان صدر سے نکال نہیں سکے جس نے ملک بھر کے اہل شعور کے منتخب صدر پاکستان کو جکڑ جپھے میں لیا ہوا ہے۔ ویسے آپ کو یاد ہو گا نہیں تو یاد کریں کہ آصف علی زرداری سے پہلے جو باوردی پرویز مشرف ہمارے ایوان صدر میں ہوتے تھے انہوں نے بھی تو بعد از رسوائی بسیار یہی کہا تھا کہ عدلیہ پر خود کش حملہ ان سے ان کے وزیراعظم نے کروایا تھا۔ ان کے شوکت عزیز بھی اس بارے میں لب بستہ ہی چلے آ رہے ہیں۔ ویسے ہی جیسے این آر او جمہوریت کے چیف ترین ایگزیکٹو شب بھر خاموش ہی رہے تھے اور تادم تحریر ہم ان کی سریلی آواز نہیں سن سکے۔ تو فرق کیا پڑا ہے جنرل پرویز مشرف کی کرسی پر آصف علی زرداری کے بیٹھ جانے سے؟ شب بھر اہل فکر و شعور ایک دوسرے سے یہی پوچھتے رہے تھے کہ آخر کرکرا کیوں رہے ہیں۔ آصف علی زرداری یہ سب کچھ؟ بعض کا خیال ہے کہ وہ ”شہیدوں“ میں نام لکھوانا چاہتے ہیں۔ اس منصوبے پر کام کر رہے ہیں کہ جانا ہے تو شہید ہو کر کیوں نہ جائیں ورنہ جو آصف علی زرداری ڈیڑھ ارب ڈالر ہضم کر سکتا ہے وہ جنرل پرویز مشرف کی کرسی پر بیٹھتے ہی حکمرانی کی بدہضمی کے مرض کا کیسے شکار ہو سکتا ہے؟ وہ بھی نائیک تا گیلانی براستہ بابر اعوان کے ہوتے ہوئے؟ خدا نہ کرے ملک کو اس کی جمہوریت کو اور بارک حسین اوباما تک کو آصف زرداری کی فراست کی شدید ضرورت ہے لیکن خدا ایک بار نہیں ایک ہزار بار نہ کرے اگر ان کا کوئی ایسا منصوبہ ہے اور وہ اس کو پورا کر لیتے ہیں تو وہ بھی ”شہیدوں“ کے ساتھ مذاق ہی کیا جائے گا ان ”شہیدوں“ کے ساتھ جن کی گدی کے وہ مالک اور نشین ہیں۔ مگر کیا ایوان صدر میں پائی جانے والی پرویز مشرف کی آمریت کی بدروح آصف علی زرداری کے اندر مکین ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی روحوں سے زیادہ طاقتور ہے کہ وہ انہیں اپنی بد راہ کی طرف گھسیٹے لئے جا رہی ہے اور وہ دونوں روحیں مل کر بھی اپنی گدی کے وارث کو اپنی جمہوریت کی راہ پر نہیں چلا سکتیں؟ واقعی آمریت بری بلا ہے جس کی روح تک اس آصف علی زرداری کو بھی اسی راہ پر لے جا رہی ہے۔ جس کی قائدانہ صلاحیتوں پر ملک کے اہل شعور کے منتخب تین اسمبلیوں کے ارکان نے غیر مشروط اعتماد کا اظہار کیا ہوا ہے اور جمہوریت اور اس کے چیف ایگزیکٹو مل کر بھی انہیں اس بدروح سے نجات نہیں دلا سکے لیکن ہم سولہ کروڑ عوام (خواص کو نکال کر) اور ہم میں سے اہل شعور کی منتخب کی ہوئی پارلیمنٹ کہاں گرے پڑے ہیں؟ وہ عوام اور پارلیمنٹ کے ارکان کیوں نہیں کر رہے کچھ ہمیں اس بدروح کے جکڑ جپھے سے چھڑانے کےلئے۔ کہ ہمارے ایوان صدر کے مکین پر اس کا حملہ اصل میں تو ہم پر اور ہمارے ملک پر حملہ ہے۔ اتنا شدید کہ اس سے ابو استثنیٰ گیلانی کو بھی کوئی استثنیٰ حاصل نہیں۔ وہ بھی گم سم ہی پڑے ہیں کہیںکل سے!

نفس کا امتحان

جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف خواتین کی مہم ’می ٹو‘ کا آغاز اکتوبر دو ...