تین اور تیرہ.... اب بھگتیں

15 فروری 2010
جب ایوان صدر میں موجود جرنیلی آمریت کے کرّوفر نے مسندِ شاہی پر بیٹھی ہر شخصیت کو کیڑے مکوڑے عوام کا مالک و مختار بننے، اپنے فرمودات عالیہ و مقدسہ کو آئین اور قانون کا درجہ دینے اور عملاً خدا (نعوذ باللہ) بن کر بیٹھنے کے نشے میں سرشار کردیا ہو تو کسی نادان مشیر کی کیا مجال ہے کہ اسے الٹی سیدھی پٹیاں پڑھا کر منزل سے بھٹکاتا پھرے۔ بے شک جمہوریت کُش مجرب نسخہ رکھنے والے سلمان تاثیر، ڈاکٹر بابر اعوان اور سردار لطیف خاں کھوسہ جیسے عقلِ کُل مشیروں کی دال بھی کروفر والے ایوانِ صدر کے ایسے ہی ماحول میں گلی ہے مگر مخدوم امین فہیم، رضا ربانی اور سید خورشید شاہ جیسے پیپلز پارٹی کے دانشمند اور ہمہ وقت جیالے قائدین کو تو اس اصل منظر نامے کا علم ہونا چاہئے، پھر وہ ایسے کسی تاسف کا شکار کیونکر ہوگئے کہ ان کے ہر دلعزیز و مرغوب صدر مملکت ان نادان مشیروں کے چکمہ میں آگئے ہیں اور ان کے کہنے پر سپریم کورٹ اور لاہور ہائیکورٹ میں ججوں کے خلافِ آئین تقرر کا نوٹیفکیشن جاری کرکے بیٹھے بٹھائے اپنی پارٹی کی حکومت کو خطرات سے دوچار کر بیٹھے ہیں۔
ایسا ہرگز نہیں ہے جناب کہ صدر صاحب خاص ایجنڈہ رکھنے والے اپنے ان مشیروں کی انگلیوں کے اشاروں پر ناچتے ہوئے سسٹم کی بساط لپیٹنے کی راہ پر چل نکلے ہیں۔ آپ ذرا ان کے ذہنِ رسا میں بھی جھانک لیجئے۔ ورنہ حکومتی سیاسی اتحاد کی دوسری جماعتوں کے قائدین بھی صلاح مشورہ کیلئے یہیں پر موجود تھے۔ حکمران پیپلز پارٹی میں بھی دانشمند اور سسٹم کی بقاءکیلئے فکرمند قانونی و آئینی ماہرین کی کمی نہیں۔ جمہوریت کی گاڑی کو سبک خرام بنانا مقصود ہو تو اس کے انجن کے ہرکل پرزے کے فنکشنل ہونے کی ضمانت لینا ضروری ہوتا ہے۔
پھر یہ کیا ہوا کہ سازشی کھچڑی پکانے کیلئے ہفتے کا دن منتخب کیا گیا اور یہ سمجھ لیا گیا کہ اتوار کی چھٹی کے باعث سپریم کورٹ کا کوئی جج سپریم کورٹ میں نہیں آئے گا اور کسی شب خون کا نوٹس لینے کی پوزیشن میں نہیں ہوگا۔ صرف ہاں میں ہاں ملانے، جی حضوری کرنے والے رطب اللسانوں کو ایوان صدر میں بلوایا گیا اور ان کے باہم سر جوڑ کر بیٹھنے کی تین گھنٹے کی ایکسرسائز کے بعد بالکل ویسا ہی ٹوکہ چلا دیا گیا جیسے جرنیلی آمر مشرف نے ہفتے ہی کا دن اپنے لئے محفوظ سمجھ کر 3نومبر 2007ءکو پی سی او اور ایمرجنسی کے نفاذ کے ذریعہ آزاد عدلیہ کی بساط لپیٹی تھی۔ذرا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لیجئے اور موازنہ کیجئے کہ سپریم کورٹ کی خالی آسامی پر تقرر کیلئے چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار چودھری کی سفارشات دوسری بار مسترد کرنے اور آئین کی دفعہ 177 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ خواجہ محمد شریف کا اس خالی آسامی پر تقرر کا نوٹیفکیشن جاری کرنے اور اس کے ساتھ ہی لاہور ہائیکورٹ کے سب سے سینئر جج میاں ثاقب نثار کو تضحیک آمیز انداز میں ہائیکورٹ کا قائم مقام چیف جسٹس بنانے کے13فروری کے اقدام اور جرنیلی آمر مشرف کے 3 نومبر 2007ءکے نخوت و تکبر میں لپٹے ہوئے اقدام میں بھلارتی بھر کا بھی کوئی فرق ہے؟۔ اگر آپ کو فرق محسوس نہ ہو تو آپ اپنے صلح جُو اور منکسرالمزاج وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے گلے مٹ پڑ جایئے کیونکہ وہ تو محض بھولپن میں آپ کی پارٹی کے صدرِ محترم و معظم کی صفائیاں اور ان کے ”پوّتر“ افعال کی ضمانتیں دیتے پھر رہے ہیں اور محض اس تصور کے تحت 17ویں آئینی ترمیم کی بنیاد پر صدر کی ذات میں سموئے گئے آمرانہ جرنیلی صوابدیدی اختیارات ان کی ذات کا حصہ ہی بنائے رکھنا چاہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی ہی پارٹی کی حکومت اور اسمبلی بھلا تھوڑی ختم کرنی ہے۔
ان کی پارٹی کے صدر لغاری بھائی پر بھی ان کی شہید بی بی کو ایسا ہی اندھا اعتماد تھا مگر اس ”بھائی“ کے بارے میں ”چاہ یوسف“ سے تنبیہ کے چھانٹے برآمد ہوئے۔ کیا ”چاہ یوسف“ والے نے ان چھانٹوں کو اب توڑ دیا ہوا ہے کہ انہیں اپنی پارٹی کے دوسرے صدرِ معظم کے بارے میں اپنے چاہ یوسف سے کوئی صدا نہیں آئی؟ مجھے تو بہت زیادہ حیرت ہو رہی ہے کہ ہفتے کے روز ایوان صدر میں جمہوریت کے خلاف پکنے والی سازشی کھچڑی میں سادہ و معصوم وزیراعظم خود بھی شریک تھے اور اب کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے وہ اعلان فرماتے جا رہے ہیں کہ ججوں کے تقرر کے بارے میں سپریم کورٹ جو فیصلہ کرے گی، ہمیں قبول ہوگا۔ جناب ۔این آر او کیس،بنک آف پنجاب کیس اور جرنیلی آمریت میں آزاد عدلیہ کو پابند سلاسل کرنے کے کیس میں سپریم کورٹ کے پہلے سے صادر ہونے والے فیصلوں کو بھی تو قبول کرلیں اور ان پر عملدرآمد کرتے ہوئے متعلقین کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیں۔اگر ان فیصلوں کو پہلے ہی صدق دل سے قبول کرلیا گیا ہوتا تو جرنیلی آمر کی روح سے تقویت و تسکین حاصل کرنے والے آپ کے صدرِمکرم کو 3 نومبر 2007ءکا ایکشن ری پلے کرنے کی کیونکر جرات ہوتی۔
جرنیلی آمر کا انجام دیکھنے کے بعد بھی اگر اسی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آئین کو ہاتھ میں لے کر توڑنے موڑنے، عدلیہ کی آزادی پر شب خون مارنے اور اس ٹوکہ وار کے بعد ایوان صدر میں ہی بیٹھ کر عدلیہ اور قوم کی جانب سے اس کے ردعمل کا نظارہ کرنے کی جرات دکھائی گئی ہے اور ہائیکورٹ کے ججوں کے تقرر کیلئے چیف جسٹس پاکستان کی سفارش کردہ سمری حقارت کے ساتھ گورنر ہاﺅس میں واپس بھجوائی گئی ہے کہ اس میں 1996ءجیسے جیالے ججوں کے نام شامل کرائے جا سکیں تو جناب وزیراعظم! جمہوریت، آئین اور آئینی اداروں کے خلاف دانستہ طور پر تیار کی گئی اس سازش سے آپ خود بھی کیسے بری الذمہ ہوسکتے ہیں؟ اگر مشرف کے 3 نومبر کے جرنیلی ٹوکے اور جمہوری سلطان کے 13 فروری والے آمرانہ ہتھکنڈے میں کوئی فرق نہیں تو قوم دستور پاکستان میں موجود جس سزا کا تقاضہ مشرف کیلئے کر رہی ہے، اسی سزا کے 13 فروری کے اقدام والے کیوں مستحق نہیں ہوں گے۔ اگر چاہ یوسف کی صدا سننے والے ”3“ میںنہیں تھے تو وہ ”13“ میں تو موجود ہیں۔ وہ اب نہ نو دو گیارہ ہوسکتے ہیں نہ ”تین میں نہ تیرہ میں“ کی مثال اپنی ذات پر لاگو کرسکتے ہیں۔ اگر ایوان صدر میں بیٹھ کر جمہوریت کی بساط لپٹنا دکھایا گیا ہے تو جناب! آئین کی دفعہ 6 حاضر ہے۔ اب اس سے بھی لگے ہاتھوں استفادہ کرلیں۔