تہاڑ جیل میں نظر بند کشمیریوں کو بنیادی سہولتوں سے محروم رکھا جا رہا ہے

15 فروری 2010
سرینگر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے نئی دہلی کی بد نام زمانہ تہاڑ جیل میں نظر بند کشمیریوں کی حالت زار پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بار ایسوسی ایشن نے سرینگر میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ جیل میں کشمیری نظر بندوںکی حالت ابتر ہے اور بھارتی جیل انتظامیہ نے ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک روارکھا ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق تہاڑ جیل میں اٹھاون کشمیری نظربند موجود ہیں تاہم جیل کا دورہ کرنے والی بار کی ٹیم کو صرف 18نظربندوں سے ملاقات کی اجازت دی گئی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیری نظربندوں کو اپنے مقدمات لڑنے اور جرمانے ادا کرنے کیلئے پیسوں کی کمی کا سامنا ہے۔بار نے مختلف مخیر حضرات سے نظر بندکشمیریوں کی مالی مدد کی اپیل کی۔قیدیوں کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے بار نے کہا کہ جیل میں نظر بند شبیر احمد لون نامی ایک کشمیری تاجربھی موجود ہے جسے بھارتی پولیس نے 24دسمبر2006کو گول مارکیٹ منڈی ہماچل پردیش سے گرفتار کیا گیا۔شبیر نے بار ایسوسی ایشن کی ٹیم کو بتایا کہ دہلی پولیس نے اسے گرفتار کرنے کے بعد نئی دہلی کی لودھی کالونی میں ایک سیل میںنظربند رکھا اور اسے شدید تشدد کا نشانہ بنا یا گیا۔ کشمیری تاجر نے مزید بتایا کہ 27 جولائی2007ءکو آزاد پور علاقے سے اسکی گرفتاری کا ایک جعلی ڈرامہ رچایا گیا۔ تہاڑ جیل میں نظر بند دو اور کشمیریوں علی محمد شیخ اور سمیع اللہ شیخ نے بتایا کہ بھارتی پولیس نے انہیں 27نومبر 2006 کونظام الدین ریلوے سٹیشن سرینگر سے گرفتار کیا تھا جس کے بعد انہیں یکم جنوری 2007کو تہاڑجیل منتقل کردیا گیا تھا جس کے بعد سے وہ مسلسل یہاں نظر بند ہیں۔ واضح رہے کہ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی8 رکنی ٹیم نے بار کے صدر میا ںقیوم کی سربراہی میں گزشتہ مہینے کی 27سے 29تاریخ تک تہاڑ جیل کا دورہ کیا تھا۔