زرداری کے اقدام نے نواز شریف کو سڑکوں پر آنے کی جانب دھکیل دیا

15 فروری 2010
اسلام آباد (جاوید صدیق) صدر زرداری کے ججوں کی تقرری کے فیصلہ نے نواز شریف کو اس حد تک دھکیل دیا جہاں وہ زرداری حکومت کے خلاف سڑکوں پر آ سکتے ہیں۔ گزشتہ روز پنجاب ہاﺅس میں سینئر اخبار نویسوں اور ٹی وی اینکرز کے ساتھ مشاورتی ملاقات میں نواز شریف نے کہا کہ انہوں نے جمہوری نظام کو بچانے کیلئے بڑے صبر سے کام لیا۔ صدر زرداری نے انہیں اور ان کی جماعت کو سیاسی طور پر زک پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا ۔ نواز شریف قدرے جذباتی انداز میں کہہ رہے تھے کہ زرداری نے پہلے مجھے اور شہباز شریف کو ڈوگر کورٹ سے نااہل قرار دلایا، پھر پنجاب میں گورنر راج لگا کر پنجاب سے حکومت ختم کرنے کی کوشش کی، اس کے باوجود انہوں نے جمہوری نظام کی خاطر زرداری کو موقع دیا کہ وہ معاملات درست سمت میں چلائیں لیکن انہوں نے اپنا کوئی وعدہ پورا نہیں کیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ جب صدر زرداری نے بھوربن میں ججوں کی بحالی کے سمجھوتے پر دستخط کئے تھے تو ابھی اس سمجھوتے کی سیاہی بھی نہیں سوکھی تھی کہ صدر زرداری کے دو معتمد ساتھیوں لطیف کھوسہ اور فاروق نائیک کے ذریعے یہ کہلوایا کہ ”ان ججوں کو ہم بحال نہیں کریں گے کیونکہ ہمارے مخالف ہیں، ان سے ہماری نہیں بنے گی“۔ ان کی گفتگو سے اندازہ ہو رہا تھا کہ ججوں کی بحالی کے معاملے پر صدر زرداری کی وعدہ شکنی کا انہوں نے صبر سے مقابلہ کیا اور انہیں مجبور کیا کہ وہ ججوں کو عوامی دباﺅ کے تحت بحال کرانے کا راستہ اختیار کریں۔ نواز شریف کو بعض اخبار نویسوں نے مشورہ دیا کہ وہ صدر زرداری کے خلاف کھلی جنگ کا اعلان کر دیں مگر نواز شریف نے کہا وہ چاہتے ہیں کہ موجودہ جمہوری نظام کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ بعض اخبار نویسوں کے اصرار کے باوجود نہ تو انہوں نے پریس کانفرنس میں مڈٹرم انتخابات کا اعلان کیا اور نہ ہی کسی احتجاجی تحریک کیلئے کوئی وعدہ کیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ صدر زرداری ججوں کی تقرری کا اپنا فیصلہ واپس لیں اور آئین و قانون کے تحت جو طریقہ کار ہے اس کے تحت ججوں کے تقرر کا اعلان کریں۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ زرداری خود جمہوریت کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ بعض اخبار نویسوں نے نواز شریف سے کہا کہ وہ اپنے موجودہ موقف کی وجہ سے غیرمقبول ہو رہے ہیں جبکہ دوسرے اخبار نویسوں اور اینکرپرسنز نے اس سے اختلاف کیا۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ مجھے اپنی مقبولیت یا عدم مقبولیت کی پرواہ نہیں، میں ملک اور جمہوری نظام کے استحکام کیلئے اصولوں کے مطابق فیصلے کروں گا البتہ انہوں نے اس بات کا عندیہ دیا ان کی پارٹی صورتحال کا جائزہ لے گی اور پھر اس کے مطابق مستقبل میں اہم فیصلے کرے گی۔ صدر زرداری میثاق جمہوریت کے تحت ججوں کی تقرری ایک کمشن کے ذریعے کرنے پر زور دے رہے تھے اور نکی پارلیمانی کمیٹی میں حکومتی ارکان اس بات پر زور دے رہے تھے کہ فوری طور پر کمشن بنا کر اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی جو 72 تقرریاں ہونی ہیں وہ کر دی جائیں لیکن مسلم لیگ (ن) کا موقف یہ تھا کہ موجودہ تقرریاں موجودہ آئینی نظام کے تحت کی جائیں اور آئندہ تقرریاں میثاق جمہوریت کے مطابق ہوں جس پر حکومت کو مایوسی ہوئی۔ نواز شریف کی پارٹی کے اندر کے ”ہاکس“ زرداری کی پے درپے غلطیوں کے باعث نواز شریف پر دباﺅ بڑھا رہے ہیں کہ وہ زرداری کے خلاف طبل جنگ بجا دیں۔