ہائیکورٹ کے جج کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کیلئے سنیارٹی لازمی نہیں

15 فروری 2010
اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) ہائی کورٹ کے جج کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کے لئے سنیارٹی لازمی نہیں‘ سپریم کورٹ یہ معاملہ 2002 میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن بنام وفاق پاکستان مقدمہ میں طے کر چکی ہے۔ 2002 میں لاہور ہائی کورٹ کے ججوں جسٹس خلیل الرحمان رمدے‘ جسٹس محمد نواز عباسی اور جسٹس فقیر محمد کھوکھر کو سپریم کورٹ میں جج مقرر کیا گیا تھا جو تینوں جونیئر جج تھے۔ سپریم کورٹ بار نے مذکورہ اقدام کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا مقدمہ کی سماعت کے لئے اس وقت کے چیف جسٹس شیخ ریاض کی سربراہی میں 5 رکنی بنچ تشکیل دیا گیا جس نے فیصلہ دیا کہ ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ میں کسی جج کی تقرری جج کی ترقی نہیں بلکہ نئے سرے سے نئی پوسٹ پر تعیناتی ہے اور نئی تعیناتی کے لئے سینئر ترین جج کو لیا جانا ضروری نہیں۔ واضح رہے کہ اس وقت تعیناتی کے موقع پر جسٹس فقیر محمد کھوکھر لاہور ہائی کورٹ میں سینارٹی کے لحاظ سے 13 ویں نمبر پر تھے مگر 5 رکنی بنچ نے ان کی تعیناتی کو جائز قرار دیا۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ کے موجودہ جج جسٹس خلجی عارف حسین کی تعیناتی بھی صدر آصف علی زرداری نے ہی چند ماہ قبل کی ہے جو سندھ ہائی کورٹ کے جونیئر جج تھے ان کی تقرری کے موقع پر وہاں کے چیف جسٹس کو سپریم کورٹ میں سینئر جج ہونے کی بنا پر لائے جانے پر زور نہیں دیا گیا تھا نہ ہی سنیارٹی کا معاملہ اٹھایا گیا تھا۔