حکمران رویہ درست کریں‘ بحران جلد حل نہ ہوا تو تیسری قوت کو مداخلت کا موقع ملے گا : مذہبی و سیاسی رہنما

15 فروری 2010
لاہور (خصوصی نامہ نگار+ ایجنسیاں) ملک کے مذہبیسیاسی و سابق عسکری رہنماﺅں نے کہا ہے کہ موجودہ بحران جلد حل نہ کیا گیا تو تیسری قوت کو مداخلت کا جواز مل جائے گا‘ حکومت تصادم کی راہ پر چل پڑی ہے‘ محاذ آرائی میں سب سے زیادہ نقصان پیپلزپارٹی کا ہو گا‘ حکمرانوں کو اپنا رویہ درست کرنا ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعلیٰ پنجاب کے سینئر مشیر ذوالفقار کھوسہ‘ امیر جماعت اسلامی سید منور حسن‘ قائد ایم کیو ایم الطاف حسین‘ سینیٹر ساجد میر‘ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ حمید گل‘ خواجہ سعد رفیق‘ ق لیگ کے جنرل سیکرٹری مشاہد حسین سید‘ مہتاب عباسی‘ مرکزی جمعیت اہلحدیث پنجاب کے امیر پروفیسر عبدالرحمن لدھیانوی‘ حافظ حسین احمد‘ ق لیگ ہم خیال کے چیئرمین حامد ناصر چٹھہ‘ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر عبدالغفار حیدری اور دیگر رہنماﺅں نے کیا۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کے سینئر مشیر سردار ذوالفقار کھوسہ نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی تصادم اور خود کشی کی راہ پر چل پڑی ہے جس کا نتیجہ اسے خود بھگتنا پڑے گا۔ ججوں کی تعیناتی کے سلسلے میں ایوان صدر کے نوٹیفکیشن کی کوئی آئینی اور قانونی حیثیت نہیں ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان کے امےر سےد منور حسن نے کہا ہے کہ حکومت نے جنگ کا بگل بجا دےا ہے، صدر اور وزیراعظم اےک ہی کھوٹے سکے کے دو رُخ ہےں، ان کے تمام روئےے اور سپرےم کورٹ کے فےصلوں کی خلاف ورزی توہےن عدالت کے زمرے مےں آتی ہے۔ انہوں نے حکمرانوں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اداروں سے اسی طرح تصادم کا راستہ اختےار کریںگے تو ملک مےں بہت بڑا بحران پےدا ہوگا اور حالات کی خرابی اور اداروں سے محاذ آرائی مےں سب سے زےادہ نقصان پےپلز پارٹی کا ہوگا۔ 25فروری کوپاک بھارت مذاکرات کے اےجنڈے مےں مسئلہ کشمےر کو سرفہرست رکھا جائے۔ انہوں نے کہاکہ دےگر پارٹےوں سے مشاورت سے وکلا برادری اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر اسلام آباد مےں سپرےم کورٹ کے سامنے بہت بڑے احتجاجی مظاہرے کے ذرےعے چےف جسٹس آف پاکستان کو ےقےن دلائےں گے کہ وہ تنہا نہےں ہےں۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے امیر سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ اگر عدالتی بحران کو جلد حل نہ کیا گیا تو تیسری قوت کو مداخلت کا جواز مل جائے گا۔ آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل (ر) حمید گل نے کہا ہے کہ حکمرانوں کو ہر صورت اپنا رویہ درست کرنا ہو گا۔ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے حکومت اور عدلیہ کے مابین محاذ آرائی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ملک و قوم کو انتہائی نازک صورتحال کا سامنا ہے اور ان حالات میں عدلیہ اور حکومت کے درمیان محاذ آرائی جمہوریت کیلئے کسی بھی طرح خوش آئند قرار نہیں دی جا سکتی۔ مسلم لیگ ق کے سیکرٹری جنرل سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ صدر زرداری نے ججوں کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کرکے صرف بہت بڑی غلطی کی۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے آرگنائزنگ سیکرٹری اور ممبر قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ اگر آئین کی بالادستی اور عدلےہ کی آزادی کی بات کرنا جرم ہے تو یہ جرم ہزار بار کریں گے۔ آئین کی دفعات 177اور 260کی صریحاً خلاف ورزی کرنے پر شرمندگی کی بجائے اپوزیشن کو گالیاں دینا اور پتلے نذر آتش کرنا ”چور مچائے شور چور چور چور“ کے مصداق ہے۔ عدلیہ کو کنٹرول کرنے کا جو کام جنرل مشرف وردی کے زور پر نہ کر پائے‘ وہ آصف زرداری ٹائی سوٹ پہن کر نہیں کر سکتے۔ سابق وزیراعلیٰ سرحد اور مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی سردار مہتاب عباسی نے کہا ہے کہ حکومت کا یہ اقدام نہ صرف آئین سے انحراف ہے بلکہ یہ اس کو آئین کے آرٹیکل 6کی طرف بھی لے جا سکتا ہے۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث پنجاب کے امیر پروفیسر عبدالرحمن لدھیانوی نے کہا ہے کہ اقتدار کی ہوس اور انتقامی سیاست نے حکمرانوں کو اندھا کر دیا۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث ”عدلیہ حمایت تحریک“ چلائے گی۔ جمعیت علماءاسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے موجودہ ملکی صورتحال کو افوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ داخلی حالات کے پیش نظر ملک کسی نئی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا‘ ادارہ آئینی حدود میں کام کرے۔ دریں اثناءپاکستان مسلم لیگ ہم خیال کے چیئرمین حامد ناصر چٹھہ نے کہا ہے کہ اداروں کے تصادم سے مڈٹرم انتخابات کا کوئی سکوپ نہیں‘ حالات ٹھیک نہ ہوئے تو لوگ جمہوریت سے بدظن ہو جائیں گے‘ ملکی استحکام کیلئے دونوں بڑی جماعتوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے‘ ججز کی تعیناتی کے صدارتی حکم کی معطلی کے بعد ملکی حالات تبدیل ہو چکے ہیں‘ پیپلزپارٹی ماضی کی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھ رہی۔ جمعیت علماءاسلام کے مرکزی رہنما سابق رکن قومی اسمبلی حافظ حسین نے کہا ہے کہ موسم بہار کی آمد کے ساتھ ہی آئین کی بحالی ناگزیر ہے جبکہ مکافات عمل کا آغاز ہو چکا ہے‘ اداروں کو ایک دوسرے کے سامنے صف آراءکرنے والے شکست سے دوچار ہونگے۔ انہوں نے کہاکہ آئین کے ساتھ ویلنٹائن ڈے منانے والوں کو منہ کی کھانی پڑے گی۔ انہوں نے مزید کہاکہ سپریم کورٹ کے ججز نے ”رت جگا“ مناکر ایمرجنسی کو روک دیا۔