ہائیکورٹس کی طرح فیڈرل شریعت کورٹ بھی ججوں سے خالی

15 فروری 2010
اسلام آباد (چودھری صداقت) فیڈرل شریعت کورٹ بھی ججوں سے خالی ہوگئی‘ شریعت پٹیشنوں اور سزائے موت کے خلاف اپیلوں کی سماعت رک گئی‘ زیرالتواءمقدمات کی تعداد بھی 2000 تک پہنچ گئی۔ تفصیلات کے مطابق فیڈرل شریعت کورٹ بھی ہائی کورٹس کی طرح ججوں کی کمی کا شکار ہے۔ عدالت میں کل ججوں کی تعداد 8 ہے جس میں سے 5 عام اور تین عالم جج ہوتے ہیں مگر شریعت کورٹ میں اس وقت چیف جسٹس آغا رفیق اور ایک عام جج سید افضل حیدر موجود ہیں جبکہ ججوں کی چھ سیٹیں خالی ہیں۔ قواعد کے مطابق شریعت پٹیشنوں کی سماعت صرف تین رکنی فل بنچ کر سکتا ہے جس میں ایک عالم جج کا ہونا ضروری ہے جبکہ بنچ مکمل نہ ہونے اور عالم جج کی عدم تعیناتی کی وجہ سے ایک عرصہ سے شریعت پٹیشنوں کی سماعت نہیں ہو سکی۔ دوسری طرف حدود مقدمات میں ماتحت عدلیہ کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت کے خلاف اپیلوں کی سماعت بھی تین رکنی فل کورٹ کرسکتا ہے جو نہ ہونے سے ان اپیلوں کی سماعت بھی رکی ہوئی ہے۔