ملک بچانے اور نظام مصطفی کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے : استحکام پاکستان کانفرنس

15 فروری 2010
راولپنڈی (نوائے وقت رپورٹ) سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین اور مرکزی جمعیت علماءپاکستان کے صدر صاحبزادہ حاجی محمد فضل کریم نے کہا ہے کہ حکمرانوں نے قانون کی حکمرانی ختم کر کے اداروں میں ٹکراو کی کیفیت پیدا کر دی ہے‘ دہشت گرد پاکستان کو تباہ کرنے کے درپے ہیں‘ ہم دہشت گردوں اور اسمبلیوں میں بیٹھے ان کے سرپرستوں کے عزائم ناکام بنائیں گے اور استحکام پاکستان اور نظام مصطفی ٰ کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے‘ ان مقاصد کے لئے علماءو مشائخ حجروں اور خانقاہوں سے نکل کر رسم شبیری ادا کریں گے۔ وہ اتوار کی سہ پہر یہاں عیدگاہ لال کڑتی میں پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ اور امام احمد رضا بریلویؒ کی یاد میں مرکزی جے یو پی ضلع راولپنڈی کے زیراہتمام استحکام پاکستان کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے جس کی صدارت جمعیت کے ضلعی صدر مولانا شیر محمد رضوی نے کی۔ عالمی تنظیم اہلسنت کے امیر پیر افضل قادری‘ مرکزی جمعیت علماءجموں و کشمیر کے صدر پیر سید عارف گیلانی‘ جے یو پی پنجاب کے صدر پیر سید محمد محفوظ مشہدی‘ چیف آرگنائزر پیر سید اجمل، مفتی ظفر الحق، جماعت اہلسنت کے پیر ندیم سلطان‘ قاری رفیق، صاحبزادہ اخلاق، صاحبزادہ سعادت المصطفیٰ نے بھی خطاب کیا۔ صاحبزادہ حاجی فضل کریم نے مزید کہا کہ ہمارے بزرگوں نے پاکستان بنایا‘ ہم ہی اسے بچائیں گے‘ قیام پاکستان کے مخالفین کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے‘ سنی اتحاد کونسل آئندہ بلدیاتی انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملکی معیشت تباہ اور داخلی اور خارجی پالیسیاں ناکام ہو چکی ہیں‘ حکمران اپنی تجوریاں بھر کر بیرونی بنکوں میں جمع کرا رہے ہیں‘ دہشت گردی عروج پر ہے ان حالات میں قیام پاکستان کے بنیادی مقاصد کی تکمیل کے لئے نظام مصطفی ٰ کا نفاذ ناگزیر ہے‘ پیرمحمد افضل قادری نے کہا ہے کہ استحکام پاکستان کے لئے پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے‘ پاکستان کلمہ طیبہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا اور اسی بنیاد پر قائم رہ سکتا ہے‘ آج پاکستان کی سلامتی کو خطرات درپیش ہیں‘ نظام مصطفی ٰ کے نفاذ کے ذریعے ہی ملک کو مضبوط اور مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔ پیر سید عارف گیلانی نے کہا کہ اس وقت ملک کو سنگین خطرات لاحق ہیں‘ نظام مصطفی ٰ کے نفاذ کے ذریعے ہی ان خطرات کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ مرکزی جے یو پی کراچی سے کشمیر تک نظام مصطفی ٰ کے لئے اہم کردار ادا کرے گی۔