عدلیہ سے یکجہتی: جماعت اسلامی کا یوم احتجاج ، تحریک انصاف کی ریلیاں

15 فروری 2010
لاہور (رپورٹنگ ٹیم / نیوز ایجنسیاں) عدلیہ سے اظہار یکجہتی کےلئے جماعت اسلامی نے ملک بھر میں یوم احتجاج منایا۔ اس دوران لاہور‘ اسلام آباد‘ کراچی‘ گوجرانوالہ‘ شیخوپورہ‘ ملتان‘ بہاولپور اور دیگر شہروں میں ریلیاں نکالی اور مظاہرے کئے گئے۔ شرکاءنے حکومت کےخلاف زبردست نعرے لگائے جبکہ صوبائی دارالحکومت میں پاکستان تحریک انصاف ، خاکسار تحریک اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھی مظاہرہ کیا۔ لاہور پریس کلب کے باہر جماعت اسلامی کے مظاہرے سے ضیاءالدین انصاری، لیاقت بلوچ، امیرالعظیم، فرید پراچہ و دیگر نے کہا کہ این آر او پر عدالتی فیصلے کے بعد سے این آر او زدہ حکمرانوں کو آزاد عدلیہ ہضم نہیں ہو رہی۔ ہم عوام سے ملکی قومی دولت لوٹنے والوں سے پائی پائی کا حساب لینگے۔ دریں اثناءتحریک انصاف پنجاب کے صدر احسن رشید و دیگر کی قیادت میں سنگھ پورہ چوک سے انجینئرنگ یونیورسٹی تک اور علامہ اقبال ٹاﺅن میں سعد بن اعظم کی قیادت میں ریلیاں نکالی گئیں۔ شرکاءنے عدلیہ کے حق مےں اور حکومت کےخلاف زبردست نعرے لگائے۔ مقررین نے کہا کہ زرداری عدلیہ پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ قوم عدلیہ کی طرف بڑھنے والا ہاتھ توڑ دے گی۔ خاکسار تحریک کی قائمقام صدر صبیحہ ارشد کی قیادت میں لاہور پریس کلب کے باہر مظاہرے میں استقلال پارٹی کے رہنماءمیاں عرفان، اساتذہ تنظیم کے رہنماءاعظم بٹ و دیگر بھی موجود تھے۔ اس موقع پر مقررین نے اعلان کیا کہ عدلیہ کے تحفظ کےلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے۔ ایوان صدر غیرآئینی اقدامات سے اجتناب کرے۔ گوجرانوالہ میں سیالکوٹی پھاٹک سے ڈاکٹر عبیداللہ، فرمان بٹ، آصف نعیم و دیگر کی قیادت میں شباب ملی کے سینکڑوں کارکنوں نے سیالکوٹی دروازے تک ریلی نکالی۔ مقررین نے کہا کہ ہم عدلیہ کی آزادی پر قدغن نہیں لگنے دینگے۔ شیخوپورہ میں جماعت اسلامی کے ضلعی امیر چودھری شیر محمد نے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زرداری کی حکومت منطقی انجام کو پہنچنے والی ہے۔ حافظ آباد میں چیف جسٹس افتخارکے حق میں وینکے چوک میں مظاہرہ کیا گیا۔ اس موقع پر ٹائر نذر آتش کئے گئے۔