عدلیہ سے معاملہ مسئلہ کشمیر نہیں جو حل نہ ہو‘ ججوں کی تقرری کا فیصلہ سپریم کورٹ کرے گی : وزیراعظم گیلانی

15 فروری 2010
اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی+ ایجنسیاں) وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ عدلیہ کے ساتھ معاملات کوئی مسئلہ کشمیر نہیں جن کاکوئی حل تلاش نہ کیا جاسکے کوئی ایسی غلطی نہیں ہوتی جس کی اصلاح نہ کی جا سکے‘ حکومت کے فیصلے کبھی درست اورکبھی غلط ہو جاتے ہیں‘ ہنگامی حالت کے نفاذ کے بارے میں اطلاعات محض ڈس انفارمیشن کا حصہ ہیں‘ ملک کو‘جمہوریت اور نظام کو کوئی خطرہ لاحق نہیں‘ فیصلہ کرنا عدالت کا کام ہے‘ ہم عدالت میں اپنا موقف پیش کریں گے‘ موجودہ صورت حال سے سسٹم غیر مستحکم نہیں ہو گا۔ یہ تاثر بھی نہیں رہنا چاہئے‘ چھوٹے چھوٹے معاملات سے ملک یا نظام کے لئے کوئی خطرہ پیدا نہیں ہو تا‘ وہ ایس اوایس چلڈرن ویلج کے دورے کے دوران صحافیوں سے بات چیت کر رہے تھے۔ جب ان سے چیف آف آرمی سٹاف اور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی کی مدت ملازمت میں توسیع کے متعلق فیصلے کے بارے میں استفسار کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ وقت آنے پر کیا جائے گا‘ جب کوئی فیصلہ کریں گے تو کسی سے چھپائیں گے نہیں سب کو پتہ چل جائے گا۔ وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات بہتر بنانے کی ضرورت ہے ‘سیکرٹریوں کی سطح پر بات چیت کو نتیجہ خیز ہونا چاہئے‘ مذاکرات میں پاکستان کو درپیش آبی مسائل سمیت تمام بنیادی معاملات اٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ حکومتی فیصلے پر قانونی ماہرین کی مختلف آراءہیں‘ کچھ ماہرین حکومت کے فیصلے کو درست قرار دے رہے ہیں‘ اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تقرری کا فیصلہ اب سپریم کورٹ نے کرنا ہے۔ ملک ، جمہوریت اور نظام کو کوئی خطرہ نہیں، ہنگامی حالت کے نفاذ کے متعلق اطلاعات محض ڈس انفارمیشن ہیں۔ ہم تمام مسائل کو حل کریں گے اور سب ٹھیک ہوجائے گا‘ میڈیا ہمیں ایک دوسرے کا مخالف نہ سمجھے، سسٹم مضبوط ہے اور ملک ، جمہوریت اور نظام کو کوئی خطرہ نہیں ہے، سب اپنے اپنے دائرہ اختیار میں کام کر رہے ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ کے دو جسٹسز کے حوالے سے پیدا ہونے والے بحران سے متعلق مختلف سوالات پر وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے ایک فیصلہ کیا جس کی مختلف ماہرین مختلف تشریح کر رہے ہیں۔ بطور چیف ایگزیکٹو اس معاملے پر ایڈوائس دینا ان کا کام تھا اور انہوں نے عدالت عظمیٰ کی جانب سے بھیجے گئے نام دوبارہ غوروخوض کےلئے عدالت عظمیٰ بھجوائے گئے جو اسی طرح واپس بھیج دیئے گئے۔ فیصلے تو آتے رہتے ہیں کوئی ایسی غلطی نہیں جس کی تصحیح نہ ہوسکے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم عدلیہ کے خلاف کیوں ہونے لگے جب ہم نے ان کے حق میں تحریکیں چلائیں، جلوس نکالے، شہادتیں دیں اور جیلوں میں گئے۔ اس سوال پر کہ آیا بعض ماہرین کے مطابق موجودہ بحران پر عدالت صدر اور وزیراعظم کونااہل قرار دے سکتی ہے تو انہوں نے کہا کہ فیصلہ کرنا عدالت کا کام ہے ہم اپنا موقف عدالت میں پیش کریں گے‘ سسٹم غیر مستحکم نہیں ہوگا۔ یہ تاثر نہیں دینا چاہئے کہ چھوٹے چھوٹے معاملات سے ملک یا نظام کےلئے کوئی خطرہ پیدا ہوگا۔ ہم جذباتی قوم ہیں، ہمارے ملک میں زیادہ عرصہ مارشل لاءرہا اور جمہوریت کو پنپنے کا موقع نہیں ملا۔ ہم میڈیا ایکٹوزم اور عدالتی ایکٹوزم کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ این آر او اسمبلی میں پیش ہوا تھا جس کی اسمبلی نے توثیق نہیں کی اور ہم نے عدالت میں بھی اس کا دفاع نہیں کیا‘ ہم نے کوئی فیصلہ واپس نہیں لیا ‘ رینٹل پاور بھی لگ رہے ہیں۔ وزیراعظم نے ہنگامی حالت نافذ کئے جانے کی اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا یہ محض ڈس انفارمیشن ہے، میں ملک کا چیف ایگزیکٹو ہوں اور یہاں بے سہارا بچوں کے ساتھ وقت گذار رہا ہوں۔ نواز شریف کے ساتھ حالیہ ملاقات کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ انہوں نے فلسطینی صدر کے اعزاز میں دیئے جانے والے عشائیہ میں انہیں شرکت کی دعوت دی تھی اور اس موقع پر ان سے موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ چیف آف آرمی سٹاف اور ڈی جی آئی ایس آئی کی مدت ملازمت میں توسیع کے متعلق فیصلے کے بارے میں وزیراعظم نے کہا کہ اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ وقت آنے پر کیا جائے گا‘ جب کوئی فیصلہ کریں گے تو چھپائیں گے نہیں سب کو پتہ چل جائے گا۔ ہلمند میں طالبان کے خلاف جاری آپریشن کے پاکستان پر اثرات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوجی قیادت افغانستان میں اتحادی ممالک کی فوجی قیادت سے مکمل رابطے میں ہے اور دونوں ایک دوسرے کو اعتماد میں لیتے ہیں۔ ہم نے اس حوالے سے اپنے خدشات سے پہلے ہی آگاہ کردیا تھا۔ اٹارنی جنرل نے اتوار کی صبح ان سے ملاقات کی ہے اور انہیں موجودہ صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی ہے‘ وہ چیف جسٹس سے بھی ملیں گے۔ وزیراعظم نے اس موقع پر پونا میں دہشتگردی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہر قسم کی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کو تعلقات بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے خارجہ سیکرٹریوں کی سطح پر بات چیت کے نتیجہ خیز ہونے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں پاکستان آبی مسائل سمیت تمام بنیادی معاملات اٹھائے گا۔ وزیراعظم گیلانی نے بے سہارا اور یتیم بچوں کیلئے قائم ایس او ایس چلڈرن ویلج کا دورہ کیا جہاں انہوں نے بچوں کے ساتھ کافی وقت گذارا اور ان میں تحائف تقسیم کرنے کے علاوہ ان کے ساتھ مل کر کھانا بھی کھایا۔ وزیراعظم اپنی گاڑی خود چلا کر چلڈرن ویلج پہنچے۔ وزیراعظم مختلف بچوں سے ملے اور ان کی سرگرمیوں کے بارے میں دریافت کیا۔ اس موقع پر چلڈرن ویلج کی چیئرپرسن نسیم مظفر نے وزیراعظم کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ایس او ایس کے 8 چلڈرن ویلج ملک بھر میں کام کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے ایک فیملی ہوم میں کچھ وقت بچوں کے ساتھ گزارا جہاں انہوں نے بچوں میں تحائف تقسیم کئے اور ان کے ساتھ کھانا کھایا۔ وزیراعظم نے چلڈرن ویلج کیلئے 20 فریج فراہم کرنے کا اعلان کیا۔