شمالی وزیرستان میں ڈرون حملہ‘ 7 شدت پسند جاں بحق

15 فروری 2010
میرانشاہ + پشاور (ایجنسیاں + مانیٹرنگ نیوز) شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے مشتبہ ٹریننگ کمپاﺅنڈ پر امریکی جاسوس طیاروں کے میزائل حملے میں 7 شدت پسند جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔ باجوڑ ایجنسی میں خودکش جیکٹ پہنتے ہوئے بارودی مواد پھٹنے سے حملہ آور اور اسکے تین ساتھی مارے گئے۔ خیبر ایجنسی میں 2 حکومتی حامیوں سمیت 3 افراد قتل کر دئیے گئے۔ 4 کمانڈروں سمیت 11 شدت پسند گرفتار کرلئے گئے۔ کالعدم تحریک طالبان نے بنوں بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کر لی۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق حکام نے بتایا ہے کہ امریکی ڈرون طیاروں نے میر علی کے قریب زوربابر عیدک گاﺅں میں جنگجوﺅں کے کمپاﺅنڈ پر 2 میزائل داغے‘ حملے میں 7 مشتبہ شدت پسند مارے گئے۔ ذرائع کے مطابق یہ گھر طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے جنگجوﺅں کا تربیتی مرکز تھا۔ حملے میں متعدد مکانات تباہ ہو گئے۔ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ قبل ازیں شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں امریکی جاسوس طیاروں نے نچلی پروازیں کیں جس سے لوگوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور وہ گھروں سے باہر نکل آئے۔ انہوں نے امریکہ کے خلاف سخت نفرت کا اظہار کرتے ہوئے نعرے بازی کی۔ ذرائع کے مطابق بعض علاقوں سے امریکی جاسوس طیاروں پر فائرنگ بھی کی گئی۔ باجوڑ ایجنسی تحصیل خار کے علاقے مامنیزوں میں خودکش حملہ آور جیکٹ پہنتے ہوئے بارودی مواد پھٹ جانے سے حملہ آور ساتھیوں سمیت مارا گیا۔ دوسری طرف ماموند سکیورٹی فورسز نے بارود سے بھری گاڑی قبضے میں لے کر بارودی مواد ناکارہ بنا دیا۔ تحصیل ماموند میں دو بم ناکارہ کر دئیے گئے۔ چہارمنگ میں سکیورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کے مشتبہ ٹھکانوں پر گولہ باری کی جس میں ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔ باجوڑ ایجنسی سے ایک شدت پسند کی نعش ملی ہے جسے فائرنگ کرکے قتل کیا گیا۔ بنوں میں بارود سے بھری گاڑی کے داخلے کی اطلاع کے بعد حکام نے اتوار کے روز صبح 8 بجے سے دن 11 بجے تک کرفیو نافذ کر دیا بعد میں حکام نے شہر کو کلیئر قرار دے دیا۔ میرعلی سے نامہ نگار کے مطابق حکیم اللہ محسود کے ذاتی ترجمان اور خودکش بمباروں کو تربیت دینے والے فدایان اسلام نامی تنظیم کے ماسٹر مائنڈ قاری حسین نے نامعلوم مقام سے واکی ٹاکی پر خصوصی انٹرویو میں نبوں پولیس پر خودکش حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بنوں پولیس پر خودکش حملے باجوڑ میں مجاہدین کا بدلہ لینے کی پہلی جوابی کارروائی ہے۔ انہوں نے حکومت کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکمران امریکہ کے آلہ کار ہیں اور بدترین نتائج کے لئے تیار ہو جائیں۔ حکیم اللہ محسود کے بارے میں شوریٰ مجاہدین کا اٹل فیصلہ ہے کہ وہ فی الحال میڈیا کے سامنے نہ آئیں تحریک طالبان ضرورت محسوس کرنے پر امیر حکیم اللہ محسود کو میڈیا کے سامنے لائے گی۔ کوہاٹ میں تخریب کاری کی کوشش ناکام بناتے ہوئے راکٹ ناکارہ بنا دیا گیا جبکہ گرینڈ سرچ آپریشن کے دوران افغان پیش امام سمیت 18 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔