صدارتی انتخاب میں دھاندلی ہوئی‘ نتائج کو عدالت میں چیلنج کروں گی : یوکرائینی وزیراعظم

15 فروری 2010
کیو (آئی این پی) یوکرائن کی وزیر اعظم یولیا تائی مو شینکو نے صدارتی انتخابات میں اپنی شکست کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ۔ ایک روسی خبر رساں ادارے کے مطابق یوکرائن میں 7فروری کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے وزیراعظم یولیاتائی نے شکست تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔تائی مو شینکو نے کہا کہ وہ اپنی شکست کو عدالت میں چیلنج کریں گی۔ابتدائی نتائج کے مطابق ان کے حریف وکٹر یانو کووچ کو ان پر 3.5 فیصد ووٹوں کی سبقت حاصل ہے۔تائی مو شینکو نے سرکاری ٹی وی پر مختصر خطاب میں کہا کہ ان کے پاس دھاندلی کے ثبوت ہیں جس کی بنیاد پر وہ عدالت سے رجوع کریں گی۔ انہوں نے عوام سے حمایت کی اپیل کی لیکن ان پر زور دیا کہ وہ مظاہروں سے پرہیز کریں۔بین الاقوامی مبصرین نے انتخابی نتائج کو منصفانہ قرار دیا تھا تاہم خیال ہے کہ فاتح کا اعلان عدالتی کاروائی کے بعد سامنے آئے گا ادھر نومنتخب صدر وکٹریانووچ نے وزیراعظم کی جانب سے انتخابی نتائج تسلیم نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئےاسے جمہوریت کے خلاف اقدام قرار دیا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم سے کہا کہ اگر وہ جمہوریت اور عوامی رائے کا احترام کرتی ہے۔ تو عدالت سے رجوع کرنے اور شکست سے انکار کے بجائے اپوزیشن میں بیٹھ کر اپنا کردار ادا کریں۔ جمہوری لیڈر ہمیشہ عوام کی رائے اور انتخابی نتائج کو تسلیم کرتے ہیں۔ دوسری جانب غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق نیٹو کے سیکرٹری جنرل آندرس فوگ راسموسن نے وکٹر یانوکوچ کے نام ایک تہنیتی پیغام میں کہا ہے کہ وہ نیٹو کی جانب سے صدارتی انتخابات میں کامیابی پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کر تے ہیں۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے انتخابات کو آزادانہ ‘ شفاف اور جمہوری قرار دیتے ہوئے کہا کہ یوکرائن کے حالیہ صدارتی انتخابات تمام خطے کیلئے ایک قابل تقلید مثال ہے۔ نیٹو یوکرائن کے ساتھ سٹریٹجک پارٹنر شپ کو مزید گہرا کرنے کے اپنے عزم پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نومنتخب صدر وکٹر یانوکوچ کے ساتھ قریبی تعاون کریں گے۔ امریکی صدر بارک اوباما‘ یورپی کمیشن کے صدر‘ فرانس اور جرمنی کے سربراہوں نے یوکرائن کے انتخابات کو شفاف اور جمہوری قرار دیا تھا۔