ایک اکیلا تھک جائے گا

15 فروری 2010
اب کے برس امام مظلوم کے چہلم پر ایک عجب ’اہتمام‘ دیکھنے میں آیا۔ گجرات کی تحصیل کھاریاں کے گاوں سریعہ میں پندرہ بے گناہوں کا خون بہایا گیا۔ ملزموں نے جدید ترین خود کار اسلحہ سے پندرہ منٹ بے گناہ آدم زادوں کا شکار کیا۔ سفاکی کی انتہا دیکھیں کہ انہوں نے بعض افراد کے منہ میں رائفل کی نالی ڈال کر بھی اپنا فائرنگ کا شوق پورا کیا۔ ملزمان پندرہ افراد کو موت کے گھاٹ اتار کر بے خوفی سے پیدل ہی فرار ہوئے۔ انہیں بھاگنے کی کوئی جلدی نہیں تھی۔ اب موقعہ واردات پر پولیس کی آمد ہوئی۔ پولیس سب سے پہلا کام یہی کرتی ہے کہ نعشوں کا پوسٹ مارٹم کروائے۔ لوگوں نے پولیس کو نعشیں نہ اٹھانے دیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ جب خادم پنجاب یہاں خود پہنچیں گے تو پھر نعشیں اٹھانے دیں گے۔ اللہ کا شکر ہے کہ حکمرانوں میں سے کسی کا اعتبار تو قائم ہے۔ چوبیس گھنٹے تک مذاکرات ہوتے رہے۔ اگلے روز ڈی آئی جی ذوالفقار چیمہ کی یقین دہانی مان لی گئی کہ ملزمان کو کیفر کردار تک ضرور پہنچایا جائے گا۔ پھر بھی صرف چھ مقتولین کے ورثاءنے قتل کا مقدمہ درج کروایا۔ نو مقتولین کے ورثاءکی جانب سے اندراج مقدمہ سے بدستور نکالا ہے۔ کسی کے خلاف ایف آئی آر درج کروائے بغیر ہی نو نعشوں کو دفنا دیا گیا ہے۔ اب بھی کہو گے کہ ساحر لدھیانوی کفر بکتا ہے۔
فطرت کی مثیت بھی بڑی چیز ہے لیکن
فطرت کسی بے بس کا سہارا نہیں ہوتی
کیا گجرات کوفے کا جڑواں بھائی ہے۔ ادھر سے کیسے کیسے دلخراش واقعات سننے میں آتے رہتے ہیں۔ بھینسیں چرانے پر جھگڑا شروع ہوا۔ اس جھگڑے نے طول پکڑ لیا۔ دونوں جانب سے کئی جوان جہان لقمہ اجل بن گئے۔ بہت سی کلیاں بن کھلے مرجھا گئیں۔ بندوق والوں کی پنچایت بیٹھی۔ پنچایت میں بھی گولیوں کی بوچھاڑ سے ہی صلح کی کوشش ہوئی لیکن یہ صلح موت سے تھی۔ دونوں طرف کے لوگ زندگی ہار بیٹھے۔
ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے ۔ ایک شخص کسی کے ہاں ملازم تھا۔ پھر وہ نوکری چھوڑ کر وہاں سے چلا گیا اور اپنا کام دھندہ شروع کر دیا۔ وہ ایک روز اپنے سابق مالک کے پاس پہنچا سابق مالک کو چودھری عارف فرض کرلیتے ہیں اور سابق ملازم کو خدا بخش چودھری عارف کو خدا بخش کے حالات قدرے بہتر محسوس ہوئے۔ دریافت پر خدا بخش نے بتایا کہ وہ سارا دن کسی فیکٹری میں کام کرتا ہے اور شام کو ریڑھی بھی لگاتا ہے۔ فیکٹری سے ملنے والی تنخواہ سے گزر گزران ہو جاتی ہے اور ریڑھی کی تمام آمدن پس انداز کر لیتا ہوں۔ ایک سال بعد دونوں کی پھر ملاقات ہوئی۔ اب خدا بخش فیکٹری کی ملازمت چھوڑ کر فروٹ کی چھوٹی سی دکان کھول بیٹھا تھا۔ چند برسوں میں خدا بخش فروٹ کی دکان کو فروٹ منڈی کی آڑھت میں بدل لینے میں کامیاب ہوگیا۔ پھر ایک آدھ برس میں اس نے چھوٹی سی گاڑی بھی خرید لی۔ کچھ سالوں بعد خدا بخش چودھری عارف کو سلام کرنے نہیں بلکہ ملنے آیا۔ اب وہ اپنے آپ کو چودھری عارف کا ہم پلہ سمجھتا تھا۔ اگلے برس خدا بخش کی گاڑی بھی ایک گن مین بھی دیکھا گیا۔ پوچھنے پر اس نے بتایا کہ یہ صرف شوشا کے لئے ہے۔ ورنہ ایسی کوئی خاص بات نہیں۔ ٹھیک چار بس بعد خدا بخش کی گاڑی بھی پجیرو تھی اور گن مین بھی تعداد میں پورے چار تھے۔ اکڑی ہوئی گردن کے نیچے کڑکڑ کرتے کپڑے پہنے وہ بڑی تمکنت سے کہہ رہا تھا کہ ویسے تو اللہ تعالیٰ کا ہر طرح سے فضل و کرم ہے، بس ایک حسرت دل میں لئے پھرتا ہوں کہ اللہ مجھے کوئی دشمن دیدے۔ وہ مجھے مارے یا میں اسے ماروں۔ دشمن داری کے بغیر نہ ہی زندگی میں کوئی مزا ہے اور نہ ہی سوسائٹی میں کوئی عزت مقام۔ یہ گجرات کے صرف ایک شخص کا قصہ کہانی نہیں۔ وہاں یہ ایک عام چلن ہے۔ وہاں دشمنیاں بھی بیٹوں کی طرح ہی لاڈ پیار سے پالی جاتی ہیں۔
سریعہ گاوں کے دو متحارب گروپوں میں قتل گری کا سلسلہ گذشتہ بارہ برسوں سے جاری ہے۔ 47 آدمی قتل ہوچکے ہیں۔ تازہ خونی ہولی کے ملزمان کے خلاف پہلے ہی قتل اغواء وغیرہ کے 70 مقدمات درج ہیں۔ ان 15 بے گناہوں کی کسی کے ساتھ دشمنی نہیں تھی۔ ان کا خون محض دوسرے گروپ کو خوفزدہ کرنے کے لئے بہایا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب سریعہ گاوں پہنچ بھی گئے۔ انہوں نے اعلان بھی کر دیا کہ وہ قاتلوں کی گرفتاری تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ پندرہ دنوں میں ملزمان کی گرفتاری نہ ہونے کی صورت میں دوبارہ سریعہ آنے کا وعدہ بھی ہے۔ ڈی آئی جی ذوالفقار چیمہ پاکستان کے ذہین ترین اور ایماندار ترین پولیس افسروں میں سے ایک ہیں لیکن اکیلا پولیس جرائم کنٹرول کر سکتی ہے حضور! سب کچھ بدلنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے معاشی انصاف کی ضرورت ہے۔ زمین کی ملکیت کی حد مقرر کرنے کی ضرورت ہے۔ قانون کی حکمرانی کی ضرورت ہے۔ خاندانی جماعتوں کی بجائے سیاسی جماعتوں کی ضرورت ہے تھنک ٹینکس کی ضرورت ہے۔کتابوں کی ضرورت ہے۔ علم اور علم والوں کے احترام کی ضرورت ہے۔ جب تک ارشاد احمد حقانی کے جنازے میں شرکاءکی تعداد ٹیپو ٹرکاں والے کے جنازے سے کم رہے گی، پندرہ بے گناہ افراد کے قتل جیسے واقعات ہوتے رہیں گے۔ انہیں کوئی نہیں روک سکتا۔ نہ ہی شہباز شریف جیسا اکیلا خادم پنجاب اور نہ ہی ذوالفقار چیمہ جیسا تنہا مستعد پولیس افسر۔ خادم پنجاب کو دیکھ کر دل شیر ہوجاتا ہے چلو اپنے دامن میں کچھ تو ہے لیکن کیا کرے گا یہ اکیلا بیچارہ۔ یہی بات سچ ہے کہ ایک اکیلا تھک جائے گا مل کر بوجھ اٹھانا۔ سارا معاشرہ مل جل کر ہی کچھ کر سکتا ہے۔ ورنہ کچھ نہیں ہوگا۔ کچھ بھی تو نہیں ہوگا۔