تین روزہ نظریہ پاکستان کانفرنس کا اختتامی مرحلہ

15 فروری 2010
شاہراہ قائداعظم محمد علی جناح لاہور کے پہلو میں ایستادہ ایوانِ کارکنان تحریک قیام پاکستان میں نظریہ پاکستان ٹرسٹ اور پاکستان موومنٹ ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے گیارہ‘ بارہ اور تیرہ فروری 2010ءکو جو تین روزہ نظریہ پاکستان کانفرنس منعقد کی گئی وہ پروگرام کے مطابق اپنی دس نشستوں کے کامیاب انعقاد کے بعد 13 فروری کو تین بجے سہ پہر ایک ظہرانے پر اختتام پذیر ہو گئی‘ اس نشست میں صدارت کے فرائض اس کانفرنس کے سرپرست اور میزبانِ خصوصی جناب مجید نظامی نے ادا کئے جبکہ شمال مغربی سرحدی صوبہ کے گورنر اور قیام پاکستان کے بعد پاکستانی پنجاب کے پہلے مسلمان گورنر اور بابائے قوم حضرت قائداعظم محمد علی جناح کے مدبر و مستحکم ساتھی سردار عبدالرب نشتر کے بھتیجے جناب اویس احمد غنی مہمان خصوصی تھے۔ ڈاکٹر ایم اے صوفی نے اس نشست میں اپنے خیر مقدمی خیالات ادا کرنے کا فریضہ ادا کیا اور گورنر صوبہ سرحد کو باور کرایا کہ کامرس کالج پشاور یونیورسٹی میں بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح کی تصویر آویزاں کرائی جائے کیونکہ دو قبائل کے ساتھ قائداعظم کے جو دو پورٹریٹ آویزاں تھے وہ اتار لئے گئے ہیں ڈاکٹر صوفی نے وہ بھی بتایا کہ جناب قائداعظم نے کتنی بار صوبہ سرحد کا دورہ کیا‘ ان سے پہلے ایک نشست میں پنجاب کے ایک سیکرٹری تعلیم نے بتایا تھا کہ جناب قائداعظم نے 29 مئی 1939ءمیں جب اپنی وصیت تیار کرائی تو اپنی منقولہ اور غیر منقولہ املاک و جائیداد و اثاثہ کا تیسرا حصہ اسلامیہ کالج پشاور کے لئے وقف فرما دیا۔ پھر خان عبدالقیوم خان نے 1947ءسے 1953ءکے دوران سرحد میں اپنی وزارتِ اعلیٰ کے عہد میں جناب قائداعظم کے ایما پر پشاور یونیورسٹی کے نام سے صوبہ سرحد کی پہلی یونیورسٹی قائم کی جس کا کنونشن ہال تعمیر کرنے کے لئے مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح نے 1957ءمیں پشاور یونیورسٹی کو ایک کروڑ 11 لاکھ روپے کا پہلا چیک عطا کیا۔ آج اختتامی نشست میں جناب مجید نظامی اور گورنر اویس احمد غنی کی تقاریر نے بھی حُب الوطنی کی فضا میں سامعین کو نہایت جذباتی انداز عطا کئے رکھا۔ جناب مجید نظامی نے واشگاف الفاظ میں واضح کیا کہ بھارت‘ اسرائیل اور امریکہ پاکستان کو ختم کرنے پر تُلے ہوئے ہیں لیکن پاکستان کے ان دشمنوں کو شاید علم نہیں کہ پاکستان کے بہادر اور شجاع عوام پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کو نابود کر دینے کا حوصلہ اور آرٹ رکھتے ہیں اور میں آج بھی پاکستان کے بدترین اور غلط فہم دشمنوں پر عیاں کر دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان اللہ تبارک وتعالیٰ کے بے پایاں فضل و کرم سے مشیتِ ایزدی ہی سے وجود میں آیا اور اللہ تبارک وتعالیٰ کے فضل و نوازشات ہی سے حشر تک قائم و دائم رہے گا۔ اس تقریب میں ایس ایم ظفر ایڈووکیٹ کو بھی سامعین سے خطاب کر لینے کے لئے 5 منٹ دیے گئے تھے چنانچہ انہوں نے فرمایا کہ پاکستان کا مقصد اسلام کی برکات کو جدید نظام کے ذریعے عوام تک پہنچانا ہے‘ آج صدر مجلس سے پہلے گورنر اویس احمد غنی نے نہایت تحمل اور دھیمے لہجے میں ان حالات کو بیان کیا جو اس صوبے کے مختلف علاقوں میں شورش پسندوں نے پیدا کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ دوسری جنگِ عظیم میں فوجی افسروں کے مارے جانے کا تناسب 7 فیصد تھا مگر شورش پسندوں کے خلاف ہمارے فوجی افسروں کی شہادت کا تناسب 17 فیصد رہا‘ اس پر ہال نعرہ ہائے تکبیر سے گونجتا رہا۔ انہوں نے کچھ مدت پہلے گورنر ہاوس لاہور میں منعقدہ ایک تقریب میں بھی کچھ حوصلہ افزا واقعات پر روشنی ڈالی تھی اور سامعین کے دلوں میں ایک ولولہ تازہ پیدا ہو گیا تھا‘ اس تقریب کے دوران بھی وہی کیفیت پیدا ہو گئی انہوں نے کہا کہ عوام اور فورسز کے علاوہ خفیہ ایجنسیوں نے بھی اس جنگ میں ناقابل فراموش قربانیاں دی ہیں۔ بہرحال واقعہ تو وہ ہے کہ پاکستان اللہ تبارک وتعالیٰ کے بے پایاں فضل و کرم سے وجود میں آیا اور وہی اس کی حفاظت کرے گا (انشاءاللہ) ۔