شیخ رشید احمد.... اندازے کی غلطی

15 فروری 2010
رفیق غوری ۔۔۔
عوامی مسلم لیگ کے بانی سربراہ اور وطن عزیز کی مشہور شخصیت شیخ رشید احمد پر گذشتہ دنوں راولپنڈی میں جو حملہ ہوا اس میں بے شک شیخ صاحب بچ گئے مگر ان کے ذاتی محافظ جنہیں وہ اپنا دوست کہتے ہیں اپنی جانیں ہار گئے۔ یہ خبر جہاں سے بنی، جہاں سے پڑھی جہاں سے دیکھی جس نے سنی، جس نے دیکھی جس نے پڑھی وہ ایک لمحے کے لئے ہی سہی ضرور سکتے میں آ گیا اور ہر کسی کی زبان سے اس طرح کے جملے ادا ہوئے۔ یا اللہ خیر! یہ کیا ہو رہا ہے۔ ہمارے ہاں یہ سب کون کر رہا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔
اس کے بعد سارے میڈیا پر یہی موضوع چھڑ گیا۔ شیخ رشید پر حملہ ہوا ہے۔ انہیں اس پر ردعمل دینے کا پورا حق حاصل ہے ان کے ورکر یا حامی بھی اس پر غم وغصہ کا اظہار کر سکتے ہیں مگر ایک اور بات جو آج تک سمجھ میں نہیں آ سکی کہ ہمارے سیاستدان اس واقعہ کی تحقیقات کا انتظار کرنے کی بجائے خود کیوں اپنی اپنی رائے دینے لگے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ چونکہ جناب شیخ رشید احمد محفوظ رہے ہیں ان کی طرف سے ہی ایف آئی آر کٹتی۔ پولیس تفتیش کرتی اور پھر نظر بظاہر ملزم یا ملزموں پر مقدمہ یا مقدمات بنتے۔ فیصلہ عدالت یا عدالتیں کرتیں اور جو بھی عدالتی فیصلہ ہوتا اس پر شیخ رشید احمد سب سے پہلے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے مگر ایسا نہیں ہوا نتیجتاً جتنے منہ اتنی باتیں جتنے تجزیہ نگار اور اینکر پرسن ہیں وہ سب بازی لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
جناب شیخ رشید احمد سے ہم بھی ذاتی طور پر واقف ہیں۔ یہ دعویٰ نہ کرنے کے باوجود کہ وہ ہمیں اور ہم انہیں اچھی طرح جانتے ہیں۔ پھر بھی یہ کہا جا سکتا ہے، لکھا جا سکتا ہے کہ جانتے ضرور ہیں مثلاً جس ہفت روزہ چٹان میں راقم نے کئی ماہ و سال گزارے اسی چٹان بلڈنگ میں جناب شیخ کے کافی شب و روز گزرتے رہے ہیں۔ شیخ صاحب نے زمانہ طالب علمی سے ہی جب لاہور آنا شروع کیا تو چٹان بلڈنگ میں آغا شورش کاشمیری کے ہاں حاضری دینے لگے وہاں سے نکل کر آغا صاحب کے بنائے ہوئے تھنکرز ہوٹل میں بیٹھ جایا کرتے تھے۔ تھنکرز بند ہوا تو شیخ رشید حاجی عبدالحمید مرحوم کے .... ہوٹل میں تھڑے پر کھانا کھاتے تھے مگر پھر حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ جس کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے۔
اپنے اپنے مقام پر کبھی ہم نہیں کبھی تم نہیں
البتہ یہ تو کہا جا سکتا ہے بلکہ کرنے کی کوشش کرنی چاہئے کہ ہم سب کا انجام بخیر ہو کہ بطور مسلمان بھی ہمارا وہی عقیدہ ہے کہ روز قیامت بھی اعمال نامے کا جائزہ لیا جائے گا اور جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی۔اس کا بھی ریکارڈ ہوگا۔ وہ نیکی فرد عمل کا حصہ ہوگی اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی وہ بھی اعمال نامے میں ہوگی مگر یہ بات جو چودھری نثار اپوزیشن لیڈر نے کہی ہے وہ کسی صورت سیاست اور عاقبت کے لئے مناسب نہیں کہ چودھری صاحب کا یہ کہنا اور قہقہ لگا کر کہنا کہ شیخ رشید فوت نہیں ہوئے ابھی زندہ ہیں کچھ اچھا انداز بیان اور باوقار سیاست کی علامت نہیں ہے جبکہ شیخ رشید صاحب کی طرف سے جواب آں غزل کی صورت میں جو کہا گیا ہے کہ مردہ شیخ رشید زیادہ خطرناک ہوگا میری موت ان کی خواہش ہو سکتی ہے مگر مارنے والے سے بچانے والا زیادہ مضبوط ہے۔ 24 فروری کو عوام ان کی گردن کا سریا نکال دے گی‘۔
شیخ رشید صاحب اپنی طرز گفتگو کو عوامی کہتے ہیں مگر کسی اور کی ترجمانی کرتے ہوئے اور عوامی رائے سے دور جاتے ہوئے وہ جنرل پرویز مشرف کے ترجمان ہوگئے تھے۔
البتہ شیخ صاحب کا اوروں کے ہاں چلا جانا اور ان کی ہاں میں ہاں ملانا بے شک کسی کو بھی اچھا نہیں لگا مگر مسلم لیگ ن کے اہم رہنما اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا انداز بیاں کچھ زیادہ ہی شوخ ہے جو ہماری تہذیب سے میل نہیں کھاتا کہ ہمارا تو بچہ بچہ اس مزاج کو پسند کرتا ہے کہ
دشمن مرے تو خوشی نہ کرئیے سجناں وی مر جانا
ہم سب کو شیخ صاحب اور چودھری نثار سمیت اپنے اپنے انجام کی فکر ہونی چاہئے اور یہ دعا کرنی چاہئے کہ اللہ ہمارا انجام بخیر ہی کرے۔
اپنے تئیں تو جناب شیخ رشید احمد نے لال مسجد کے سانحہ پر پرویز مشرف کا ساتھ دینے کی معافی مانگ لی ہے لیکن یہی محسوس ہو رہا ہے کہ عوام نے انہیں شاید معاف نہیں کیا یا نہ کریں۔ جناب شیخ رشید کے ٹھکانے کا نام لال حویلی ہے اور نئی جماعت کا نام وہ عوامی مسلم لیگ بتاتے ہیں۔ مگر عوام سے دوری کا یہ عالم ہے کہ پوری اس جماعت میں شیخ صاحب کے علاوہ کوئی اور عوام نظر نہیں آتی۔ کم سے کم مجھ عاجز کو!۔