کیا بلاول کو بھٹوز کا فکر و فلسفہ منتقل ہو سکے گا؟(آخری قسط)

15 فروری 2010
کارکنوں کی اس سوچ کو جھٹلانا ناممکن ہے اور میں یہ بات آج بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر خدانخواستہ ایسا کوئی وقت آیا تو صوبائی و وفاقی وزیروں، مشیروں اور پارٹی کے کلیدی عہدوں پر براجمان یہ لوگ اپنا ”قبلہ“ تبدیل کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کریں گے۔کیوں کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت پر مٹھائیاں تقسیم کیں، ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے، ہر آمر کے دور میں اس کے کاسہ لیس اور حاشیہ بردار بنے رہے۔ شہید محترمہ اور آصف علی زرداری کے بارے میں مغلظات بکتے تھے۔ آج جیالے ہم سے یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر پارٹی کے کلیدی عہدوں اور اقتدار میں جگہ پانے کے لیے آصف زرداری اور بھٹو خاندان کو گالیاں نکالنا معیار ہے توپھر وہ بھی کسی ایسی اکیڈمی میں داخلہ لے لیتے ہیں جہاں یہ سب کچھ سکھایا جاتا ہے۔ جیالے پریشان ہیں کہ قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو نے فکر اور ازم کا فلسفہ سیاسی وراثت میں چھوڑا۔شہید بینظیر بھٹو نے جمہوریت بہترین انتقام کا لازوال نظریہ سیاسی وراثت میں چھوڑا تو موجودہ قیادت اپنے آنے والے چیئرمین جناب بلاول بھٹو زرداری کو کون سا فلسفہ، نظریہ اور کاز منتقل کر رہی ہے۔
قربانیاں دینے والے جیالوں کے ذہنوں کے اندر یہ سوال بڑی تیزی سے اٹھ رہا ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں کیا ان کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ غریبوں کی بات کرنے والی پیپلز پارٹی ہر دفعہ اقتدار ملنے کے موقع پر اقرباپروری اور لابیوں کا شکار ہو کر سینٹ کی سیٹیں کلیدی عہدے اور صوبائی و قومی اسمبلیوں کی خصوصی نشستیں اور محکموںکی چیئرمینیاں پھر انہی مخدوموں، نوابوں، لغاریوں ،مزاریوں اور وٹوﺅں کے لیے مختص کر دیتی ہے اور کارکن اس انتظار میں ایک دفعہ پھر مصائب جھیلنے کے لیے طفل تسلیوں پر گزارا کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور پیپلز پارٹی کے حقیقی کارکنان اور جانثاران مصیبت کے وقت میں ”یاجوج ماجوج“ کی طرح آمریت کی دیوار کو چاٹتے رہتے ہیں لیکن ان کی سالوں کی محنت پر ہر دفعہ کچھ خفیہ اور اندرونی و بیرونی پیارے ہاتھ دکھا جاتے ہیں۔آج ہم اکیسویں صدی میں رہ رہے ہیں اور عوام شعور کی بلندیوں تک پہنچ چکے ہیںانفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں اب ایک عام آدمی اور جیالے کو شاید بے وقوف بنانا اتنا آسان نہیں رہا کیونکہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے اس دنیا کو گلوبل ویلج کی صورت دے دی ہے اور پھر عوام کے اندر بڑھتا ہوا شعور کہیں جیالوں کو پیپلزپارٹی اور اس کی قیادت سے متنفر نہ کردے اور یہ چوری کھانے والے ”مجنوں“ نہ توبلاول کے شہید نانا کے ساتھ رہے تھے نہ بلاول کی شہید ماں کے ساتھ اور نہ ہی بلاول بھٹوکے باپ کے ساتھ رہیں گے اور نہ ہی بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ وفا نبھائیں گے کیونکہ یہ لوگ تو ان جونکوں کی مانند ہیں جو عوام کا استحصال اور ان کا خون چوسنا اور ان کی لاشوں پر پاﺅں رکھ کر اقتدار تک پہنچنا اپنا استحقاق سمجھتے ہیںاورمصیبت میں ساتھ چھوڑ دینا جن کی فطرت میں شامل ہے۔
ہر شاخ پر الو بیٹھا ہے انجامِ گلستاں کیا ہوگا