قائداعظم کی مسلم لیگ کا احیاء

15 فروری 2010
نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے تحت لاہور مےں منعقد ہونے والی سہ روزہ قومی کانفرنس نے 23 مارچ 1940 کے منٹو پارک لاہور مےں منعقد ہونے والی تارےخ سا ز آل انڈےا مسلم لےگ کے پاکستان رےزولےوشن کی ےاد اےک بار پھر سے تازہ کروا دی ہے۔ جس طرح 1940 کی قرارداد اس لحاظ سے عہد ساز تھی کہ اس مےں برصغےر کے مسلمانوں کےلئے اےک اسلامی جمہورےہ پاکستان کو جنم دےا تاکہ وہ عالم اسلام کےلئے اےک تجربہ گاہ ثابت ہو سکے۔ اسی طرح پورے ستر سال کے بعد نظرےہ پاکستان ٹرسٹ نے اسی شہر لاہور مےں 11 تا 13 فروری تحرےک کارکنان کے نمائندوں اور کارکنوں کو ملک بھر سے اکٹھا کرنے کا اہتمام کرکے بانی پاکستان کے خواب کو جو ابھی تک شرمندہ تعبےر ہے عملی جامہ پہنانے کا عہد نو کرتے ہوئے عالم اسلام کی واحد نےوکلےئر مملکت کو اندرونی و بےرونی چےلنجوں سے محفوظ رکھنے کےلئے اتحاد اےمان اور تنظےم کی طاقت سے قوم کو اےک نےا حوصلہ نےا عزم اور اندھےری رات مےں امےد کے مےنارنور کا پےغام دےا ہے جس کےلئے نظرےہ پاکستان ٹرسٹ کے چےئرمےن جناب مجےد نظامی نے پاکستان کے چاروں صوبوں جموں کشمےر سے آئے ہوئے شرکاءسے احےائے تحرےک پاکستان اور تعمےر پاکستان کا جو قومی عہد وفا لےا اس کو اس کالم کے ذرےعے پوری قوم کو شرےک کرنا چاہتا ہوں۔ اس کی عبارت کچھ ےوں ہے۔
”مےں اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر سچے دل سے عہد کرتا ہوں کہ اپنے پےارے وطن پاکستان کے اساسی نظرےہ کے تحفظ فروغ اور اس پر عمل کرکے اپنا جزو اےمان سمجھوں گا اور پاکستان کی سالمےت اور استحکام کو ہر سطح پر اپنے تمام ذاتی طبقاتی اور علاقائی مفادات پر مقدم رکھوں گا۔ پاکستان کا مطلب لاالہ الااللہ پر مےرا اےمان ہے اور قائداعظم کے فرمان کے مطابق پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ بنانا مےری منزل مراد ہے۔
نظرےہ پاکستان ٹرسٹ کے اغراض و مقاصد کے حصول اور وطن عزےز پاکستان کو جدےد اسلامی جمہوری فلاحی مملکت بنانے کےلئے مسلسل جدوجہد مےرا نصب العےن ہو گا اللہ تعالیٰ مجھے اس عہد کو پورا کرنے اور پاکستان کےلئے ہر قسم کی قربانی دےنے کی توفےق عطا فرمائے۔ آمےن
جناب مجےد نظامی نے کھڑے ہو کر اس قومی عہد کا اےک اےک لفظ وقفہ وقفہ سے بولتے ہوئے تاکہ ہر لفظ سننے والے کے سےنہ مےں اتر جائے بلند آواز سے پڑھا۔ کھچا کھچ اےک ہزار سے زائد خواتےن و حضرات سے بھرے ہوئے ہال کے اےک اےک فرد نے اس حلف نامے کے اےک اےک لفظ کو دہراتے ہوئے اےک عجےب وغرےب دل کو ہلا دےنے والی عرفان وآگہی کی روح پرور کےفےت پےدا کردی مےں ذاتی طور پر حلف اٹھاتے ہوئے کانپ رہا تھا کہ کتنی بڑی ذمہ داری اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر اپنے کمزور کندھوں پر اٹھا رہا ہوں۔ جوں جوں مےں ےہ عہد نامہ پڑھتا گےا مےرے اندر اےک عجےب روحانی قوت نے مےرے کپکپانے کو اچانک غائب کرکے اےک عزم اور اےمان کی طاقت مےں تبدےل کر دےا کےونکہ مجھے اللہ تعالیٰ سے اس قومی عہد سے عہدہ برآ ہونے کی توفےق مانگنے اور آمےن کہتے ہوئے اےسا محسوس ہوا جےسے پوری قوم اس احےائے پاکستان کے عہد وفا مےں مےرے ساتھ ہے۔
محترمی مجےد نظامی کی خدمت مےں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جس اجتماعی انداز مےں انہوں نے پورے ملک کے نمائندوں سے ےہ قومی عہد لےا ہے اس مےں پوری قوم اور وہ اشخاص بالخصوص جنہوں نے جناب مجےد نظامی کے اےک اےک لفظ پر لبےک کہتے ہوئے اس عہدنامے کو دہراےا اس سے اسلامی رواےات کے مطابق عہد لےنے والے اور عہد وفا اٹھانے والے ہر دو کے درمےان اےک روحانی تعلق کے ساتھ ساتھ اےک عظےم ذمہ داری کا فرےضہ بھی عائد ہو جاتا ہے جس کی مزےد رہنمائی اور قےادت مجےد نظامی پر لازم ہو جاتی ہے۔ کہنا صرف ےہ چاہتا ہوں کہ جس طرح اےک نبی اس کے خلفائے راشدےن علمائے کرام، پےرومرشد اور ان کے عقےدت مندوں کے درمےان اس طرح کا قومی عہد بیعت کہلاتا ہے اسی طرح 11 فروری کو مجےد نظامی کی طرف سے قومی عہد اٹھا لےنے کے بعد نظرےہ پاکستان کو قائداعظم کے خواب کی تعبےر کی تکمےل کےلئے جو ذمہ داری اللہ تعالیٰ کی رضا سے اور ان تمام قائدےن قوم و بزرگوں کی دعا سے جنہوں نے اس سہ روزہ کانفرنس مےں شرکت فرمائی مےرے عقےدہ کے مطابق احےائے تحرےک پاکستان کےلئے اےک نہاےت فال اور قائداعظم کے وےژن کی کامےابی و کامرانی کی اےک ضمانت ہے تحرےک پاکستان کا اےک ادنی کارکن ہونے کے ناطے مےں جناب مجےد نظامی صاحب کو اپنے عظےم مشن کے ایک عظےم الشان آغاز پر دلی مبارک باد پےش کرتا ہوں نظامی صاحب اپنی گفتگو مےں اکثر فرماےا کرتے ہےں کہ شاےد اللہ تعالیٰ کو ان سے کوئی قوم کی خدمت کا فرےضہ ادا کرنا منظور ہے مےں سمجھتا ہوں کہ اس قومی عہد نامے نے اس عظےم فرےضہ کی نوعےت واضح کر دی ہے۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...