افراتفری

15 فروری 2010
جس افراتفری کا خدشہ تھا وہ بالآخر آ ہی گئی اور چھا بھی گئی اس لئے کہ ہمارے اپنے نا فیصلے ہیں اور نا کوئی موقف‘ ہم لفظوں کو الٹا پڑھنے لگے ہیں اس لئے مفہوم بھی برعکس نکلتا ہے۔ خدا جانے اب اس میں ہماری بے عقلی کا دخل ہے یا مفادات کے حصول کا بہر حال نقصان ملک اور قوم کا ہو رہا ہے۔ اگر خوش قسمتی سے ہماری عدلیہ آزاد ہوتی تو این آر او کے خلاف فیصلہ الیکشنوں سے پہلے ہی آ جاتا اور آج ایک صاف ستھری پارلیمنٹ اور حکومت وجود میں آ چکی ہوتی۔ اب تو داغ داروں کو اتنی بھی شرم نہ رہی کہ اتنا کہہ سکیں لاگا چنڑی پے داغ گھر جاﺅں کیسے چوری سینہ زوری کا زمانہ ہے۔ قوم و ملک سے محبت بس ایک بہانہ ہے دنیا میں سینکڑوں ملک بستے ہیں ان کے ہاں بھی مسائل کھڑے ہوتے ہیں مگر محلے کی آواز ہم تک پہنچنے سے پہلے حل ہو چکا ہوتا ہے۔ مفاد پرستی کی دیمک نے ہمیں اس طرح چاٹ لیا ہے کہ مسائل حل کرنے والے مسئلے حل کریں تو ان کے اپنے مسائل متاثر ہوتے ہیں برلن کی دیوار گر گئی اور دونوں طرف کے لوگ محبت کے رشتے میں بندھ گئے مگر کسی نے آواز تک نا سنی۔
ہمارے ہاں ایک ہی گھر میں دیواروں پر دیواریں کھڑی کی جا رہی ہیں کیا اسے پاکستان کہتے ہیں جس کے بارے میں بابائے قوم نے کہا تھا کہ یہ دنیا کا ترقی یافتہ ملک بنے گا۔ اور دنیا راس کی پیروی کرے گی آج عفریت کا ہمارے گھر میں بسیرا ہے۔ اسی لئے مصیبتوں کا ڈھیرا ہے۔ اعلیٰ عدلیہ میں اپنی پسند کے جج لانا حکم تو ہے اور وہ بھی صدر کا مگر ناقص ہے۔ آخر ایسے احکامات اور فیصلے کیوں کئے جاتے ہیں جو ملک کے ستونوں کو ایک دوسرے پر گرا دیں وقت گزرتا جا رہا ہے ہمارا ہمسایہ ملک ہمیں محبت کی مدھرا پلا کر بے ہوش کر چکا ہے۔ اس نے 62 ڈیم پہلے بنائے اور 2 ڈیم مزید شروع کر دئیے ہیں شاید یہ محبت کی آشا مہم کا اعجاز ہے۔ ہمارے دریاﺅں کے پانی سے ہماری قوم کے آنسو بڑھ گئے ہیں اور ہم ان آنسوﺅں سے مظلومیت محرومیت کی کھیتان سینچ رہے ہیں عمران خان نے صحیح کہا کہ جب تک ایسا قائد نہیں آتا جو اپنا سب کچھ .... کر اس قوم کی قیادت نہیں کرتا یہاں کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ میاں نوازشریف کی حب الوطنی پر کون شک کر سکتا ہے کیا یہ ان کی مہربانی نہ ہو گی کہ وہ باہر کے ملکوں میں پڑا اپنا پیسہ اپنے ملک میں لے آئیں ہم اسلامی حدود سے تو کب کے خارج ہو چکے ہیں انسانیت کی حدود بھی پھلانگ چکے ہیں۔ دفتروں میں جان بوجھ کر ایک ایسا پیچیدہ نظام برپا رکھا گیا ہے تاکہ رشوت کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کئے جا سکیں۔ اور سائلوں کو پھیرے پے پھیرے ڈالنے پر مجبور کیا جا سکے افسران صرف افسری کرتے ہیں اور بھتہ کھاتے ہیں پولیس جلاد ہے۔ اور قوم مقتول خدا کرے کہ عدلیہ اور حکومت کا تصادم موافقت میں بدل جائے لوگ کہتے ہیں کہ اب ہنگامی حالات کا اعلان ہونے والا ہے۔ کیا ہنگامی حالات برپا نہیں؟ ہاں اتنا ہے کہ ایمرجنسی لگانے سے بھی انہی کا کام چلے گا۔ جو کام بگاڑنے والے ہیں آخر حکومت عدلیہ میں ردوبدل کیوں کرنا چاہتی ہے۔ اس کیوں کا جواب تو ساری قوم کو معلوم ہے تو پھر کیوں ساری قوم حکومت مخالف بنایا جا رہا ہے۔ اعتزاز احسن جیسے ماہر قانون دان کی رائے قیمتی ہے کہ کام سارا مشیروں نے بگاڑا ہے مگر مشورہ لینے والے کو بھی تو اپنا نفع نقصان سوچ لینا چاہئے۔ آصف علی زرداری سے اب بھی توقع ہے کہ وہ اس مشورے پر کان دھرے جو اعتزاز احسن نے گیلانی صاحب کو دیا ہے اور انہیں چاہئے کہ وزیراعظم کے ذریعے حالات کو معمول پر لائیں۔ بصورت دیگر حکومت اپنا زور دکھائے گی۔ اور قانون اپنی طاقت ان دونوں کی کشمکش میں پٹڑا ملک کا ہو گا اگر حب الوطنی کی کا کوئی جذبہ موجود ہے تو بھارت کو اپنے اوپر سہنے کا موقعہ نہ دیا جائے۔ صدر با اختیار ہیں اگر وہ یہ فیصلہ کر سکتے ہیں تو اس کو بدل بھی سکتے ہیں اور عدلیہ کو آزاد چھوڑ سکتے ہیں۔ عدلیہ حکومت کی کوئی متوازی قوت نہیں وہ ایک آئینی اور قانونی مددگار ہے اسے اس کا ا صلی کام کرنے دیا جائے۔ بالخصوص ایسے حالات میں جبکہ صدر صاحب کے مقرر کردہ ججوں نے بھی اس فیصلے سے انکار کر دیا ہے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ امریکہ کو پاکستان سے نکالنے کے لئے قوم کا ہر طبقہ سڑکوں پر نکلتا مگر یہ کہا کہ آئے دن عدلیہ کی آزادی کے لئے لوگوں کو سڑکوں پر نکلنا پڑتا ہے۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...