ججوں کی تقرری

15 فروری 2010
رانا اعجاز احمد خان ............
آج عوام کو سب سے زیادہ ضرورت سستے اور فوری انصاف کی ہے۔ ماتحت عدلیہ میں سستے انصاف کا تصور ہی مفقود ہے جبکہ اعلیٰ عدالتوں میں فوری انصاف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ حکومت نے پیدا کر رکھی ہے۔ ایک سسٹم موجود ہے۔ آئین اور قانون موجود ہے۔ اس کے باوجود ہائیکورٹس میں 60 اور سپریم کورٹ میں دوججوں کی تعیناتی کی سفارشیں روک دینا آخر کس کے مفاد میں ہے؟۔ حکومت نے اب چیف جسٹس آف پاکستان سے مشورے کے بغیر یکطرفہ طور پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس خواجہ محمد شریف کی سپریم کورٹ میں تقرری کرکے عدلیہ کے ساتھ ایک نیا محاذ کھول لیا ہے۔موجودہ حکومت کی پالیسیوں سے عام آدمی تنگ ہے۔ مہنگائی کا عفریت منہ کھولے دندنا رہا ہے۔ بدامنی زوروں پر ہے۔ خودکش حملوں، بم دھماکوں اور ڈرونز کی بمباری سے لوگ مر رہے ہیں۔ تیل کی قیمت میں محض کارِ سرکار چلانے کے لئے اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ لوگ کبھی آٹے کو ترستے ہیں تو کبھی چینی گھی کو اور خالص کوئی چیز مل جائے اس کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مس مینجمنٹ کی انتہا ہے‘ کچھ ذاتی مفادات کے لئے اور کچھ حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے۔ ایک سے بڑھ کر ایک بحران موجود ہے۔ جس کا ملبہ حسبِ روایت اقتدار میں دو سال سے براجمان ہونے کے باوجود بھی سابق حکومت پر ڈالا جا رہا ہے۔ ہر بحران کی کوئی وجہ یا بے بسی ہو سکتی ہے۔ عدلیہ میں ججوں کی آسامیاں پر کرنے میں کیا امر مانع ہے؟ چیف جسٹس صاحبان کی طرف سے سفارشات حکومت کو بھجوا دی گئی ہیں۔ حکومت کا ان پر غور و خوض جاری ہے اور پتہ نہیں کب تک جاری رہے۔ متاثر کون ہو رہا ہے؟۔ عام سائل!۔ حکومت کو یہ سفارشات روک لینے سے کیا فائدہ ہو رہا ہے؟ ۔اس کا خود حکمرانوں کو بھی پتہ نہیں۔بدنامی بہر حال ہو رہی ہے۔ الجہاد ٹرسٹ کیس میں ججوں کی تعیناتی 30 روز کے اندر کرنے کا کہا گیا ہے۔حکومت نے یہ مدت بھی گزار لی ۔ سفارشات پر ہنوز عمل در آمد نہیں ہوا۔نئی عدالتی پالیسی میں مقدمات جلد نمٹانے کے لیے کہا گیا ہے اگر جج ہی تعینات نہیں ہونگے تو مقدمات جلد کس طرح نمٹائے جائیں گے۔ عدلیہ کے معاملات اور مقدمات کی نوعیت موجود وفاقی اور صوبائی حکمرانوں سے زیادہ کون جان سکتا ہے۔ الیکشن میں جیتے اقتدار میں آ گئے۔ طالع آزمائی کی صورت میں جیلیں مقدر اور عدالتوں کے چکر۔ ان کو اپنے مقدمات لٹکانے کے لئے کئی پاپڑ بیلنا پڑتے تھے۔ عام آدمی جلد فیصلوں کی خواہش رکھتا ہے۔ یہ اسی صورت ممکن ہے ۔جب ججوں کی آئین اور قانون کے مطابق تعداد پوری ہو۔ مقدمات کی تعداد کے پیش نظر تو ہائیکورٹ کے ججوں کی آسامیوں میں مزید اضافے کی ضرورت ہے لیکن جہاں مقرر ہ اسامیاں ہی پر نہیں کی جا رہیں۔ اوپر سے عدالتی فیصلوں کا مذاق بھی اڑایا جا رہا ہے۔
ججوں کی تعیناتی کا حکومت نے خوب حل ڈھونڈا ہے۔آئین کے آرٹیکل 177میں با لکل واضح ہے کہ ججوں کی تقرری صدر چیف جسٹس کی مشاورت سے کریں گے ۔لیکن صدر صاحب نے بابر اعوان اور لطیف کھوسہ سے مشورہ کر کے جسٹس خواجہ محمد شریف کو سپریم کورٹ کا جج اور جسٹس ثاقب نثار کو لاہور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کردیا۔دونوں حضرات کیسا مشورہ دیں گے اس کو معلوم تھا۔اس غیر آئینی اقدام پر سپریم کورٹ نے ایکشن تو لینا تھا اور لیا بھی۔صدارتی حکم معطل کردیا گیا۔خوش آئند امر یہ ہے کہ جج لالچ اور کسی دھونس میں آئے۔متحد ہیں۔اس کے لئے بھی جسٹس افتخار محمد چودھری مبارک باد کے مستحق ہیںکہ عدلیہ کی بہترین طریقے سے قیادت کر رہے ہیں۔حکومت عقل سے کام لیتے ہوئے عدلیہ سے محاذ آرائی سے گریز کرے۔ یہی اس کے لئے بہتر ہے۔معاملات آئین اور قانون کے مطابق چلائے۔دوسری صورت میں بہت کچھ ڈوب جائے گا۔