امن کی آشا (آخری قسط)

15 فروری 2010
سید محمد حبیب عرفانی چشتی........
ہندوستانی Intelegencia ایجنسیوں کے ساتھ ساتھ ان کی اشرافیہ، میڈیا، سیاستدان ادارے اور افراد پاکستانی دشمنی میں یکساں سوچ و ذہنیت کے حامل ہیں۔ ان ان گنت واقعات اس چیز کی گواہی دے رہے ہیں۔ ذیل میں چند ایک واقعات کو بیان کرنے سے بات پورے طرح عیاں ہوکر سامنے آجائے گی۔ 1970ءکی دہائی میں کرکٹ تعلقات کی بحائی کے بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم انڈین ٹیم پر مسلسل حاوی رہی تو مختلف بہانوں سے ان تعلقات کو ختم کرنے کی باتیں شروع کر دی گئیں۔ جس میں کلکتہ کرکٹ گراﺅنڈ میں جب پاکستان ٹیم تقریبا میچ جیت چکی تھی تو تماشایوں کی ہلڑ بازی اور پاکستانی کھلاڑیوں پر بوتلوں اور پتھروں کی بارش اور بعد میں سٹیڈیم میں آگ لگا دی گئی فیروز شاہ کوٹلہ دہلی کرکٹ کی پچ میچ شروع ہونے سے پہلے شیو سینا کے کارکنوں نے کھود ڈالی جس کی وجہ سے وہ میچ ہی نہ ہو سکا۔ اس طرح کی اور بے شمار مثالیں جن کو پوری دنیا نے دیکھا۔ پردے کے پیچھے کیا کچھ ہوتا رہا اس کو ہر کوئی محسوس تو کر سکتا ہے۔ کرکٹ کے حوالے سے جب شارجہ میں ہندوستان پاکستان سے مسلسل ہارتا رہا تو اس نے پاکستان کے ساتھ میچ کھیلنے سے انکار کر دیا۔ موجودہ دونوں میں بھارتی وزارت خارجہ نے بھی اپنے کرکٹ بورڈ کا بھرپور ساتھ دینے ہوئے کرکٹ ورلڈکپ 2011ءکے پاکستان کے حصے کے میچ دوسرے ملکوں کو منتقل کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان دشمن سیاسی تنظیمیںشیو سینا‘ وشواہندہ پریشد وغیرہ وغیرہ اور سیاسی شخصیات بال ٹھاکرے نریندر مودی وغیرہ کے پاکستان کے خلاف تعصب سے لبریز بیانات جن میں ان لوگوں نے اپنے خبث باطن کو چھپانے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ سمجھوتہ ایکسرپس کا ساتھ جس میں بے شمار پاکستان شہید ہوئے اور جس کا ذمہ دار بھارتی فوجی کرنل پروہت کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہوئی اور اسی حادثے کی تحقیقات کرنے والے پولیس آفیسر مسٹرکر کرے جس کے بارے میں کہا گیا کہ اس نے اس سانحہ کی تحقیق مکمل کرنا تھی اس کو ممبئی حملوں میں قتل کر دیا گیا۔ اس کے قتل کے حوالے سے کچھ سوالات جو اٹھائے گئے مثلاً اسے موبائل فون کس نے لا کر دیا۔ جسے سننے کیلئے اس نے اپنا ہلمٹ اتارا اور فورا ہی گولی کا نشانہ بن گیا جب اسے بارے میں پاکستان حکام نے سوال اٹھائے تو ممبئی حملوں کے حوالے سے دباﺅ کم ہوگیا۔
In good gesture پاکستان نے بے شمار مواقع پر کافی سارے اقدامات کئے جن میں بھارتی دہشت گرد کشمیر سنگھ کی رہائی جذبہ خیرسگالی کے تحت ہوئی مگر جواب میں پاکستان قیدی کی لاش کا تحفہ وصول ہوا۔ پاکستانی سفارتخانے کے ملازم عبدالحمید کی لاش بھی انہیں دنوں موصول ہوئی جس کے بارے کہا گیا کہ تین دن ہسپتال میں داخل رہنے کے بعد فوت ہوا اور پوسٹ مارٹم کے نام پر کوئی ایسی چیز نہ رہنے دی گئی جسے اس کی موت کے اسباب کی تحقیقات میں مدد ملتی ہندوستان گئے ہوئے پاکستانی فنکاروں شکیل صدیقی، رﺅف لالہ وغیرہ جو وہاں کے t.v چینلز کے پروگراموں میں شرکت کیلئے وہاں موجود تھے کے ساتھ غیر انسانی بہیمانہ سلوک روا رکھا گیا حتیٰ کہ انہیں جسمانی تشددکا نشانہ بنایا گیا۔ یہ فنکار اور کھلاڑی وہاں چھپ کر بیٹھے رہے جب تک ان کے واپس آنے کا انتظام نہ ہو گیا۔ اس واقہ کے کچھ عرصہ بعد ہی ہمارے روشن خیال صحافی اور ادیب اور وکلا جس امرتسر میں ایک تقریب میں شامل ہوئے تو باقاعدہ ان لوگوں کو جوتوں تک سے پیٹا گیا۔ جس کے بعد سے ان طرح کے وہ تمام لوگ جو اس واقعہ سے پہلے ہر طرح سے انڈین لیگ کا حصہ تھے بھی خاموش ہو کر بیٹھ گئے ان تمام واقعات سے اورپر پاکستان وزیر خارجہ کے ساتھ ہندوستان میں بدسلوکی جو عالمی اصولوں کے خلاف تھی پر بھی ہندوستانیوں کو ذرا سی شرم نہ آئی۔ ہندوستان میں ہونے والا معمولی سے معمولی واقعہ بھی بغیر سوچے سمجھے پاکستان کے ISI کے ذمے لگا دیا جانا ایک معمول کی بات ہے۔ جب کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں میں RAW کے ملوث ہونے کے ثبوتوں کے باوجود ہمارے وزیر خارجہ اور وزیراعظم خاموش ہیں جبکہ پشاور اور لاہور میں پبلک مقامات پر ہونے والے دھماکے سربجیت سنگھ کے لاہور اور فیصل آباد میں کئے گئے دھماکوں کا عکس معلوم ہوتے ہیں۔
ان تمام حالات و واقعات کی روشنی میں امن کی آشا کیلئے ہندوستان اور ہندوستانیوں کو اپنے رویوں کا جائزہ لینا ہو گا اور اگر ان دونوں میڈیا گروپس نے خلوص نیت سے اس کام کو کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے تو پاکستانی قوم ٹائمز آف انڈیا کے ممبئی واقعات کے حوالے سے کردار کو فراموش کرنے پر تیار ہو جائے گی مگر ہندوستانی حکومت، اس کے وزراءاور عوامی آرا‘ پر اثرانداز ہونے والے افراد اور اداروں کو اپنی سوچ، رویہ انداز اور طریقے بدلنے ہوں گے اور کشمیر کا مسئلہ‘ قیدیوں کا مسئلہ اور دوسرے بنیادی مسائل کو چھوڑ کر اگر وقتی مفادات پر امن کی آشاتک پہنچنے کی کوشش کی گئی تو اس کی مثال تعفن کو مضبوطی سے بند کرنے ہوگی کہ کچھ عرصہ بعد جب یہ تعفن گیس بن جائے تو پھر وہ اپنے ڈھکن کے ساتھ اور بھی بہت کچھ تباہ و برباد کر دیتا ہے۔
انڈو پاکستان میں ایک طرف امن کی آشا کی بات چل رہی ہے جس میں ہندوستانی وزراءکے بیانات بھی اس کی حمایت میں اخبار کی زینت بن رہے ہیں مگر دوسری طرف بھارتھی آری چیف جنگی جنون میں مبتلا ہو کر بقول طارق مجید اپنے حواس کھو چکا ہے نے پاکستان اور چین کو 96 گھنٹوں میں فتح کرنے کی بڑہانکی ہے۔ جنرل دیپک کپور اس سے پہلے بھی متعدد مواقع پر اس طرح کی ہرزہ سرائیاں کر چکا ہے۔ کسی ملک کے فوجی سربراہ کی جانب سے اس طرح کی دھمکیوں اور گیدڑ بھبکیوں کے بعد بھی کوئی امن کی امید کرسکتا ہے اس کے ساتھ ہی ایک بھارتی صحافی بھرت ورما نے ممبئی حملوں کے دوران مختلف t.vچینلیز پر اور مختلف مضامین میں پاکستان اور پاکستانیوں کے خلاف غلیظ زبان کا استعمال کیا۔ حال ہی میں انٹرنیٹ پر اس موضوع پر آنے والا مضمون ہر پڑھنے والے پاکستانی کے غم و غصہ کو مزید بھڑکانے کا سبب بنے گا۔ جبکہ اپنے مضمون میں مغلستان کی کہانی گھڑنے والے کیا امن کی آشا کونراشا میں بدلنے کی کوشش نہیں کررہے یا خود کو پسر پاور جان کر پاکستان کو under pressure کرکے اپنے مقاصد کے حصول کی راہ ہموار کرنے کی کوشش تو نہیں کر رہے۔ کہ جس طرح 2002ءمیں بھی فوجوں کو باڈر پر لا کر کچھ نام نہاد بزدل سیکولر دانشور نے دیئے روشن کرتے واہگہ باڈر پر امن کے پیغام دیئے اور ہندوستان نے اس کی آڑ میں کشمیر جیسے سلگتے مسائل کو چھوڑ کر اپنے بیان کردہ مسائل پر پاکستان حکومت کو مائل کر لیا اور core issues بہت پیچھے کر دیا۔ وہی کہانی دہرانے کی کوشش تو نہی کی جا رہی۔ اور core issues مثلاً کشمیر، پانی، سیاچن، سرکریک، حیدر آباد، جوناگڑھ اور دوسرے بنیادی مسائل کو حل کرنا ہو گا تاکہ امن آشا حقیقت بن سکے نراشانہ بن جائے۔