امریکہ ،نیٹو اور پاکستان…(۱)

15 فروری 2010
امریکی اور اتحادی افواج افغانستان سے آبرو مندانہ انخلاء کیلئے پر تول رہی ہیں ۔ 8/9 سال کی اس جنگ میں امریکہ نے کیا کھویا اور کیا پایا، اس کا حساب تو بعد میں ہو گا ۔سر دست پاکستان کو انخلاء کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال میں دلچسپی ہے اور تشویش بھی۔ پاکستان چاہتا ہے کہ اتحادی افغانستان سے انخلاء کی حکمت طے کرتے وقت پاکستان سے معنی خیز مشاورت کریں۔ پاکستان نے امریکہ کو بتا دیا ہے کہ افغانستان میں جنگ کے خاتمہ اور اس کے بعد کی حکمت عملی طے کرنے میں پاکستان ایک اہم اور مرکزی کردار ادا کرنے کا خواہشمند ہے ۔ نیو یارک ٹائمز میں چھپنے والی ایک خبر کے مطابق پاکستان نے کہاہے کہ وہ امریکہ اور طالبان کے درمیان مصالحت کرانے میں بھی کردار ادا کر سکتا ہے۔ طالبان پاکستان کی سرزمین استعمال کرتے رہے ہیں اور ان کے پاکستانی فوج سے ایک عرصہ تک قریبی تعلقات رہے ہیں ۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق ایک سینئر امریکی عہدہ دار نے بتایا کہ نیٹو ہیڈ کواٹرز پر نیٹو کی سالانہ کانفرنس میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے امریکیوں سے کہہ دیا تھاکہ پاکستان امریکہ اور طالبان کے درمیان مصالحتی کردار ادا کرنے کو تیار ہے ۔ پاکستان کی پیشکش سے واضح ہو جاتا ہے کہ افغان جنگ کو ختم کر کے ایک پائیدار امن کے قیام میں افغانستان کے پڑوسی ملکوں کو شامل کرنا ضروری ہو گا۔پاکستان طالبان کے ساتھ اپنے تعلقات اور اثر و رسوخ استعمال کر سکتا ہے۔ بالخصوص جلال الدین اور سراج حقانی گروپس کے ساتھ۔ یہی دو گروپ ایسے ہیں جو امریکہ اور اتحادی فوجوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
ساتھ ہی جنرل کیانی نے پاکستانی فوج کی طرف سے افغان فوجیوں اور پولیس کو تربیت دینے کی پیشکش بھی کی ہے یہ پیشکش بھی جنرل کیانی نے نیٹو ہیڈ کواٹر ز کی سالانہ کانفرنس میں برسلز کے مقام پر کی۔ پاکستانی فوج کے سربراہ نے جو کم بولتے اور زیادہ سنتے ہیںیہ پیشکش بعد میں اپنے راولپنڈی کے دفتر میں غیرملکی میڈیا کے نمائندوں سے ملاقات میں بھی دہرائی۔ جنرل صاحب بالعموم میڈیا سے دور رہتے ہیں لیکن موضوع کی اہمیت کے پیش نظر انہوں نے دوسری بار پاکستانی میڈیا کے سامنے بھی اس پیشکش کا اعادہ کیا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ایسی ہی ایک پیشکش افغان فوج کے سربراہ جنرل بسم اللہ خان کو بھی کی گئی تھی لیکن تا حال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ تاخیر کا ایک سبب افغان حکومت میں تجویز کی مخالفت ہو سکتا ہے۔ جنرل بسم اللہ شمالی اتحا دکے ایک حصہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ شمالی اتحاد سے پاکستان کے تعلقات بہت اچھے نہیں رہے۔ افغان جہاد میں گلبدین حکمت یار سے پاکستان کی قربت نسبتاً زیادہ تھی۔ اسی طرح طالبان کیلئے پاکستان میں خیر خواہی کے جذ بات پائے جاتے تھے۔ ان دو وجوہ کہ بناء پر شمالی اتحاد سے پاکستان کی مخاصمت رہی۔ یہی شمالی اتحاد افغان کو لیشن کا ایک حصہ ہے ۔
افغان حکومت بالخصوص شمالی اتحاد کو یہ اندیشہ ہو سکتا ہے کہ اگر افغانستان نے اپنے افسران تربیت کیلئے پاکستان بھجوائے تو وہ I.S.I کے زیر اثر آ سکتے ہیں ۔ جسے پاکستان اپنے مستقبل میں استعمال کر سکتا ہے۔ افغانستان کو اس قسم کا تجربہ بھی ہے۔ افغانستان نے اپنے افسر تربیت کیلئے سویت یونین بھجوائے تھے۔ وہاں جا کر یہ لوگ کمیونزم کے رنگ میں رنگے گئے۔ افغانستان کی تاریخ میںاس واقعہ نے اہم کردار ادا کیا۔ وہاں بادشاہت کا خاتمہ، سویت یونین کی موافق کمیونسٹ حکومتوں کا قیام اور آخر کار سویت یونین کا حملہ اور قبضہ۔ ان تمام واقعات میں افغان فوج کے افسران کی سویت یونین میں تربیت کا کچھ نہ کچھ دخل ضرور ہو گا یوں تو افغان حکومت اپنے افسران کی تربیت کیلئے انھیںبھارت بھیجتی ہے (اور ہر سال سو کے قریب افسر بھارت کی مختلف اکیڈمیز میں تربیت حاصل کرتے ہیں) تو پھراِن لوگوں کا بھارت کے زیر اثر آنا اور R.A.W کیلئے افغانستان میں پاکستان مخالف محاذ اور ماحول قائم کرنا بہت آسان ہو سکتا ہے (عملاً ایسا ہو بھی رہا ہے)۔ظاہر ہے پاکستان اس صورتِ حال سے لا تعلق نہیں رہ سکتا۔بھارت افغانستان میں شمالی اتحاد کی مالی اور مادی امداد کرتا رہا ہے۔ 90 کے عشرہ میں طالبان کے خلاف بھارت نے شمالی اتحاد کو فوجی امداد فراہم کی۔ بھارتی میڈیا میں ایسی رپورٹس بھی آئی ہیں کہ بھارت نے کچھ افسر افغانستان بھیجے ہیںتا کہ وہ افغان فوجوں کو بنیادی فوجی تربیت کے ساتھ ساتھ
انگریزی زبان کی تعلیم دیں۔ افغان پولیس اور فارن سروس کے افسر تربیت کے واسطے بھارت بھیجے جاتے رہے ہیں ۔ افغان صدر کرزئی نے بھارتی ٹریننگ پروگرام میں مزید توسیع کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ اُدھر امریکہ نے بھارت سے درخواست کی ہے کہ وہ سپیشل سروس گروپ (کمانڈرز) افغانستان بھجوائے تا کہ وہ افغان فوجیوں کو (Counter in Surgery) کی تربیت دے سکیں۔ امریکہ اور اس کے اتحادی بھارت کو افغانستان میں ایک بڑاا رول دینا چاہتے ہیں۔ ایسا کرنے سے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت افغانستان میں جمہوریت کے فروغ میں کوئی مثبت رول ادا کر سکے گی لیکن یہ سب باتیں غیر حقیقی ہیں ۔ اگر دنیا کی سب سے طاقتور جمہوریت امریکہ خود افغانستان میں جمہوریت کے فروغ میں کامیاب نہیں ہو سکا تو بھارت ایسا کہاں سے کر پائیگا؟ (جاری ہے)

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...