این آر او عملدرآمد اورنظر ثانی کیس: سپریم کورٹ نے حکومت کو صدر کا نام لئے بغیر سوئس حکام کو خط لکھنے کی تجویز دے دی ۔

15 اگست 2012 (15:22)

سپریم کورٹ میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ این آر او عملدرآمد اور حکومت کی جانب سے بارہ جولائی کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت اٹارنی جنرل کی جانب سے بنچ پر اعتراض کیاگیا، جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے انہیں دلائل دینے کی ہدایت کی جس پر اٹارنی جنرل نے موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ وزیراعظم کوسوئس حکام کو خط لکھنے کا حکم دینے کی مجاز نہیں اورعدالت عظمٰی کا  یہ فیصلہ غیرآئینی ہے۔اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ آئینی طور پر وزیراعظم کسی عدالت کوجوابدہ نہیں اور سپریم کورٹ کو وزیراعظم کے اختیارات میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔ اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل میں مزید کہا کہ انیس سو ستانوے میں جعلی خط کے ذریعے سوئس مقدمات شروع کئے گئے، این آراو سے متعلق سپریم کورٹ نے تین فیصلے دئے اور وزیراعظم کا تین مرتبہ عدالت میں پیش ہونا بڑی بات ہے، میں وزیراعظم ہوتا تو کبھی عدالت میں پیش نہ ہوتا۔جسٹس سرمد جلال عثمانی نے استفسار کیا کہ اگر وزیراعظم عدالتوں کو جوابدہ نہیں تو پھر آئین کی تشریح کون کرےگا۔ بنچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ عدلیہ کے ایک بھی فیصلے پرعمل نہیں ہواجس کے بعد جسٹس آصف سعید کھوسہ نے صدرکانام لیےبغیرسوئس حکام کوخط لکھنے کی تجویز دی، جس پر اٹارنی جنرل نے اس تجویز پر غور کیلئے کل تک کی مہلت طلب کرلی۔ جس پر سپریم کورٹ نے مزید سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی ۔