ڈاکٹرغلام رسول کی عدم بازیابی کے خلاف پی ایم اے کے زیراہتمام سول ہسپتال سے ریلی نکالی گئی، ریلی کے شرکاء کی صوبائی حکومت سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف شدید نعرے بازی۔

15 اگست 2012 (15:16)

ریلی کے شرکاء پریس کلب کے سامنے جمع ہوگئے جہاں پی ایم اے بلوچستان کے صدرڈاکٹرسلطان ترین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پندرہ روزگزرنے کے باوجود ڈاکٹرغلام رسول کوبازیاب نہیں کرایا جاسکا، صوبائی حکومت ڈاکٹروں کے احتجاج کا کوئی نوٹس نہیں لے رہی، ڈاکٹروں نے اڑتالیس گھنٹوں کے اندرڈاکٹرغلام رسول کے بازیاب نہ ہونے پرصوبے کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی سروسزبھی بند کرنے کی دھمکی دے دی۔ پی ایم اے بلوچستان کے صدرکا کہنا تھا کہ آج سے حکومت کی خاموشی پراحتجاج کرتے ہوئے تمام وزراء اوروزیراعلیٰ کے مشیروں اور ارکان اسمبلی کا بائیکاٹ کیاجائے گا اور ڈاکٹرزان کے علاج معالجے میں تعاون نہیں کریں گے۔ انہوں نے بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سے اپیل کی کہ ڈاکڑغلام رسول کی بازیابی کے لئے دائرکی گئی پٹیشن کی سماعت جلد کی جائے اور مغوی ڈاکٹر کی بازیابی کے لئے اقدامات کئے جائیں۔