امريکہ حقانی نيٹ ورک کے خلاف پاکستان،افغانستان اورايساف کی مربوط کارروائی کا خواہشمند ہے، اس سلسلے میں پاکستان اورافغانستان سے بات چيت بھی جاری ہے۔ امريکی محکمہ خارجہ

15 اگست 2012 (11:06)

واشنگٹن ميں ميڈيا کوبريفنگ ديتے ہوئے امريکی محکمہ خارجہ کی ترجمان وکٹوريا نولينڈ نے کہا کہ حقانی نيٹ ورک کی پاکستان اورافغانستان ميں کارروائيوں پرامريکہ کو شديد خدشات ہيں۔ انہوں نے بتایا کہ حقانی نيٹ ورک کودہشتگرد قراردينے سے متعلق بل پرصدراوباما نے جمعے کو دستخط کردئیے ہیں جس کے بعد امريکی وزيرخارجہ تیس دن ميں کانگريس کو رپورٹ پیش کریں گی کہ حقانی نيٹ ورک کودہشت گرد قرارديا جاسکتا ہے يا نہيں. وکٹوريا نولينڈ سے سوال کيا گيا کہ اگرپاکستان افغانستان ميں طالبان کے خلاف کارروائی کرے توامريکا اس کی حمايت کرے گا يا نہیں؟ جس کے جواب میں امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ يہ باتیں مفروضات پرمبنی ہيں، امريکہ کئی بارکہہ چکا ہے کہ وہ دہشتگردوں کے خلاف پاکستان ، افغانستان اوراتحادی افواج کی مربوط کوششيں چاہتا ہے۔