پاکستان‘ بھارت اور افغانستان مل کر خطے میں امن قائم کر سکتے ہیں : لیون پنیٹا

15 اگست 2012

واشنگٹن (نوائے وقت رپورٹ + ایجنسیاں) امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے کہا ہے امریکہ میں کچھ قوتیں جنگی کارروائیوں میں مشکل کا سبب بن سکتی ہیں ۔ پاکستان ، بھارت اور افغانستان مل کر خطے میں امن قائم کر سکتے ہیں ۔ افغانستان میں ایساف پرحملے بڑھ گئے۔ پاکستان اور امریکہ میں سرحد پار رابطے بہتر ہو رہے ہیں ، جنرل کیانی اور جنرل ایلن کی ملاقات میں دراندازی سے متعلق بھی بات چیت ہوئی۔ گزشتہ روز چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈیمپسی کے ساتھ پریس کانفرنس میں لیون پنیٹا نے کہا کہ طالبان ہاتھ سے نکلے علاقے واپس لینے میں ناکام ہو رہے ہیں ۔ افغان حکومت سے تعاون کریں گے افغانستان میں امن کے خواہش مندہیں۔ پاکستان نے پرامن اور مستحکم افغانستان میں اہم اقدامات کئے ہیں ۔ جنرل کیانی اور جنرل ایلن سرحد پار معلومات کے تبادلے پر رابطے میں ہیں۔ پاکستان کے راستے نیٹو سپلائی کی بحالی بڑا اور اچھا اقدام ہے، افغان جنگ نے شدت پکڑی تو مزید جانی نقصان ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں ایک ہزار سے زائد امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں ۔ افغانستان میں امریکی فوجیوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ افغانستان میں اقتدار کی منتقلی میں اتحادیوں سمیت مقامی لوگوں کی حمایت اہم ہو گی۔ پاکستان ، بھارت اور افغانستان سے مل کر خطے میں امن قائم کر سکتے ہیں ۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی شہریوں اور فوجیوں کی جانیں گئیں پاکستانی قیادت سے مشترکہ مفادات کے حصول پر بات چیت کی۔ پنیٹا نے کہا کہ امریکہ کو یقین نہیں کہ اسرائیل نے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے ایران پر کسی حملے کا فیصلہ کیا ہے۔ جنرل ڈیمپسی نے کہا کہ طالبان کو کمزور کرنے کیلئے مل کر حکمت عملی بنا رہے ہیں ۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کو انٹرویو کی مزید تفصیلات کے مطابق پنیٹا نے کہا کہ جنرل کیانی نے یہ اشارہ دیا تھا کہ انہوں نے وزیرستان میں جانے کے منصوبے بنائے ہیں ۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے افغانستان میں امریکی فوج کے سینئر کمانڈر جنرل جان ایلن سے اپنے حالیہ رابطوں میں شمالی وزیرستان میں مجوزہ فوجی آپریشن پر بات کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن اس سے پہلے یہ امید چھوڑ چکا تھا کہ پاکستان شمالی وزیرستان میں کوئی فوجی کارروائی کرے گا۔ امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ انہیں یہ نہیں معلوم کہ یہ فوجی کارروائی کب شروع ہوگی لیکن انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایسا جلد ہی ہوگا۔ امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق پاکستان کی مجوزہ فوجی کارروائی کا مرکزی ہدف حقانی نیٹ ورک نہ ہونے کے باوجود لیون پنیٹا نے جنرل کیانی کے اس اقدام کا خیرمقدم کیا۔