غیر منصفانہ نظام کو دفن کرنا ہوگا۔۔ سیاستدان‘ عدلیہ‘ اشرافیہ‘ بیوروکریسی کردار ادا کریں : شہبازشریف

15 اگست 2012

لاہور (خصوصی رپورٹر) وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان خیبر پی کے، سندھ، بلوچستان، پنجاب، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر پر مشتمل ہے۔ 18 کروڑ عوام نے مل کر اسے مضبوط اور مستحکم بنانا ہے۔ اگر ہم صحیح معنوں میں قائدؒ اور اقبالؒ کے پیروکار بن جائیں تو ملک کے اندھیرے اجالوں میں بدل سکتے ہیں۔ آج کے تاریخی دن کے موقع پر ہمیں ملک سے غیر منصفانہ نظام کے خاتمے اور ایک ایسا نظام لانے کا عہد کرنا ہو گا جہاں انصاف کا بول بالا ہو اور ہر ایک کو آگے بڑھنے کے یکساں مواقع حاصل ہوں۔ اس مقصد کے لئے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ سب سے بڑی ذمہ داری سیاستدانوں، اشرافیہ، عدلیہ، بیوروکریسی پر عائد ہوتی ہے جو تاریخ کا دھارا موڑنے کی طاقت بھی رکھتے ہیں۔ ہمیں ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنا ہے۔ جس سوچ سے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا اسی سوچ کو اپنا کر اسے معاشی طاقت بھی بنانا ہے۔ بوسیدہ اور غیر منصفانہ نظام کو دفن کر کے منصفانہ نظام کے ذریعے پاکستان کو ایک ایسی زبردست قوت بنایا جا سکتا ہے جس کی طرف دشمن کبھی میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرا¿ت نہیں کر سکتا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ حضوری باغ میں یوم آزادی کے موقع پر پرچم کشائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ شہباز شریف نے کہا کہ لاکھوں مسلمانوں نے آنکھوں میں ایسے وطن کے خواب سجا کر ہجرت کی جہاں انہیں ہندوﺅں کی بالادستی سے نجات ملے گی اور وہ اسلامی تعلیمات کے مطابق اپنی زندگیاں بسر کر سکیں گے۔ پاکستان کو قائم ہوئے آج 65 سال گزر چکے ہیں۔ اگرچہ پاکستان نے مختلف شعبوں میں بے مثال ترقی کی ہے تاہم ناکامیوں کی فہرست بھی بہت طویل ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر منصفانہ نظام نے بی اے کے امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے محسن علی کی کوئی سپورٹ نہیںکی جو ہم سب کے لئے تازیانہ اور لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک کمرے میں گیارہ مزدوروں کے ساتھ رہنے والے طالب علم محسن علی نے اپنی محنت، دیانت اور امانت سے یہ اعلیٰ مقام حاصل کیا۔ یہی خواب بانیان پاکستان کے ذہنوں میں تھا، محسن علی جیسے کروڑوں بچے پاکستان میں موجود ہیں۔ اگر انہیں مواقع فراہم کئے جائیں تو وہ ملک کو ترقی کی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ ملک کو حقیقی معنوں میں اسلامی فلاحی مملکت بنانے کے لئے انتہا پسندی، دہشت گردی، کرپشن، اقربا پروری، سفارش اور غیر منصفانہ نظام کو ہر صورت دفن کرنا ہو گا اور محنت، محنت اور صرف محنت سے پاکستان کو قائدؒ اور اقبالؒ کا خوشحال اور ترقی یافتہ ملک بنانا ہو گا۔ پاکستان آگ اور خون کے دریا عبور کر کے معرض وجود میں آیا ہے۔ لاکھوں افراد نے قربانیاں دی ہیں۔ 65 برس بیت گئے، پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر گیا لیکن ملک کی سمت درست نہیں کی جا سکی جس کے ذمہ دار ہم سب ہیں۔ آج بھی وقت ہے ہم پاکستان کو قائدؒ اور اقبالؒ کے افکار کے مطابق ایک فلاحی مملکت میں تبدیل کر سکتے ہیں لیکن اس کے لئے ہمیں تمام اختلافات بھلا کر درست سمت کی طرف پیش قدمی کرنا ہو گی۔ بدقسمتی سے آج پاکستان بھکاری ہے لیکن محنت، دیانت اور امانت کے اصول اپنا کر ہم اپنا کشکول توڑ سکتے ہیں اور انشاءاللہ پاکستان امداد لینے کی بجائے امداد دینے والا ملک بنے گا۔ وزیر اعلیٰ نے ان خیالات کا اظہار گذشتہ روز گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ گرلز ڈگری کالج سمن آباد میں بین الاقوامی کمپیوٹر کمپنی ڈیل کے تعاون سے قائم کردہ ای لائبریری کا افتتاح کرنے کے بعد طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ شہباز شریف نے طالبات کو نصیحت کی کہ وہ محنت، دیانت اور ایمانداری سے کام کریں اور ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا م¶ثر کردار ادا کریں ۔