پاکستان اور افغان فورسز میں شدید گولہ باری

15 اگست 2012
پاکستان اور افغان فورسز میں شدید گولہ باری

کابل + اورکزئی ایجنسی + ہنگو (اے ایف پی + نامہ نگار) پاکستان اور افغانستان کی فورسز میں جھڑپ میں دونوں اطراف سے بھاری ہتھیاروں سے گولہ باری کی گئی جس کے نتیجہ میں ایک افغان اہلکار مارا گیا جبکہ 5 زخمی ہوئے۔ افغان وزارت داخلہ نے الزام لگایا ہے کہ پاکستان سے صوبہ کنڑ کے ضلع دنگام میں فوجی پوسٹوں پر فائرنگ کی گئی تاہم پاکستانی حکام نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان سے حملہ کی صورت میں صرف محدود جوابی کارروائی کی ہے۔ گذشتہ روز ہونے والی جھڑپ 2 گھنٹے سے زائد جاری رہی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پاکستانی فورسز نے تقریباً 50 را¶نڈ فائر کئے، 20 گولے پھینکے اور 27 مارٹر شیل پھینکے گئے، حملے کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔ بی بی سی کے مطابق مقامی قبائل کا کہنا ہے کہ دونوں طرف سے بھارتی ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔ علاوہ ازیں سکیورٹی فورسز نے اپراورکزئی ایجنسی کے علاقے دولانی پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپ میں 5 اہلکار جاںبحق 18 زخمی ہو گئے۔ فورسز کی جوابی کارروائی میں 30 شدت پسند بھی مارے گئے جبکہ 8 زخمی حالت میں گرفتار کر لئے گئے۔ ہنگو سے نامہ نگار کے مطابق 5 شہید سکیورٹی اہلکاروں میں سپاہی ظہیر‘ سپاہی عرفان‘ سپاہی اسماعیل‘ حوالدار محمد عالم‘ سپاہی یاسین شامل ہیں جبکہ زخمی اہلکاورں میں کیپٹن طارق جمیل‘ سپاہی سعید اقبال سمیت 18 اہلکار زخمی ہو گئے۔ زخمیوں اور مرنے والوں کو بذریعہ ہیلی کاپٹر پشاور منتقل کر دیا گیا ہے۔ ادھر تحریک طالبان کے مقامی ترجمان احمد کے نام سے نامعلوم مقام سے ہنگو میڈیا کو فون پر 10 اہلکاروں کے اغوا اور 15 سکیورٹی اہلکاورں کے شہید کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔