شفاف الیکشن : حزب اختلاف تنقید کی بجائے مثبت تجاویز دے ۔۔ نگران حکومت کیلئے اپوزیشن سے مفید مذاکرات چاہتے ہیں : وزیراعظم

15 اگست 2012

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی + ایجنسیاں) وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ حکومت عدلیہ سمیت تمام قومی اداروں کے درمیان خوشگوار تعلقات چاہتی ہے، غیر جانبدار اور شفاف انتخابات چاہتے ہیں، حکومت کسی کے ساتھ محاذ آرائی نہیں چاہتی، نگران حکومت کے قیام کے لئے اپوزیشن کے ساتھ مفید مذاکرات کے قائل ہیں ، ملک میں دہشت گردی کی لعنت پر جلد کنٹرول کر لیں گے۔ وزیراعظم نے کہا ملکی بقا اور مسائل کا حل جمہوریت سے وابستہ ہے، سرائیکی صوبے کا خواب لازماً شرمندہ تعبیر ہو گا۔ امریکہ پر واضح کر دیا ہم ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں کا احترام کرتے ہوئے کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے میں تاخیری حربوں سے گریز کرے۔ بلوچستان کا مسئلہ سابق حکومت کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ جمہوریت بہترین طرز حکومت ہے ، مستحکم جمہوری نظام ملک کی ترقی ،خوشحالی اور تمام مسائل کے حل کی ضمانت ہے، بلوچستان کا مسئلہ گزشتہ حکومتوں کی غلطیوں کا شاخسانہ ہے، ناراض بلوچوں کو مذاکرات کی پیشکش کی ہے، پرامن انتقال اقتدار کےلئے ہم غیر جانبدارانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد چاہتے ہیں ، اپوزیشن تنقید کی بجائے مثبت تجاویز پیش کرے تاکہ ترقی کا عمل آگے بڑھ سکے، جنوبی پنجاب کے عوام کا احساس محرومی دور کرنے کےلئے بہت جلد الگ صوبے کا خواب شرمندہ تعبیر ہو گا، موجودہ حکومت نے مہنگائی، بے روزگاری ، دہشتگردی کے خاتمے، توانائی بحران کے حل، اقلیتوں اور خواتین کو بااختیار بنانے ، فاٹا میں سیاسی جماعتوں کو کام کی اجازت، پختونوں کو ان کی شناخت دینے سمیت اہم اقدامات اٹھائے ہیں ۔ افغانستان کے مسئلے، بھارت سے کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کا حل چاہتے ہیں، پہلی بار خارجہ پالیسی میں عوامی نمائندوں کے ذریعے عوام کی آراءشامل کی گئی ہے۔ کنونشن سنٹر میں پرچم کشائی کے موقع پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے 66 ویں جشن آزادی کے موقع پر قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا تحریک آزادی جمہوری اور آئینی جدوجہد کی عمدہ اور عظیم مثال ہے جس نے اقوام عالم پر ثابت کردیا جمہوریت مسلمانوں کے خون میں رچی بسی ہے۔ آج وہ دن ہے جب برصغیر کے مسلمان قائداعظم کی رہنمائی میں آزادی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے اور پاکستان ایک آزاد اور خودمختار ملک کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ جمہوریت بہترین طرز حکومت ہے اور پاکستان کے تمام مسائل کا حل اور ملک کی بقا اس سے ہی وابستہ ہے،ہمارے قائدین ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹوشہید نے پاکستان میں جمہوریت اور عوامی حقوق کی بحالی کے لئے بے مثال جدوجہد کی اور اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر ملک میں جمہوریت کی شمع روشن کی ، ہمیں فخر ہے ہم نے گذشتہ چار سالوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور خداکے فضل و کرم سے آج ملک میں جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہیں ، اس کامیابی کا سہرا صدر زرداری کی بصیرت افروز قیادت کو دینا بے جا نہ ہوگا۔ انہوں نے کہا یہ امر باعث اطمینان ہے کہ موجودہ جمہوری حکومت نے وطن عزیز میں سیاسی، معاشی اور معاشرتی ترقی کے کئی اہم اہداف حاصل کئے ہیں جن کی بدولت ملک کی معیشت کو سہارا ملا، یہ بات قابل ذکر ہے پچھلے چار برسوں میں سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کا حجم416 ارب روپے سے بڑھ کر 873 ارب روپے کی سطح پر پہنچ گیا اور بیرونی ممالک سے ترسیلات زر 13 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی ہیں ۔ وزیراعظم نے کہا میں نے عہدہ سنبھالتے ہی اپنے لئے چند ترجیحات متعین کیں۔ میں سمجھتا ہوں ان ترجیحات پر عمل درآمد سے ملک میں پائیدار ترقی کی بنیادیں استوار ہوسکتی ہیں ۔ علاوہ ازیں وزیراعظم سے فاٹا کے ارکان پارلیمنٹ کے وفد نے ملاقات کی اور ترقیاتی منصوبوں اور جاری سکیموں کے بارے میں آگاہ کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہا حکومت قبائلی علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کی جلد تکمیل کے لئے تمام ممکنہ مدد فراہم کرے گی۔ رکن قومی اسمبلی منیر اورکزئی کی قیادت میں فاٹا کے ارکان پارلیمنٹ کے وفد نے وزیراعظم کو یوم آزادی کی مبارکباد دی۔ انہوں نے قبائلی علاقوں میں مقامی حکومتوں کا نظام متعارف کرانے کے حکومت کے فیصلے کو بھی سراہا۔ مزید برآں وزیراعظم ہا¶س میں ارکان قومی اسمبلی مفتی اجمل خان، سجاد الحسن، ملک مشتاق اعوان، طارق تارڑ، تصدق مسعود خان اور سابق ایم این اے نذیر جٹ سے الگ الگ ملاقات کی اور وزیراعظم کو یوم آزادی کی مبارکباد بھی دی۔ وزیراعظم نے ارکان پارلیمنٹ پر زور دیا وہ ملک کو حقیقی معنوں میں ایک فلاحی مملکت بنانے اور غریب عوام کی مشکلات کم کرنے کے لئے بھرپور کام کریں۔ مفتی اجمل خان نے وزیراعظم سے درخواست کی کہ وہ وزارت خزانہ کو انفراسٹرکچر کے منصوبوں کے لئے فنڈز جاری کرنے کی ہدایت کریں جو فنڈز کی کمی کی وجہ سے رکے ہوئے ہیں ۔ نذیر جٹ نے وزیراعظم کو ان کے سعودی عرب کے کامیاب دورہ پر مبارکباد دی۔ انہوں نے وزیراعظم کو مکہ مکرمہ کے اپنے دورہ اور پاکستانی تاجروں سے اپنی ملاقاتوں کے بارے میں آگاہ کیا جو پاکستان میں توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔ ملک مشتاق اعوان اور طارق تارڑ نے وزیراعظم سے اپنے اپنے حلقوں میں بجلی اور پانی کی سکیموں کے لئے فنڈز جاری کرنے کی درخواست کی ۔ انہوں نے وزیراعظم کو اپنے حلقوں میں ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کرنے کے لئے دورہ کی بھی دعوت دی۔ وزیراعظم سے گوجر خان کے عمائدین کے وفد نے بھی ملاقات کی اور انہیں یوم آزادی کی مبارکباد دی۔ وفد نے وزیراعظم کے ساتھ ان کے انتخابی حلقے سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان میں چند مٹھی بھر ملک دشمن عناصر اور بیرونی قوتوں کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے کشمکش کی فضا پیدا ہو گئی ہے جو باعث تشویش ہے۔ انہوں نے کہا ہم نے ناراض بلوچوں کو مذاکرات کی پیشکش کی ہے تاکہ تمام معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کیا جا سکے۔ ہماری خواہش ہے آئندہ انتخابات میں بلوچستان کی تمام سیاسی پارٹیاں بھرپور طریقے سے حصہ لیں۔ انہوں نے کہا دہشت گردی ایک چیلنج ہے اور ہم نے اس برائی کو جڑ سے اکھاڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان صف اول کا کردار ادا کر رہا ہے۔ہم نے اپنی مضبوط قوت ارادی سے دہشت گردوں کو پسپائی پر مجبور کیا اور انشا ءاللہ بہت جلد اس برائی کو مکمل طور پر ختم کر کے ملک میں امن و امان کو یقینی بنائیں گے۔ وزےراعظم نے کہا کراچی کے حالات سے حکومت بخوبی آگاہ ہے اور وہاں پر امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے نہایت سنجیدہ اور پرعزم ہے۔ مجھے یقین ہے تمام محب وطن قوتیں اس مسئلے کے حل میں حکومت کا ہاتھ بٹائیں گی۔ خلوص نیت سے کی گئی کوششیں یقیناً بارآور ثابت ہوں گی۔ انہوں نے کہا میں نے وزیراعظم کاعہدہ سنبھالتے ہی پہلے ہی دن توانائی بحران پر میٹنگ کی اور ملک میں بجلی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کیلئے ضروری اقدامات کا جائزہ لیا۔ موجودہ حکومت نے ورثے میں ملے ہوئے اس بحران کے حل کیلئے سنجیدہ کوششیں کیں اور اب تک 3500 میگاواٹ سے زیادہ بجلی قومی گرڈ میں شامل ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا میں نے حال ہی میں تھرکول پراجیکٹ کا دورہ کیا اور کوئلے کے وسیع ذخائر کو استعمال میں لانے کے انتظامات کا بذات خود جائزہ لیا۔میں سمجھتا ہوں ماضی میں اس قومی دولت کو نظر انداز کر کے مجرمانہ غفلت برتی گئی ہے۔ تھر کے ذخائرکو ترقی دینے سے پاکستان معاشی خوشحالی کے ایک نئے دور میں داخل ہو گا اور بیرونی دنیا کیلئے ایک قابل تقلید مثال بن جائے گا جہاں سرمایہ کاری اور روزگارکی فراوانی ہو گی۔ تھر کوئلے کے ذخائر کی ترقی سے ہی پاکستان کامعاشی مستقبل وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا حکومت بیت المال کے ذریعے لاکھوں غریب افراد کی کفالت کر رہی ہے۔ حکومت ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے عوام کو درپیش مشکلات سے آگاہ ہے۔ ملک کے محدود وسائل کے باوجود حکومت نے یوٹیلٹی سٹورز پر عوام کو ریلیف دینے کی خاطرچار ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی ہے تاکہ مہنگائی کے اس دور میں عوام کی مشکلات کو کسی حد تک کم کیا جا سکے۔ حکومت نے بے روزگاری کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے موجودہ مالی سال میں ایک لاکھ افراد کو روز گار کے مواقع پیدا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ وزےراعظم نے کہا حکومت نے تمام شعبہ ہائے زندگی میں خواتین کو یکساں مواقع فراہم کرنے کیلئے اہم اقدامات کئے ہیں اور ان کے حقوق کو قانونی تحفظ فراہم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی جمہوری نظام میں اپوزیشن کا اہم کردار ہوتا ہے۔ ہم اپوزیشن کے مثبت کردار کو اہمیت دیتے ہیں ۔ آئندہ انتخابات کو غیر جانبدار اور شفاف انداز میں منعقد کرنے کیلئے ہم اپوزیشن کو اعتماد میں لے رہے ہیں جس کی ابتدا ہم نے غیرجانبدار الیکشن کمشنر کی متفقہ تقرری سے کی ہے۔ ہم غیر جانبدار اور شفاف الیکشن چاہتے ہیں تاکہ اقتدار جمہوری انداز میں منتقل ہو جو ملک میں جمہوریت کے تسلسل کے لئے یہ بہت بڑی کامیابی ہو گی۔ انشاءاللہ آئندہ انتخابات میں ملک کی تمام سیاسی جماعتیں بھرپور انداز میں حصہ لیں گی اور جمہوری عمل کے تسلسل کیلئے اپنا کردار ادا کریں گی۔ہم نے ہر قسم کی تنقید کو نہایت خندہ پیشانی سے قبول کیا ہے کیونکہ ہم محاذ آرائی پر یقین نہیں رکھتے۔ ہم بے نظیر بھٹو شہید کے وژن کے مطابق مفاہمت کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں ۔ ہمارا مقصد ملک میں افہام و تفہیم کی فضا کو فروغ دینا ہے۔ ہم چاہتے ہیں اپوزیشن تعمیری انداز فکر اپنا کر حکومت پر تنقید کی بجائے مثبت تجاویز پیش کرے تاکہ ملک میں ترقی کا عمل جاری رہے۔ وزےراعظم نے کہا ہم تمام اہم قومی معاملات بشمول نگران حکومت کے قیام میںاپوزیشن کے ساتھ مفید مذاکرات کے قائل ہیں تاکہ اہم قومی امورکو باہمی اتفاق رائے سے حل کیا جائے، ملک میں جمہوری اقدار اور افہام و تفہیم کوفروغ حاصل ہو اور جمہوریت کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے۔ ہم نے تمام سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کی پیشکش کی ہے اور امید کرتے ہیں سیاسی قائدین قومی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے حکومت سے تعاون کریں گے۔انہوں نے کہا جنوبی پنجاب کو ماضی میں ترقیاتی لحاظ سے نظرانداز کیا گیا جس کی وجہ سے نہ صرف یہ علاقہ ترقیاتی عمل میں پیچھے رہ گیا بلکہ اس کا احساس محرومی بھی بڑھ گیا ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس علاقے کے لوگوں کے احساس محرومی کے ازالے کا بہترین حل ان کی خودمختاری ہے۔ جنوبی پنجاب میں نئے صوبے کے قیام سے اس علاقے کے عوام کا ایک دیرینہ مطالبہ پورا ہو گا۔ ہم نے اس سلسلے میں عملی اقدامات کا آغاز قومی اسمبلی میں سرائیکی صوبے کے حق میں قرارداد کی منظوری سے کیا ہے۔ انشاءاللہ بہت جلد سرائیکی عوام کا یہ دیرینہ مطالبہ شرمندہ تعبیر ہوگا۔انہوں نے کہا پیپلز پارٹی کے منشور میں اظہار رائے اورمیڈیا کی آزادی کو ہمیشہ بنیادی اہمیت حاصل رہی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں میڈیا اور جمہوریت لازم وملزوم ہیں ۔ انہوں نے کہا ہم نے حال ہی میں قومی اسمبلی کی سفارشات کی روشنی میں نیٹو سپلائی کیلئے زمینی راستے کھول دیے ہیں ۔ نیٹو سپلائی کی بندش سے افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا۔ ہمارا یہ اقدام نہ صرف قومی مفاد کوفروغ دے گا بلکہ نیٹو کے ساتھ ہمارے تعلقات میں بہتری لانے کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف مدافعت میں بھی کارگر ثابت ہوگا اور خطے میں امن و امان کی کوششوں کیلئے ہمارے عملی اقدامات کا مظہر ہوگا۔ انہوں نے کہا ہم نے امریکہ کے ساتھ زبانی معاہدوں کی بجائے تحریری معاہدوں کو ترجیح دی اور قومی اسمبلی کی سفارشات کے مطابق امریکہ کے ساتھ مفاہمتی دستاویزات پر دستخط کئے۔ افغانستان ہمارا بردار اسلامی ملک اور اہم پڑوسی ہے۔ ہم افغان مسئلے کا ایسا دیرپا حل چاہتے ہیں جسے افغان عوام کی مکمل تائید و حمایت حاصل ہو۔ افغانستان کے امن و استحکام سے پاکستان کا امن و استحکام وابستہ ہے۔ یہ دونوں ممالک کے مشترکہ مفاد میں ہے کہ افغان مسئلہ جلد از جلد پرامن طریقے سے حل ہو۔ سعودی عرب ہمارا برادر اسلامی ملک ہے جس سے ہمارے قریبی اور دیرینہ تعلقات ہیں ۔ میرے دورہ سعودی عرب سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ انہوں نے کہا چین ہمارا قریبی اور بااعتماد دوست ہے اور اس سے تعلقات ہماری خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہیں ۔ ہم خطے میں امن اور خوشحالی کی خاطر بھارت کے ساتھ خوشگوارتعلقات چاہتے ہیں اور تمام متنازعہ امور بشمول مسئلہ کشمیر بات چیت اور افہام تفہیم سے حل کرنے کے خواہاں ہیں ۔ ہمارے نزدیک مذاکرات ہی مسائل کے حل کابہترین ذریعہ ہیں ۔ ہم نے بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات کاآغاز کیاہے تاکہ دونوں ممالک ایک دوسرے سے مستفید ہوں۔ اس اہم پیشرفت سے دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان پائیدار دوستی کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا ہم امریکہ سمیت یورپی یونین ممالک کے ساتھ باہمی احترام کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنے کے خواہاں ہیں ۔ یہ امر باعث اطمینان ہے ہماری مخلصانہ کوششوں سے امریکہ اور یورپی یونین سے ہمارے تعلقات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں ۔ یورپی یونین ممالک کی منڈیوں تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی ایک اہم پیشرفت ہے۔ ہم نے امریکہ پر واضح کردیا ہے ہم اپنی داخلی خودمختاری اور ملکی سلامتی پر کسی سمجھوتے کے قائل نہیں اور ڈرون حملوں کو ملک کی خودمختاری میں مداخلت سمجھتے ہیں ۔ ہم امداد کی بجائے تجارت کو ترجیح دیتے ہیں ۔ انہوں نے کہا میں پاکستان کے اس م¶قف کا اعادہ کرنا چاہتا ہوں کہ ہم اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیرکے مسئلہ کا حل چاہتے ہیں اور کشمیری عوام کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے۔ ہم توقع رکھتے ہیں بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں کا احترام کرتے ہوئے کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے میں تاخیری حربوں سے گریز کرے گا۔ انہوں نے کہا موجودہ حکومت عدلیہ سمیت تمام قومی اداروں کے درمیان خوشگوار تعلقات کی خواہاں ہے اور خوشگوار تعلقات کو فروغ دینا چاہتی ہے۔ ہم توقع رکھتے ہیں تمام ادارے اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے فرائض سرانجام دیں گے۔