”پوراکشمیر ہمارا اٹوٹ انگ ہے“ بھارتی ہٹ دھرمی برقرار

15 اگست 2012

نئی دہلی (آن لائن) بھارت نے اےک بار پھر سیاچن سمیت پوری ریاست جموں و کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دینے کا راگ الاپتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ریاست کے علاقوں پر غیرقانونی اور زبردستی قابض ہے۔ پاکستان کے ساتھ معاملات دوطرفہ اور پرامن طور پر حل کرنا چاہتے ہیں۔ دہشت گرد اپنی سرگرمیوں کےلئے جعلی بھارتی کرنسی استعمال کررہے ہیں۔ ان خیالات کااظہار بھارتی وزیردفاع اے کے انتھونی نے لوک سبھا میں تحریری جواب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں موجود دہشت گرد گروپ بھارت میں اپنی سرگرمیوں کی مالی معاونت کےلئے بھارت کی جعلی کرنسی استعمال کررہے ہیں۔ بھارت میں سرگرم دہشتگردوں کو بھی تیسرے ملک کے راستے اکثر بیرون ملک گروپوں بالخصوص پاکستان سے فنڈز فراہم کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے دہشت گردانہ سرگرمیوں پر نظررکھنے کےلئے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں۔ بھارتی وزیر دفاع نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کہا کہ بھارت ہمسایہ ملک کے ساتھ معاملات کو دوطرفہ اور پرامن طور پر حل کرنا چاہتا ہے اور پاکستان کی طرف سے جموں و کشمیر کے علاقوں پر غیرقانونی اور زبردستی قبضے کا معاملہ ابھی تک حل طلب ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاست جموں و کشمیر کا علاقہ پاکستان کے غیرقانونی اور جبری تسلط میں ہے۔ سیاچن گلیشیر کا علاقہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔ پوری ریاست جموں و کشمیر بھارت کا حصہ ہے جبکہ بھارت شملہ معاہدے اور لاہوراعلامیہ کے تحت پاکستان کے ساتھ تمام حل طلب معاملات کو پرامن طور پر حل کرنے کے عزم پر قائم ہے۔ سیز فائر لائن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 1949ءکے کراچی معاہدے اور 1972 کے شملہ معاہدے کے تحت سیزفائر لائن کی توضیح کرنا ہوگی۔ عالمی نقشے میں بھارتی سرحدوں کوغلط انداز میں پیش کئے جانے پر اے کے انتھونی نے کہا کہ ےہ معاملہ حکومت کے نوٹس میں لایاگیا ہے ۔ فوج اور سفارتی چینلز کے ذرےعے حکومت پاکستان کو بھی بھارت کے مو¿قف سے آگاہ کیا گیا۔