ہمارے ہاں جمہوریت کے سوا کوئی طرز حکومت نہیں چل سکتا : مجید نظامی

15 اگست 2012

لاہور (خصوصی رپورٹر) آزادی سے بڑھ کرکوئی نعمت اور دولت نہیں ہے۔ ہمارے ہاں جمہوریت کے علاوہ کوئی اور طرز حکومت نہیں چل سکتا لیکن اس کیلئے شفاف الیکشن کا انعقاد ضروری ہے۔ قوم آئندہ الیکشن میں ایسے افراد کو ووٹ دے جو پاکستان کو قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کے نظریات وتصوارت کے عین مطابق ایک جدید اسلامی جمہوری فلاحی ملک بنائیں۔ میری دعا ہے بھارت کے ساتھ تجارت اورتعلقات بڑھانے کی باتیں کرنے والے حکمرانوں کو اللہ تعالیٰ راہ راست پر لے آئے۔ ان خیالات کا اظہار تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن‘ ممتاز صحافی اور نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین مجید نظامی نے ایوانِ کارکنانِ تحریک پاکستان لاہور میں 66ویں یوم آزادی کے موقع پر”تقریب پرچم کشائی“ کے بعد منعقدہ خصوصی تقریب میں اپنے صدارتی خطاب کے دوران کیا۔ اس تقریب کا اہتمام نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ نے تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا تھا۔ مجید نظامی نے کہا میں پوری ایمانداری سے سمجھتا ہوں آزادی سے بڑھ کرکوئی نعمت اور دولت نہیں ۔ آپ عالم فاضل یا کروڑ اور ارب پتی ہیں لیکن غلام ہیں تو آپ کسی قابل نہیں ۔ جب 1947ءمیں انگریز یہاں سے جانے لگا تو ہندوﺅں اور انگریزوں نے مل کر بہت کوشش کی کہ تقسیم ہند نہ ہو اور اکھنڈ بھارت قائم رہے۔ لیڈی ماﺅنٹ بیٹن کا جواہر لال نہرو سے معاشقہ چل رہا تھا اور وہ بھی قیام پاکستان کے مخالف اور ہندوستان کو ایک دیکھنا چاہتی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں قائداعظمؒ کی صورت میں ایک ایسا رہنما عطا فرمایا جو تقسیم ہند اور پاکستان کی آزادی سے کم کسی بات پر سمجھوتہ کیلئے تیار نہ تھے۔ علامہ اقبالؒ نے نہ صرف ہمیں نظریہ دیا بلکہ انہوں نے قائداعظمؒ کو جو ہندوستان چھوڑ کر لندن میں سیٹل ہو چکے تھے ان سے ملاقات کرکے اور خطوط لکھ کر اس بات پر قائل کیا کہ وہ واپس آئیں اور قوم کی رہنمائی فرمائیں۔ قائداعظمؒ نے علامہ اقبالؒ کی بات مان لی اور واپس آکر اپنی تمام صلاحیتیں قیام پاکستان کیلئے وقف کر دیں۔ میں یہاں قائداعظمؒ کی بہن مادرملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کا ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکتا اور میں پوری ایمانداری سے سمجھتا ہوں انہوں نے قائداعظمؒ کی تیمارداری بھرپورطریقے سے کی وہ ایسا نہ کرتیں تو شاید قائداعظمؒ جو ٹی بی کے مریض تھے اللہ تعالیٰ کو جلد پیارے ہو جاتے۔ ہم نے اپنی نالائقیوں سے ایک کے دو پاکستان بنا دیئے اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ میں نے شیخ مجیب کو یہاں غلام جیلانی کے گھر کہا وہ کیا کر رہے ہیں آپ کی اکثریت ہے آپ الیکشن لڑکر آگے آئیں اور حکومت کریں ہم آپ کو سپورٹ کریں گے تواس نے کہا مجھے یہاں کوئی حکومت نہیں کرنے دے گا۔ میں نے کہا آپ وہاں سے ہی حکومت کریں تو اس نے کہا مجھے وہاں سے بھی کوئی حکومت نہیں کرنے دے گا تو میں نے اندازہ لگا لیا وہ ایک کے دو پاکستان بنانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا ذوالفقارعلی بھٹو جو میرے دوست بھی تھے اور میری ان کے ساتھ سٹک اینڈ کیرٹ والی پالیسی تھی۔ انہوں نے جب اِدھرہم اُدھر تم کا نعرہ لگایا تو انہوں نے دو پاکستان کی بنیاد رکھ دی۔ آج کل ان کے داماد جو اپنے آپ کو ان کا روحانی فرزند بھی قرار دیتے ہیں اور بغیر معافی مانگے دس سال جیل کاٹنے پر میرے مرد حر بھی ہیں‘ ان کی حکومت ہے لیکن آپ دیکھ رہے ہیں آج قائداعظمؒ‘ علامہ اقبال ؒ‘مادرملتؒ اور نظریہ¿ پاکستان کہاں ہیں؟۔ پاکستان کو ایک جدید اسلامی جمہوری فلاحی مملکت بنانے کیلئے ہرایک کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ میری دعا ہے میں پاکستان کو ایک اسلامی جمہوری اور فلاحی ملک بنا دیکھ سکوں۔ جہاں تک کشمیر کا تعلق ہے اسے قائداعظمؒ نے پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ آج ہمارے حکمران بھارت کے ساتھ تجارت اور تعلقات بڑھانے کی باتیں کررہے ہیں۔ میری دعا ہے اللہ تعالیٰ ایسے حکمرانوں کو راہ راست پر لے آئے۔ تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن کرنل (ر) امجد حسےن سےد نے کہا نظرےہ¿ پاکستان ٹرسٹ تحرےک پاکستان کے ولولوں اور جذبوں کو زندہ کرنے کےلئے بے پناہ کام کر رہا ہے اس سے نوجوان نسلوں کی نظرےاتی تربےت ہو رہی ہے۔ دنےا کی تارےخ مےں ےہ پہلا واقعہ تھا کہ صرف سات برس کی قلےل مدت مےں کسی فوج اور ہتھےار کے بغےر اےک وطن حاصل کرلےا گےا اور ےہ سب قائداعظمؒ کی پرخلوص قےادت کا نتےجہ تھا۔ ان کے پاس اےمان‘ اتحاد اور تنظےم کی دولت تھی۔ نئی نسل ان سنہری اصولوں کو اپنے لئے مشعل راہ بنائے۔ نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے کہا قائداعظمؒ کو نوجوانوں سے بڑی محبت تھی۔ انہوں نے 14اگست 1947ءکا ذکرکرتے ہوئے کہا قیام پاکستان کے اعلان کے بعد بعض علاقوں میں فسادات شروع ہو گئے تھے۔ لاہور میں شاہ عالمی دروازے میں آگ لگی ہوئی تھی اور آگ کے شعلے آسمان سے باتیں کر رہے تھے۔ اس وقت باہر کرفیو لگا ہوا تھا۔ 14 اور 15 اگست کی درمیانی رات ریڈیوسنتے ہوئے اہلیان لاہور اپنی چھتوں پر چڑھے انتہائی خوشی کا اظہارکر رہے تھے اور پاکستان زندہ باد‘ پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ کے نعرے لگا رہے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد بھارتی مشرقی پنجاب کے 50لاکھ مسلمانوں کو ان کے گھروں سے ہجرت پرمجبور کردیا گیا اور ان پر مظالم کے پہاڑ توڑے گئے۔ آگ اورخون کا دریا عبورکرکے جب یہ مہاجرین پاکستان پہنچے تو اہل لاہور نے فراخد لی کا ثبوت دیتے ہوئے ان کی ہر ممکن امداد اور دیکھ بھال کی۔ نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہدرشید نے کہا ہم مجید نظامی کی قیادت میں نئی نسل کی نظریاتی تعلیم وتربیت کررہے ہیں اور انہیں تحریک پاکستان‘ قیام پاکستان کے اسباب و مقاصد اور مشاہیر تحریک آزادی کے افکار و خیالات سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر سمیت دیگر مسائل حل ہوئے بغیر کسی قسم کے کوئی تعلقات نہیں رکھنے چاہئیں۔ ہم بھارتی آبی جارحیت کی میانمار میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی شدید مذمت کرتے ہیں اور ان مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ بھارتی اور فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے کے علاوہ بنگلہ دیش میں پاکستان کے حامی عناصر کے خلاف حکومتی اقدامات کی بھی مذمت کرتے ہیں۔ پروفیسر غلام اعظم کے ساتھ پیرانہ سالی میں نارواسلوک کیا جا رہا ہے ان کو جیل میں بند کیا گیا ہے اور جھوٹا مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا ایوان قائداعظمؒ کی تعمیر کا کام تیزی سے جاری ہے اور انشاءاللہ آئندہ یوم آزادی وہاں منایا جائے گا۔ تقریب کے دوران قائداعظمؒ کی30 اکتوبر1947ءمیں یونیورسٹی گراﺅنڈ میں کی جانے والی تاریخی تقریر کا اقتباس بھی سنایا گیا۔ تحریک پاکستان کے کارکنوں کی خدمات کے اعتراف میں انہیں پھولوں کے ہار پہنائے گئے۔ دورانِ پروگرام معروف گلوکار عدیل برکی کے ملی نغمات پر مشتمل نئی سی ڈی”میراپاکستان“کی رونمائی مجید نظامی نے کی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے عدیل برکی نے کہا کہ مجید نظامی کے ہاتھوں اس سی ڈی کی رونمائی میرے لئے ایک بڑا اعزاز ہے۔ پروگرام کے دوران طارق محمود حسن نے مجید نظامی کو قائداعظمؒ کی تصویر والی پینٹنگ پیش کی۔ تقریب کا اختتام پاکستان‘ قائداعظمؒ‘ علامہ اقبالؒ‘ مادرملت محترمہ فاطمہ جناحؒ زندہ باد کے فلک شگاف نعروں سے ہوا۔ قبل ازیں ایوان کارکنان تحریک پاکستان لاہور کے احاطہ میں تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن‘ممتاز صحافی اور نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین مجید نظامی نے کارکنان تحریک پاکستان کے ہمراہ ”پرچم کشائی“ کی تقریب میں حصہ لیا۔ بعدازاں شرکاءنے مادرملتؒ پارک میں یادگار شہدائے تحریک پاکستان پر حاضری دی اور پھولوں کی چادر چڑھائی۔ اس موقع پر شہداءکی روح کے ایصال ثواب اور بلندی¿ درجات کیلئے مولانا شفیع جوش نے خصوصی دعا کی۔
مجید نظامی