افغان سفیر نے وفد کی ملا برادر سے خفیہ مذاکرات کی تردید کر دی

15 اگست 2012

اسلام آباد (آن لائن) پاکستان میں افغانستان کے سفیر عمر داو¿د زئی نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ افغان حکومت کے وفد نے پاکستان کی ایک جیل میں افغان طالبان تحریک کے سابق نائب سربراہ ملا عبدالغنی برادر کے ساتھ خفیہ مذاکرات کیے ہیں۔بی بی سی کے مطا بق قومی سلامتی کے لیے افغان صدر کے مشیر رنگین دادفر سپنتا نے کابل میں کہا تھا کہ افغان حکومت کے وفد نے دو ماہ پہلے ملا برادر سے ملاقات کی تھی اور اس کی پاکستان کے وزیر داخلہ رحمن ملک نے بھی تصدیق کی تھی لیکن افغان سفیر عمرداو¿د زئی نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ افغان وفد کی پاکستانی جیل میں ملا برادر سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ پاکستان نے افغان قیدیوں تک سفارتی رسائی دی ہے لیکن ان میں طالبان قیدی شامل نہیں۔ انہوں نے ملا برادر سمیت تمام طالبان اور دیگر افغان قیدیوں کی رہائی اور انہیں افغان حکومت کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔ علاوہ ازیں افغان وزارت خارجہ سمیت دیگر طالبان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان جانان موسیٰ زئی نے کابل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغان حکومت نے بارہا پاکستان سے طالبان قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے جو افغانستان میں امن عمل کی حمایت کرتے ہیں۔ پاکستان نے اب تک مثبت جواب نہیں دیا ہے۔ افغانستان میں اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کا کہنا ہے کہ پاکستان ملا برادر کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرے گا۔