اپوزیشن کی سیاست

15 اگست 2012

مکرمی! آئندہ انتخابات کے بعد چاروں صوبوں پر کیا پیپلز پارٹی کا راج ہو گا؟ اس بارے میں تب سوچا جا سکتا تھا جب پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت نے پاکستانی قوم کی فلاح و بہبود کے دریا بہا دیئے ہوں۔ مصائب اور مشکلات کی بجائے آرام اور سہولتیں فراہم کی ہوں۔ ملک معاشی اور معیشی طور پر مستحکم ہو گیا ہو۔ یہاں تو جو صورتحال ہے وہ بچہ بچہ جانتا ہے۔ بجلی نہ گیس، تیل نہ پانی، امن نہ سکون، روزگار نہ کاروبار، گویا موجودہ حکمرانوں نے قوم اور ملک کو دیا ہی کیا ہے اور یہاں چھوڑا ہی کیا ہے جس پر یہ حکومت ناز کرتی ہے، قوم کو بھوکا مار دیا ہے اور ملک کو کنگال کر دیا گیا ہے پھر صدر صاحب فرماتے ہیں آئندہ ہم کُلّی حکمران ہوں گے۔ واہ صاحب، صدر واہ، یہ تو وہ بات ہوئی کہ ”پیسہ نہ دھیلا، کر دی میلہ میلہ“ اگر آئندہ بھی (خدانخواستہ) پیپلز پارٹی ہی حکمران جماعت قرار پا گئی پھر اس ملک اور قوم کا خدا حافظ!
جہاں تک موجودہ اپوزیشن کی سیاست کا تعلق ہے، وہ حکومت کو کیسے گرائے گی اسے تو آپس میں سوکنوں والی لڑائی سے فرصت ملے تو تب ہے۔ وہ تو ایک دوسرے کے خلاف طعنے بازی کرکے اتنی دورنکل گئے ہیں کہ متحد ہو کر حکومت کے خلاف محاذ بنانا، آئندہ الیکشن میں انتخابی اتحاد قائم کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ اگر اپوزیشن یونہی علیحدہ علیحدہ اپنی اپنی ”ڈگڈگی“ بجاتی رہی پھر عام انتخابات کے بعد کامیابی کا جھنڈا یقینا پیپلز پارٹی کے ہاتھ ہو گا اور اپوزیشن ہاتھ ملتے رہ جائے گی۔(بشیر اصغر چوہدری)