بجلی تو جائے گی

15 اگست 2012

سحری ہو یا ہو افطاری ہم تو بجلی بجھائیں گے
کر لو جو کچھ کر سکتے ہو ہم بھی باز نہ آئیں گے
شاہراہوں پر ٹائر جلا کر کیوں ہم کو دھمکاتے ہو
سڑکوں پر لوگوں کو لا کر کیا ہم کو سمجھاتے ہو
کر لو لانگ مارچ جتنے اتنا ہی تڑپائیں گے
جتنے چاہو کرو مظاہرے اک دن باز تو آﺅ گے
شٹر ڈاﺅن اور ہڑتالیں کرکے ہمیں ڈراﺅ گے
جلسے کر لو دھرنے دے لو تم کو راس نہ آئیں گے
سنا تھا روزے دار کو روزہ صبر کا سبق سیکھاتا ہے
ایک ذرا سی بجلی نہ ہو صبر بھی ہاتھ سے جاتا ہے
یونہی لوڈشیڈنگ کرکے صبر تیرا آزمائیں گے
بھاری مینڈیٹ پاس ہمارے جو چاہے سرکار کرے
ایوانوں میں لوگ ہیں اپنے آر کرے یا پار کرے
لوڈشیڈنگ رہے گی جاری نیا قانون بنائیں گے
اپنے ہر ہر اتحادی کو ایسا رنگ چڑھایا ہے
جو چاہتے ہیں منواتے ہیں ایسا جال بچھایا ہے
جس میں اپنی بچت ہوگی وہ بل پاس کرائیں گے
موم کی ناک آئین ہمارا جب چاہا تب موڑ لیا
عدلیہ کیا قانون ہے کیا اس سے ڈرنا چھوڑ دیا
سارے حربے تم آزماﺅ کچھ بھی نہ کر پائیں گے
(چودھری عبدالخالق)