غزل

15 اگست 2012

چند لفظوں میں چھپے جام لیے پھرتے ہیں
زندگی ہم ترا پیغام لیے پھرتے ہیں
تیز دھوپوں میں جلے اپنا نشیمن نہ کہیں
اپنے جلوﺅں میں نئی شام لیے پھرتے ہیں
تیری دنیا کے تقاضے ہیں بہت ہی یا رب
ڈگمگاتا ہوا ایمان لیے پھرتے ہیں
زندگی ٹھٹھری ہوئی برف کا اک ڈھیر ہوئی
آپ ہاتھوں میں یونہی جام لیے پھرتے ہیں
(نجمہ پروین نجمی)