یہ عالم ۔۔۔ بے بسی کا ۔۔۔ دیکھا نہ جائے

15 اگست 2012

گزشتہ کئی ہفتوں سے وزیراعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف کا مستقبل قومی ذرائع ابلاغ بلکہ عالمی سطح پر زیر بحث ہے۔ این آر او کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر سوئس حکومت کو خط نہ لکھ کر یوسف رضا گیلانی توہین عدالت کے مرتکب ہوئے اور وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونے پڑے۔ سید یوسف رضا گیلانی کے جانشین کے سر پر اب وہی تلوار پھر سے لٹک رہی ہے۔ لیکن قانون قدرت کے مطابق حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔ کوئی بھی شخص اپنی کرشماتی شخصیت سے قوم کی تقدیر اور زمان و مکان کے جغرافیہ کو اپنی قوت کردار سے بدل کر ایک نئی تاریخ عبارت کر سکتا ہے۔ روحانی شخصیات سے قطع نظر کہ ان کو تائید الہی حاصل ہوتی ہے۔ دنیاوی اور سیاسی سطح پر ہر ملک کی تاریخ میں ایسی درجنوں مثالیں موجود ہیں جو تاریخ کے دھارے کو موڑ کر ایک عظیم قیادت کی روشن مثالیں ہیں اس کے برعکس بدقسمتی سے قوموں کے عروج و زوال کی داستانوں میں ایسے ادوار بھی آتے ہیں جب قیادت میں قحط کے باعث قوم ایک ایسی کشتی کی مانند بن جاتی ہے جس کا کوئی کھوِیا اسلامی جمہوریہ پاکستان اقوام عالم میں جس درخشاں صورت میں وجود میں آیا وہ شاعر مشرق حکیم الامت علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ کے تصور اور قائداعظم محمد علی جناحؒ کی بے مثال قیادت اور عظیم بشارت اور وژن کا مرہون منت ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ بعض وجوہات کی بنا پر مسلم لیگ کی قیادت بانی پاکستان کے فرمودات سے ہٹ کر ایمان‘ اتحاد اور تنظیم پر عملدرآمد نہ کرنے کے باعث قائداعظم کے خواب یعنی ایک جدید اسلامی جمہوری فلاحی ریاست کے قیام کو عملی جامہ نہ پہنا سکی جس کے نتیجہ میں مملکت آگے بڑھنے کی بجائے دو لخت ہو گئی، جس کے بعد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستانی قوم کو ایک نیا نعرہ دیا کہ عوام طاقت کا سرچشمہ ہیں، جمہوریت ہماری سیاست کا مرکز محور ہے اور اسلامک سوشلزم ہماری غربت دور کرنے کا علاج ہے۔ اس کیلئے روٹی کپڑا مکان کا جادو عوام کو جوق در جوق پیپلز پارٹی کے جھنڈے تلے یکجا کرنے اور یکے بعد دیگرے گزشتہ چالیس برس میں چار بار انتخابات جیتنے اور حکومت بنانے میں کامیاب رہا۔ اس دوران بار بار فوجی مداخلت ہوتی رہی لیکن 70ءکی دہائی اس کے بعد 80ء اور 90ءکی دہائی جس کے بعد 21ویں صدی کی پہلی دہائی میں بھٹو فیملی کے داماد اور شہید وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے شوہر نامدار پیپلز پارٹی کی 2008ءسے لیکر اب تک اپنے اتحادیوں سے ملکر حکومت چلا رہے ہیں۔ عوام کا پیپلز پارٹی کو گزشتہ 40 سال سے بار بار ووٹ دینا عوام کے اعتماد کی منہ بولتی حقیقت ہے اس کی وجہ بنیادی طور پر شہید ذوالفقار علی بھٹو شہید بے نظیر بھٹو اور اس خاندان کی یکے بعد دیگرے متواتر قربانیاں ہیں لیکن آج اس عظیم پارٹی کا وزیراعظم راجہ پرویز اشرف جس مقام پر کھڑا ہے اس کی عکاسی روزمرہ کے حالات قومی ترازو پر نہ تولنا بھی پاکستان کے عوم کے ساتھ نا انصافی ہو گی۔ انگریزی زبان اور اردو کے محاورات کے مطابق ایک کیک کا مزہ اور لذت اس کے کھانے سے ہی محسوس ہو سکتی ہے اور ایک درخت کو اس کے پھل سے ہی پہچانا جاتا ہے۔ گزشتہ ساڑھے چار سالوں کے دوران سید یوسف رضا گیلانی کی وزارت عظمیٰ اور گزشتہ ڈیڑھ دو ماہ سے راجہ پرویز اشرف کے بحیثیت وزیراعظم پیپلز پارٹی کا اگر لمحہ بھر کیلئے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بے نظیر بھٹو کی قیادتوں سے مقابلہ کرنے کی کوشش کی جائے تو شاید کوئی بھی ترازو ندامت سے زمین بوس ہو جائے گا۔ گزشتہ چند دنوں سے جب میں اخبارات میں وزیراعظم کی کابینہ میں صدر مملکت کے خصوصی اجلاسوں کی کارروائی پڑھتا ہوں کہ وزیراعظم کے مستقبل کے بارے میں اٹارنی جنرل‘ وزیر قانون‘ ممبران پارلیمنٹ و کابینہ کے ارکان بحث مباحثہ میں مصروف ہیں اور وزیراعظم نہایت خاموشی اور بے بسی کے عالم میں اپنی قسمت کا فیصلہ دوسرے کے حوالے کرتے ہوئے اپنی پریس کانفرنس میں گزشتہ روز اعلان فرماتے ہیں کہ میں تو پارٹی کا ادنیٰ سا کارکن ہوں مجھے چاہے پارٹی گوجر خان بھیج دے یا اسلام آباد میں کوئی ذمہ داری سونپ دے میں تعمیل حکم بجا لاﺅں گا۔ راقم جب ایسے بیانات پڑھتا ہے تو لامحالہ میرا ذہن فوراً ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو شہید کی طرف چلا جاتا ہے کہ سید یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کی جگہ آج ان دونوں میں سے کوئی ایک شخصیت وزیراعظم پاکستان ہوتی تو کیا موجودہ حکومت کو یہ دن دیکھنا پڑتا۔ وزیراعظم کی یہ بے بسی ایک عام پاکستانی شہری کیلئے نا قابل فہم ہے کہ ایک جمہوری حکومت میں ایک عظیم سیاسی جماعت کا وزیراعظم اس قدر مجبور و محکوم ہو سکتا ہے جس پر سابق صدر چودھری فضل الٰہی کو بھی شرمساری اور ہمدردی محسوس ہو۔

بے بسی ہائے تماشا

دنیائے اسلام کے حاکموں کے عمل نے ثا بت کیا ہے کہ وہ منفی سوچ جرات سے عاری ...