رمضان المبارک اور عید سعید!

15 اگست 2012

(1) ہر مسلمان جانتا ہے کہ رمضان فیوض و برکات کا مہینہ ہے۔ عبادات کا مہینہ ہے۔ تزکیہ نفس اور تصفیہ باطن کی دعوت دیتا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ تجدید عہد کامہینہ ہے۔ وہ عہد جو انسان اپنے آپ سے کرتا ہے، اپنے رب سے کرتا ہے، روز است بھی یہی عہد روحوں نے اپنے پروردگار سے کیا تھا۔ اسلام میں عبادت کا الگ تصور ہے جو دین مبین کو دیگر مذاہب سے منفرد اور ممتاز کرتا ہے۔ دیگر مذاہب میں عبادت بھی ہے لیکن اسلام میں عبادت ہی ہے۔ ہر وہ کام جو اللہ تعالیٰ کی رضا یا اس کے بندوں کی فلاح کے لئے کیا جائے، عین عبادت ہے۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد میں ایک نہ ختم ہونے والا رشتہ قائم کر دیا گیا ہے۔ ایک تارک الدنیا عبادت گزار کی طرح ایک ایسا شخص بھی اللہ تعالیٰ کو اتنا ہی عزیز ہے جو اپنی بیمار ماں کی تیمارداری کرتے ہوئے ساری رات جاگتا رہتا ہے، جو اپنی محنت کی کمائی کا کچھ حصہ غرباءاور مساکین میں بانٹ دیتا ہے یا اللہ کی راہ میں لڑتا ہوا شہید ہو جاتا ہے۔
قرآن کا نزول بھی اسی مہینے میں ہوا تھا۔ قرآن جو کتاب حکمت ہے جو زندہ معجزہ ہے، جس کے ہر لفظ میں ایک دریائے معانی پوشیدہ ہے، جس میں کوئی گرائمر کی غلطی نہیں ہے، کوئی Constructional Error نہیں ہے۔ فصاحت و بلاغت زانوئے تلمند تہہ کرتی نظر آتی ہےں۔ یہ دنیا کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے۔ اس کا ہر لفظ گنا گیا ہے۔ SURA36236، WORDS77934 اور LETTERS323621 پر مشتمل اس کتاب کے بارے میں عکاز کے میلے میں تمام عرب شعراءنے بیک زبان کہا تھا کہ یہ کلام بشر نہیں ہے، بشر بھی ایسا جو بظاہر امی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک نامور یہودی مورخ فلپ کے حٹی کہتا ہے کہ کروڑوں لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ
QURAN is embodtment of all wisdom, science and theology.
(اگر الفاظ کی گنتی میں کوئی کمی بیشی ہو تو میں معذرت خواہ ہوں۔) چاند کو 2 ٹکڑے کرنا اپنی جگہ لیکن قرآن ایک ایسا معجزہ ہے جو 1400 سال سے اپنا اعجاز دکھا رہا ہے۔ اس کا ہر لفظ دل کے نہاں خانوں میں اترتا ہوا محسوس ہوتا ہے، نہ سمجھتے ہوئے بھی اس کی قرا¿ت روح کو بالیدگی بخشتی ہے۔ دنیا کی کوئی ایسی کتاب نہیں، جس میں ردوبدل نہ ہوا ہو۔ قرآن میں زیر زبر تک بدلی نہیں جا سکیں کیونکہ اس کا وعدہ خود پروردگار نے فرمایا ہے۔
(2) اس کی ایک رات ہزار راتوں پر بھاری ہے۔ در رحمت ہر وقت کھلا رہتا ہے۔ اس ایک شب کی عبادت ہزارراتوں کی عبادات کے برابرہے۔ یہ ایسا ماہ ہے جس کا انتظار نیک لوگوں کو سارا سال رہتا ہے۔ روزہ دار ذہنی طور پر اپنے آپ کو تیار کرتے ہیں۔ امتحان جو دینا ہوتا ہے۔ روزہ خور البتہ ایک عجیب قسم کے ذہنی خلفشار میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور روزہ نہ رکھنے کے طرح طرح کے بہانے گھڑتے ہیں، عجیب و غریب جواز پیش کرتے ہیں۔غالب کے اس شعر کو بطور ڈھال استعمال کرتے ہیں کہ
روزہ میرا ایمان ہے غالب لیکن
خسخانہ و برفاب کہاں سے لاﺅں
ہو سکتا ہے کہ یہ شاعرانہ تعلی ہو۔ مرزا کسی عارضے یا ضعف کی وجہ سے روزہ نہ رکھ پاتے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بہادر شاہ ظفر نے پوچھاکہ مرزا اس بار کتنے روزے رکھے ہیں؟ تو جواباً عرض کیا کہ پیرومرشد ایک نہیں رکھا۔ غالب نے شاہ کی عقل سلیم پر چھوڑ دیا کہ اس ذومعنی فقرے سے جو چاہے مطلب نکال لے۔ ویسے شاہ کی عقل پر حیرت ہوتی ہے، جس کو یہ پتہ نہ ہو کہ اس کا استاد نمبر2 روزے رکھ رہا ہے یا نہیں۔ اس کے متعلق کوئی صائب رائے قائم نہیں کی جاسکتی جو شخص مرزا کو آم کی ایک ٹوکری بھجوانے میں لیت و لعل سے کام لیتا ہو، وہ خسخانہ و برفاب کا بندوبست کہاں سے کرتا؟
(3) اب بات روزہ داری اور روزہ خوری کی چل نکلی ہے تو کچھ واقعات پردہ ذہن پر ابھرتے ہیں۔ 1973ءمیں میں اے سی کھاریاں تھا، چودھری فضل الٰہی جب صدر بنا تو اس کی کھاریاں سے ایم این اے کی سیٹ خالی ہوگئی۔ ضمنی الیکشن میں حکومتی امیدوار حکیم سردار تھا اور حزب مخالف نے صوبیدار غلام رسول کو کھڑا کیا۔ ایجنسیوں نے رپورٹ دی کہ بروقت قدم نہ اٹھایا گیا تو حکومت ایک نفسیاتی طور پر اہم سیٹ ہار سکتی ہے۔ اس پر بھٹو مرحوم بڑے جزبز ہوئے اور گورنر کھر کو حکم دیا کہ سیٹ ہاتھ سے نہیں نکلنی چاہئے۔ دوسری طرف چودھری ظہور الٰہی تھا۔ مولانا کوثر نیازی کو حکم ہواکہ وہ روز کسی نہ کسی گاﺅں میں جا کر پبلک جلسے سے خطاب کرے چونکہ دیگر علماءبھٹو مخالف تھے، اس لئے بڑی سوچ بچار کے بعد بطور ایک مولوی کے کوثر نیازی کو پارٹی میں بھرتی کیا گیا تھا۔ رمضان کا مہینہ تھا۔ مولانا صاحب ہر روز شام 4 بجے سینا جہاز سے پنڈی سے کھاریاں تشریف لاتے۔ کھاریاں چھاﺅنی کے ایئر سٹرپ پر میں اور ممتاز کاہلوں ان کا سواگت کرتے۔ مولانا صاحب کسی وجہ سے روزہ نہ رکھ پاتے، اس لئے ان کا حکم تھا کہ ان کی آمد پر سادہ خوراک کا بندوبست کیا جائے۔ پرہیزی کھانے کی تفصیل میں خود ہی بتا دیتے۔ مرغ مسلم، بریانی، مٹن چاپس، تیتر بٹیر، اگر میٹھا ہو تو اور ہر قسم کے پھل۔ کھاریاں ریسٹ ہاﺅس کے باورچی جو کھانا تیار کرتے، ہمیں نفرت کی نگاہ سے دیکھتے۔ ایک دن میں نے ممتاز کاہلوں سے پوچھا کہ یہ شخص ساڑھے 3 بجے پنڈی سے چلتا ہے، گھر سے کھانا کھا کر کیوں نہیں آتا؟ وہ منہ پر انگلی رکھتے ہوئے بولا چپ رہو، دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں، تم تو زیادہ سے زیادہ یہاں سے تبدیل کر دیئے جاﺅ گے، میری وزارت جاتی رہے گی۔ مولانا صاحب جلسے میں رمضان کی فضیلت اور روزہ رکھنے کی اہمیت پر ایک جامع لیکچر دیتے۔ اپنی سوکھی زبان بار بار لبوں پر پھیرتے اور لوگ عش عش کر اٹھتے کہ یہ شخص روزہ رکھ کر بھی کس روانی سے بول رہا ہے۔ شام کو مولانا صاحب کے اعزاز میں افطار پارٹی ہوتی اور جب تک طویل آیات کا ورد نہ کر لیتے، کھجور نہ اٹھاتے۔
(4) متنازعہ عید غالباً ایوب خان کے زمانے میں شروع ہوئی۔ عید کے دن جمعہ تھا‘ ایوب خان کو کسی نے بتایا کہ جمعہ کی عید سربراہ مملکت پر بھاری ہوتی ہے۔ وہ اس قدر گھبرایاکہ جمعہ کی بجائے ہفتہ کو عید کروا ڈالی۔ علمائے کرام کا احتجاج صدابا صحرا ثابت ہوا۔ یہی بات مولانا کوثر نیازی نے ذوالفقار علی بھٹو کو بتائی اور جمعہ کی جگہ ہفتے کو عید کرانے کا مشورہ دیا۔ بھٹو مسکرایا کہ مولانا تم درست کہتے ہو‘ سربراہ مملکت چودھری فضل الٰہی بہت بوڑھا ہو چکا ہے، سمجھتے کیوں نہیں! میں سربراہ مملکت نہیں، سربراہ حکومت ہوں۔