امریکی مداخلت کے خاتمہ تک دہشتگردی پر قابو نہیں پایا جا سکتا: دفاعی ماہرین

15 اگست 2012

لاہور (خبر نگار) دفاعی مبصرین بریگیڈئر (ر) اسلم گھمن اور بریگیڈئر (ر) یوسف کا کہنا ہے کہ امریکہ کے مخلص ہوئے بغیر پاکستان سے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں ۔ امریکہ‘ بھارت اور اسرائیل پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ دہشت گرد کون ہے اور اس تعریف پر کون پورا اترتا ہے یہ بھی قابل بحث ہے۔ وہ آرمی چیف کے بیان ”انتہا پسندوں کو ختم نہ کیا تو ملک دہشت گردی کی طرف بڑھے گا“ پر تبصرہ کر رہے تھے۔ بریگیڈئر ر اسلم گھمن نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ امریکہ کی تھی جو اس نے ہماری بنا دی ہے۔ اس جنگ میں ہماری معیشت تباہ ہو چکی ہے۔ ہر محب وطن دہشت گردی کا خاتمہ چاہتا ہے۔ مگر امریکہ بھارت اور اسرائیل ایک طرف پاکستان میں دہشت گردوں کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ امریکی مداخلت کے خاتمے کے بغیر دہشت گردی پر قابو نہیں پایا جا سکے گا۔ امریکہ پاکستان میں استحکام نہیں چاہتا۔ بریگیڈئر ر یوسف نے کہا کہ کیا صرف نماز پڑھنے والا‘ داڑھی رکھنے والا‘ شراب سے روکنے اور نہ پینے والا دہشت گرد ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہب پر عمل پیرا ہونے والے دہشت گرد نہیں ہیں۔ ہمیں مغرب کی زبان نہیں بولنا چاہئے۔ قومی اسمبلی کے سابق سپیکر پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سید فخر امام نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کی کوئی قومیت نہیں ہوتی۔ ملک، اداروں، عوام اور املاک کو جو نقصان پہنچائے اسے برداشت نہیں کرنا چاہئے اور انہیں معافی نہیں دینی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ انتہا پسندی کی تشریح بیحد نازک ہے۔ خودکش حملوں اور بم دھماکوں کی ابتدا 1979ءمیں افغانستان پر روس کے حملے کے بعد ہوئی۔ دنیا بھر سے روس کے خلاف لڑنے کیلئے لوگ پاکستان پہنچے اور انہیں تربیت دی گئی۔ پاکستان کے اندر فاٹا کے حوالے سے امریکہ، برطانیہ کی پارلیمنٹ میں بات کی جاتی ہے کہ اس علاقے پر پاکستان کی رٹ نہیں ہے ہمیں بھی اپنی پارلیمنٹ میں اس بارے بات کرنی ہو گی اور ہماری پارلیمان کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ قومی مفاد کیا ہے۔